لوگوں کی نظروں میں عزت چاہتے ہو تو یہ چھوٹا سا عمل کر لو

دس ایسی باتیں جو پوری زندگی کا نچوڑ ہیں،اگر ان پر عمل کیا جائے تو انشاء اللہ زندگی بدل جائے گی۔1: شرم کی کشش حسن سے زیادہ ہوتی ہے۔2:رونا دل کو روشن کرتا ہے۔3:ماں ،باپ کی خدمت دونوں جہاں میں عزت ہے۔4: اولاد کے لئے جو چیز گھر لاؤ، پہلے بیٹی کو،پھر بیٹے کو دو۔ 5: دنیا میں سب سے خطرناک غصہ جوانی کا ہے۔ 6: کسی کا دل نہ دُکھاؤ،کیونکہ تم بھی دل رکھتے ہو۔7: گفتگو چاندنی ہے ،اور خاموشی سونا۔8:کسی سے ملتے وقت مسکرا دینا صدقہ ہے۔9: گناہ سے بچنا سب سے بڑی نیکی ہے۔ 10: ہمیشہ سچ بولو،تا کہ قسم کھانے کی ضرورت نہ پڑے۔انسان کی قلبی و ذہنی پاکیزگی کے ذریعہ ہی انسان کے اندر مثبت تبدیلی ممکن ہے لیکن عام طور پر ظاہری شخصیت کو

بہتر بنانے پر توجہ مبذول کی جانے لگی ہے جو کہ انسان کے منفی رجحانات اور اس کے اندر تیزی سے بڑھتی جا رہی غیر واضح سونچ اسے ناکام بنارہی ہے۔

مثبت فکر کے حامل نوجوان ہی معاشرتی تبدیلی کے نقیب ثابت ہو سکتے ہیں اور مثبت فکر کی تعلیم مذہب اسلام نے دی ہے۔ نوجوانوں میں فکر کا ٹکراؤ ان کی ذہنی نشوونما میں رکاوٹ بننے لگا ہے جسے پاک کرتے ہوئے انہیں دینی و دنیاوی اعتبار سے کامیاب بنانا ناگزیر ہے۔ انسان جسم قلب اور دماغ سے مکمل ہوتا ہے اور جب تک پاکیزہ قلب دماغ پر کنٹرول کا متحمل نہیں ہوتاانسان کی جسمانی شخصیت و اخلاقیات میں نکھار پیدا ہونا ممکن نہیں ہے۔ شخصیت سازی دراصل انسان کے قلب کو پاکیزہ بنانے اور اسے رجوع الی اللہ کرنے کا نام ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے انسان کو زمین پر اپنا خلف بنایا ہے تو انسان ان پیمانوں پر پورا اترنے کے لئے اس کے احکامات کو ماننے کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت کو اس طرح تیار کرے کہ اس سے نہ صرف دنیا خوش ہو بلکہ اللہ بھی راضی ہو جائے۔انسان کے ساتھ برائی اور اچھائی دونوں ہیں لیکن جب برائی اس پر غالب آجاتی ہے تو وہ ظاہری اعتبار سے کتنا ہی جاذب نظر کیوں نہ ہوجائے لیکن اس کے خیالات منفی فکر اور دیگر لغویات سے پاک نہیں ہو سکتے۔

اسی لئے انسان کے نظریاتی اصولوں کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے اور یہ اسی وقت تبدیل ہو سکتے ہیں جب اس کے قلب میں پاکی ہو۔انسان کو منفی فکر سے نہ صرف نکالا جائے بلکہ اس میں مثبت فکر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کامیاب زندگی گذارنے کے قابل بنایا جا سکے۔ اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.