گھر میں میاں بیوی کا جھگڑا ختم نہیں ہوتا تو فکر نہ کریں، یہ چھوٹا سا عمل کریں ، میاں ہو یا بیوی ساری زندگی پائوں دھو دھو کر پیے گی

پڑھا لکھا ہونے کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب انسان کسی مشکل میں پھنستا ہے سارا دن تھکا ہارا خاوند آیا ہے اس کو ٹیکل کیسے کرنا ہے ڈیل کیسے کرنا ہے اور اگر دونوں ہی پڑھے لکھے ہوں تو پھر تو مسئلہ بن گیا خالد بن کی طبیعت کچھ سخت تھی بنت زبیر کی شادی ہو گئی ان کی تربیت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی تھی آپ کو علم ہے جو آپ کو نہیں بول کر بتائیں گے

جب بھی غصہ آتا ہے غصہ ہوتا ہے سالے کا اور نکلتا ہے بیوی پر جب بھی غصہ آئے گا سسرال پر نکلے گا پتہ ہے انہوں نے کچھ کہنا نہیں ہے خالد بن یزید نے غصہ کیا رملہ بنت زبیر خاموش رہیں ان کو اور غصہ آیا کہتی ہیں اس لئے خاموش ہو کہ میں غلط کہہ رہا ہو یا اس لئے خاموش ہو کہ میری شکایت کرو گی انہوں نے دو باتیں سن کے دو جواب دیئے

بلکہ تین جواب دیئے پہلا جواب مسکرا کر دکھا دیا تا کہ وہ ٹھنڈے ہوجائیں دوسرا جواب نہ میں اس لئے خاموش ہوں کہ آپ کچھ غلط بول رہے ہیں نہ اس لئے خاموش ہوں کہ آپ کی شکایت کروں میں تو اس لئے خاموش ہوں

کہ ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے جو پھولوں کی ذمہ داری ہوتی ہے پھول گھر میں خوشبو پھیلاتے ہیں ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں مردوں کی باتوں میں شامل ہونا تو ہماری ذمہ داری ہی نہیں ہے آج لڑائی کیوں ہوتی ہے ؟ لو تم ذرا زبان کھول کر تو دکھاؤ میرے بھائی کے بارے میں میں ابھی کال کرتی ہو ں پتہ چل جائے گا کہ تم بولے کیسے ہو اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی جواز تلاش کیا جارہا ہے مردوں کو بھی اللہ کا خوف کرنا چاہئے

ایسے ہی کسی کے بارے میں زبان درازی نہیں کرنی چاہئے معاملات کو گھر میں حل کرنا چاہئے کسی کا کیا دخل ہے کہ اس نے ایسے کیا اس نے ایسے کیا آپ یہ کہو کہ آپ کیا کررہے ہو لیکن بصیرت کا جواب بھی وہی عورت دے سکتی ہے جس نے کچھ علم پڑھا ہو گا کوئی اللہ کا خوف ہو گا بعض اوقات اسی بصیرت کی وجہ سے ہی جب بصیرت نہیں ہوتی گھر ٹوٹ جاتے ہیں

اتفاق سے ایک شخص نے کسی عالم سے مسئلہ سنا کہ کسی مسلمان کے دل میں خوشی پیدا کرنا بہت بڑا صدقہ ہے اس نے کہا کہ آج میں نے سب سے پہلے صدقہ بیوی پر کرنا ہے اور سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ میرا خاوند تو میری تعریف ہی نہیں کرتا اس نے یہ زحمت کی ہی نہیں کہ کبھی یہ ہی کہہ دے کہ آپ بہت اچھی ہیں

آپ بچوں کی بڑی اچھی تربیت کرتی ہیں ساری زندگی یہ لفظ سننے کے لئے وہ انتظار کرتی ہے لیکن اس کو یہ لفظ سننے کو نہیں ملتا ۔ یہ سن کر ایک بندہ گھرگیا اور جا کر بیوی سے کہتا ہے کہ کھانے کے بعد باہر نکلے چاند کی روشنی تھی اس نے صرف خوش کرنے کے لئے کہا چاند کو دیکھ رہی ہو کہا ہاں دیکھ رہی ہو اور کیا ہی خوبصورت چمک رہا ہے اس نے کیا کہا تمہیں اللہ نے چاند سے بھی زیادہ اچھا بنایا ہے

تو کہتی ہے میں نہیں آپ کو اللہ نے اچھا بنایا ہے اللہ تجھے جزائے خیر دے اس نے اس پر صدقہ کیا اس نے اس پر صدقہ کر دیا۔ دوسرے شخص نے جب قصہ سنا تو اپنی بیوی کو لے کر وہ بھی نکلا اپنی بیوی کو کہتا ہے چاند کو دیکھ رہی ہو چلتے چلتے رک گئی تم مجھے اندھا سمجھ رہے ہو یہ گھر کیسے چلے گا وہ بے چار ہ صدقہ کرنا چاہتا ہے

کہ میں تعریف کروں گا وہ رک کر کہتی ہے کہ تم مجھے اندھا سمجھ رہے ہو۔بصیرت و حکمت سے گھر بنتے ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.