”اگر جانور میں یہ خامیاں ہیں تو قربانی نہیں ہو گی۔ جانور خریدنے سے پہلے یہ لازمی دیکھیں۔ قربانی کے جانور کےمسائل۔“

گائے، بیل وغیرہ میں دو سال مکمل ہونا شرط ہے اگر جانور کی عمر پوری ہے اور ایسے عیوب سے بھی پاک ہے

جو قربانی سے مانع ہوں، تو اس کی قربانی جائز ہے، چاہے سامنے کے دانت بڑے نہ ہوں۔ عید الاضحیٰ قربانی کے ایک ایسی عظیم واقعے کی یادگار ہے جس کی تاریخ عالم میں نظیر ملنا ہے مشکل ہے‘ جب ایک عظیم باپ ا للہ کے حکم کی تکمیل میں اپنے عظیم بیٹے کی قربانی پیش کرنے کے لیے بیت اللہ پہنچتا ہے۔جی ہاں یہ واقعہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ سے منسوب ہے

کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے اللہ کی راہ میں ذبح کررہے ہیں۔ تین دن لگاتار ایک ہی خواب دیکھنے کے بعد حضرت ابراہیم اپنے پسر اسماعیل کو لیے اللہ کے گھر کی جانب بڑھے اور مخصوص مقام پر انہیں لٹا کر ان کے ہاتھ پیرباندھے اپنی آنکھوں میں پٹی باندھی اور ارادہ کیا کہ چھری حضرت اسماعیل کے گلے پررواں کردیں۔ اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما۔

پس ہم نے ان کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ (اسمٰعیل) ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچے فرمایا اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں پس تم بھی غور کرلو کہ تمہارا کیا خیال ہے (اسمٰعیل نے بلا تردد) عرض کیا اے اباجان (پھردیر کیا ہے) جو کچھ آپ کو حکم ہوا کر ڈالئے (جہاں تک میرا تعلق ہے) آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے (اللہ کا) حکم مان لیا اور (ابراہیم نے) ان کو ماتھے کے بل لٹایا۔ اور ہم نے ان کو ندا دی کہ اے ابراہیم (کیا خوب) تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا۔

ہم نیکو کاروں کو یوں ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (بے شک باپ کا بیٹے کے ذبح کے لئے تیار ہوجانا) یہ ایک بڑی صریح آزمائش تھی (حضرت ابراہیم اس آزمائش میں پورا اترے) اور ہم نے ایک عظیم قربانی کو ان کا فدیہ (بنا) دیا۔ رب کریم نے اس سنت ابراہیمی کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ’’اور ہر امت کے لئے ہم نے مقرر فرمائی ایک قربانی تاکہ وہ ذکر کریں اﷲ تعالیٰ کے اسم پاک) ان بے زبان جانوروں پر ذبح کرتے وقت جو اﷲ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔
پھر ہر دور میں قربانی کا یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی قربانی کا رواج رہا۔ مگر ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ جانور ذبح کرنے کے بعد خون کعبہ معظمہ کی دیواروں سے لگا دیتے اور گوشت بتوں کے سامنے اکھٹا کردیتے تھے۔ بعد ازاں جب حضور نبی رحمت خاتم المرسلینﷺ کا تاج سجائے مبعوث ہوئے تو خالق کائنات نے قربانی کاحکم باقی رکھتے ہوئے فرمایا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.