”!کسی کے دماغ میں اپنا پیار کیسے ڈالیں حضرت علی رضی اللہ کا فرمان سن لیجئے“

آج کی اس تحریر میں ہم گفتگو کریں گے کہ آقائے دو جہا ں حضرت محمد ﷺ کے داماد اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے شیر حضرت علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے ایک انتہائی خوبصورت عمل کے بارے میں جو کہ آپ نے کسی کے دل میں محبت ڈالنے یا کسی کے دل میں اور دماغ میں اپنی من منشاء کی کسی اچھی چیز کو ڈالنے کے لئے عطا فرمایا اپنے ایک ماننے والے کو اور اس عمل کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ آنے والے دور میں اگر کوئی شخص کبھی کوئی اچھا عمل کرنے کے لئے کسی کے ذہن میں کوئی بات ڈالنا چاہے تو اس تک یہ بات پہنچ جائے آپ کو اللہ تبارک و تعالی کی ذات نے بے بہا علم عطا فرمایا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں علم کا ایک شہر ہو اور علی اس کا ایک دروازہ ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ اتنی بیش بہا رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل کرنے والے اتنے عالم برگزیدہ ایک ایسا عالم جس عالم کے اندر آپ کو تمام تر اشیاء کا علم موجود تھا اس عرش معلی کے نیچے موجود جتنی چیزیں موجود ہیں ان کا علم آپ کے پاس موجود تھا اللہ تبارک وتعالیٰ کے پیارےر سول ﷺ نے آپ کو علم کے شہر کا دروازہ کہا اور آپ دنیا میں کبھی کوئی ایسا سوال جو کہ آپ سے پوچھا گیا ہمیشہ اس کا جواب دیا۔اللہ پاک کی ذات نے اتنا علم عطا فرمایا ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ آپ کی بارگاہ میں بہت سے لوگ اپنے اپنے سوالات لے کر آیا کرتے تھے آپ ان کے سوالات کو سنتے ان سوالات کا تجزیہ کرتے اور پھر اس کے بعد ان کے جوابات دیا کرتے تھے اور بتاتے کہ کس طریقے سے انسان اپنی زندگی کو اپنے نظریہ حیات کو اور اپنی لیونگ سٹینڈرڈ کو بہتر بنا سکتا ہے اسی اثناء میں ایک انتہائی دلچسپ اور خوبصورت واقعہ ہے جو کہ آپ کی ذات سے متعلقہ ہے وہ واقعہ یہاں تحریر کیا جارہا ہے یقینا آپ اس واقعہ سے بہت علم حاصل کریں گے۔

ایک شخص آپ رضی اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے امیر المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہما ! میں لوگوں کے ساتھ بڑا اچھا برتاؤ کرتا ہوں میں بڑے پیار سے بڑی محبت کے ساتھ بڑے انہماک سے لوگوں سے ملتا ہو اور میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ بھی مجھ سے محبت کریں مجھ سے پیار کریں اور میں کبھی کسی کے لئے برا نہیں سوچتا کبھی کسی کے لئے برا نہیں جانتا اور نہ چاہتا ہو نیت ہمیشہ میری اچھی ہی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ میرے بارے میں ویسا نہیں سوچتے جیسا میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں ،کبھی کوئی میری کسی اچھی چیز کا اعتراف نہیں کرتا ،ہمیشہ مجھے لعن طعن و تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کیا جائے جیسا میں لوگوں کے ساتھ کرتا ہوں۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پہلے تو تم توقعات کو چھوڑو اور دوسرا کیا میں تمہیں کوئی ایسا عمل نہ بتا دوں جس کے ذریعے تم اپنی مرضی کی چیز کسی کے دل میں ڈاخل کر سکو ،کسی کے دماغ میں داخل کر سکو ،تم دماغ کے ذریعے لوگوں کے ساتھ انٹرایکٹ کر سکو اس شخص نے کہا اے امام عالی مقام! اس سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔اگر آپ مجھے ایسا طریقہ بتا دیں کہ میں اپنی من مرضی کی چیزیں اپنی من منشاء کی چیزیں ان لوگوں کے دماغ میں ڈال دوں تو میری تو زندگی آسان ہو جائےگی میرے سے میرے دوست روٹھیں گے نہیں مجھ سے دور نہیں جائیں گے .

اور میں ان لوگوں کے ساتھ اتنی ہی محبت اور عاشقی کے ساتھ اس جذبے کے ساتھ پیش آسکتا ہوں جو میں چاہتا ہوں ،جب یہ بات اس شخص نے کی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ سب سے پہلی یہ چیز یاد رکھنا کہ زندگی میں ایک چیز جو سب سے زیادہ دکھ دیتی ہے وہ توقعات ہیں،انسان دوسرے انسان سے اس قدر توقعات وابستہ کر لیتا ہے کہ جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو اس کو بہت تکلیف ہوتی ہے ،اسے یہ لگتا ہے کہ شاید اس کی زندگی اس طریقے سے گزر ہی نہیں رہی جس طریقے سے وہ گزارنا چاہتا ہے انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ پیار و محبت سکھایا گیا ہے لیکن ایک چیز کا انسان کو اندازہ ہمیشہ ہونا چاہئے اور وہ یہ کہ کبھی بھی کسی سے اتنی زیادہ اُمید وابستہ نہ کرے اتنی زیادہ توقعات نہ رکھے کہ وقت پڑنے پر اسے مشکلات کا سامنا ہو ،کبھی آپ کسی شخص سے اتنی زیادہ امیدیں وابستہ نہ کر لیں کہ خوشیاں اس شخص پر منحصر ہوجائیں ،خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ منسلک کریں منحصر نہ کریں ،آپ کا انحصار نہیں ہونا چاہئے ،جب اس شخص نے اصرار کیا کہ مجھے وہ عمل بتلا دیجئے جس عمل کے ذریعے میں اپنے دوست احباب کے دل میں اپنے لئے پیار اور محبت پیدا کر سکتا ہوں تو امام عالی مقام رضی اللہ نے فرمایا: دیکھو اس کا طریقہ کار بہت آسان ہے زیادہ مشکل نہیں ہے پوچھا کیسے؟ فرمایا کہ : اس میں دو چیزیں بہت اہم ہیں جن کا تمہیں خیال رکھنا ہے۔

پہلی چیز یہ کہ تم نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے بتائے ہوئے راستوں پر عمل کرکے پانچ وقت کی نماز پڑھنی ہے برائی سے برے کاموں سے اور گھٹیا محافل سے دور رہنا ہے اور دوسری اہم چیز یہ ہے کہ جب تم صبح فجر کی نماز کے وقت اُٹھو ،جاگو تو فجر ادا کرنے کے فوراً بعد جب سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ زمین کو چمکا رہی ہوتی ہیں تو کسی ایسی جگہ پر جاکر کھڑےہو جاؤ جہاں پر تمہیں دنیا ومافیہا کے لوگ صبح کے وقت چلتے ہوئے نظر نہ آئیں،جہاں تم صرف قدرت کے ساتھ انٹرایکٹ کر سکو،اس وقت تمہارے دماغ کی شعائیں کس قدر زیادہ زیادہ مضبوط ہوتی ہیں کہ تم کائنات کی کسی بھی چیز کے ساتھ انٹر ایکٹ کر سکتے ہو۔اس وقت تم جو خیالات سوچتے ہو جو تمہارے دماغ کے اندر مثبت باتیں آتی ہیں ان کو تم جس شخص کے دماغ میں ڈالنا چاہتے ہو اس کا اپنے ذہن کے اندر تصور لے کر آؤ،اپنے ذہن میں وہ باتیں بھی لے کر آؤ جو تم اس کے دماغ میں ڈالنا چاہتے ہو،اب اپنے ذہن میں اس روشن مقام کا تعین بھی کر لو اور وہ باتیں بھی پلان کر لو جو تم نے اس سے ڈسکس کرنی ہیں جو دوسرے کے دماغ میں ڈالنا چاہتے ہو جب اس طرح سے تم کر لو گے اور پھر اللہ تبارک وتعالی کی ذات پر ڈورے چھوڑ دو گے کہ اب مالک اس کو چلائے گا تو یقین جانوں دنوں کے اندر اس بات کو نوٹ کرو گے اورا س بات کا تمہیں اندازہ ہو جائے گا کہ تم کتنی کامیاب زندگی گزار رہے ہو تم کتنی بہتر زندگی گزار رہے ہو تمہارے معاملات کتنے اچھے طریقے سے احسن طریقے سے چل رہے ہیں ،اب تمہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا جب یہ بات کہی گئی تو امام عالی مقام رضی اللہ نے جب یہ بات اس شخص سے کہی۔

اس شخص نے آپ کی بات پر آمین کیا اور وہاں سے چلا گیا جب کچھ عرصے کے بعد وہ شخص آپ سے دوبار ہ ملا دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کو بتایا کہ کس طریقے سے اس کی زندگی آسان ہوگئی ہے،کس طریقے سے اس کی زندگی بہتر اور مناسب ہوگئی ہے اور کیسے اس کی زندگی کے اندر ایک اتنی بڑی تبدیلی آگئی ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ سے وہ بہت زیادہ خوشی کا اظہار کر رہا ہے ،بہت خوشی محسوس کر رہا ہے تو یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا آپ کو اندازہ ہی تب ہو تا ہے جب آپ اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ اپنی لو لگالیتے ہیں ان کے ساتھ اپنی ڈور باندھ لیتے ہیں جب ان کے ساتھ آپ اپنے معاملات طے کر لیتے ہیں یقین جانیں کہ زندگی اتنی آسان ہوجاتی ہے اتنی بہتر اور احسن ہو جاتی ہے کہ انسان سوچ نہیں سکتا تو کوشش کیا کریں کہ اپنی زندگی کے اندر لوگوں سے کم سے کم توقع کیا کریں ،لوگوں سے کم سے کم توقعات رکھا کریں ،زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے جینا شروع کر دیں ،دیکھیں انسان اس دنیا میں آیا ہے سب نے چلے جانا ہے دنیا کا قیام بڑا مختصر ہے اور اس مختصر قیام کے اندر انسان نے اپنی کچھ چیزیں درست طریقے سے چلانی ہیں کچھ چیزیں انسان کی غلط چلتی ہیں لیکن آخر انسان نے جب یہاں سے چلے جانا ہے تو انسان کے ساتھ صرف دو چیزیں ہیں ۔انسان کے نیک اعمال جو انسان کے ساتھ جائیں گے اور دوسرا یہ کہ انسان کے ان نیک اعمال کی وجوہات کیا تھیں وہ انسان کے ساتھ جائیں گی۔ ظاہری طور پر ایک بندہ جب روز حشر لگا ایک بندہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو مالک کائنات نے فرشتوں سے کہا کہ فرشتو اس کے اعمال تولے جائیں۔

جب اس کے اعمال تولے گئے تو اعمال تو لنے کےبعد انہیں اس چیز کا پتا چلا کہ اس شخص کی جو برائیاں ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اور اس شخص کی نیکیاں بہت کم ہیں ،غور کیجئے! اس شخص کی برائیاں بہت زیادہ ہیں اور نیکیاں بہت کم ہیں،اس چیز کا انہیں اندازہ ہو گیا اس کا انہیں پتا چل گیا اب پھر دوبارہ انہوں نے کہا کہ اس شخص کی برائیاں زیادہ ہیں نیکیاں کم ہیں اس کا کیا جائے؟اس کو سائیڈ پر کھڑا کر دیا اتنے میں ایک اور شخص آیا وہ شخص جب آیا تو اس کا جب نامہ اعمال تولا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی برائیاں کم اور نیکیاں زیادہ ہیں ا ب ایک کی برائیاں زیادہ اور نیکیاں کم ہیں ایک کی نیکیاں زیادہ برائیاں کم ہیں یعنی کہ دو الگ الگ کیس آگئے ،اب ان دونوں کو خالق و مالکِ کائنات کی بارگاہ میں پیش کر دیا گیا ،اب اللہ پاک کی ذات نے کہا کہ ٹھیک ہے تمہارے سامنے نتیجہ آگیا ہے ،ایک کو جہنم لے جاؤ،ایک کو جنت لے جاؤ،اب وہ شخص جس کی نیکیاں زیادہ تھیں جب اسے جنت کی طرف لے جانے لگے تو کہنے لگا میں نے تو جنت میں جانا ہی تھا میری تو نیکیاں اتنی زیادہ ہیں کہ میں تو کہیں اور رہ نہیں سکتا تھا مجھے تو آپ نے الٹیمیٹلی بھیجنا ہی تھا تو میں نے ادھر ہی جانا تھا میں ادھر ہی جارہا ہوں جبکہ جس بندے کو یہ کہا گیا کہ تمہارے گناہ زیادہ ہیں نیکیاں کم ہیں اس کو جب جہنم کی طرف بھیجا گیا تو وہ مڑ مڑ کے پیچھے دیکھتا رہا خدائے بزرگ و برتر نے دونوں کو واپس بلا لیا دونوں آکے بارگاہ میں پیش ہوئے ۔

کہا گیا کہ تم جو گنہگار ہو تم بار بار پیچھے پلٹ کر کیوں دیکھ رہے تھے اب گنہگار کہنے لگا ،یا اللہ میں نے کسی سے سنا تھا کہ کبھی تجھے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے میں مڑ مڑ کر دیکھ رہا ہو ں کہ شاید یا اللہ تجھے رحم آجائے تو مجھے معاف کر دے،دوسرے سے کہا کہ تو اتنا مغرور ہو کے کیوں جارہا تھا کہنے لگا کہ میں نے ساری عمر آپ کی عبادت کی ہے تو مجھے تو جنت ملنی ہی تھی اللہ کی ذات نے کہا اس شخص کی ایک آنکھ نکالوں اور اس کے اعمال کے دوسرے سائیڈ والے پلڑے میں رکھ کر چیک کرو تو جب دیکھا گیا تو اس کی آنکھ کا وزن اس کے اعمال سے زیادہ تھا توا للہ پاک کی ذات نے ارشاد فرمایا اے میرے بندے کیا تو میری اس ایک نعمت کا بھی مجھے بدلہ دے سکتا ہے ،کہنے لگا یا اللہ پاک نہیں دے سکتا،فَبِاَیِّ آلآءِ رَبکمَا تُکذبان خالق و مالک کائنات کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

فرمایا کہ اب مجھے بتا کہ کیا تو اپنے اعمال کی وجہ سے جنت جانا چاہتا ہے یا تو میری رحمت کی وجہ سے جنت جانا چاہتا ہے تو اللہ کے اس بندے نے کہا کہ یا اللہ میں آپ کی رحمت کی وجہ سے جنت جانا چاہتا ہوں میرے اعمال بہت گندے ہیں اے مولا مجھے معاف کر دے ،تو پھر اللہ پاک کی ذات نے اس بندے کو اپنی رحمت سے جنت بھیجا اور جو گنہگار واپس پلٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں اس کو کہا کہ جا تو بھی جنت میں چلا جا۔لاتَقنَطُو من الرّحمۃِ اللہ ِ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا مایوسی کفر ہے مایوسی گناہ ہے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے ،مسائل انسان کی زندگی میں آگے ہیں اللہ کی ذات ہے حل کرنے والی بھی وہی ذات ہے ،مسائل بھی وہی دیتی ہے،سب کچھ وہی کرتی ہے ،تو ہر لمحے ڈرتے رہیں،معافی مانگیں،اللہ پاک کی ذات ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.