دنیا وآخرت کی کا میابی کے لیے پچس سنہری اصول۔

اس دنیا میں کامیابی دراصل انسان کی اپنے دائرہ کار اور عمل میں رہتے ہوئے اُس کوشش اور کاوش کا نام ہے کہ جہاں اُسے زندگی گزارنا ایک میکانکی عمل نہیں لگتا بلکہ وُہ شعوری جدوجہد ہوتی ہے جس میں وُہ کسی قابل قدر مقصد کو اپنی ہمت اورجوش و جذبے کیساتھ اپنے عمل کے ذریعے حاصل کرے۔ اس عمل کے بعد اُسے عزت ملے، مقام ملے، شہرت ملے، پیسہ ملے یا سکون یہی اس کا وُہ انعام ہے جو قدرت اُسے ایک اہم مقصد کو حاصل کرنے اور اس غیر معمولی کام کو سرانجام دینے کی وجہ سے عطا کرتی ہے۔آج کی دنیا میں ہر کوئی دنیا میں اعلیٰ کامیابی کا خواہشمند ہے ۔مگر اللہ کریم کی آخری کتاب قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ حقیقی کامیابی تو درحقیقت آخرت میں کامیابی ہے۔ اِس اخروی کامیابی کی بنیاد دنیاوی زندگی میں ہی رکھنا ہوتی ہے

۔قرآن حکیم نے جہاں اخروی کامیابی کے اصولوں کی وضاحت کی ہے، وہیں دنیا میں کامیابی کے اصولوں کو بھی بیان کیا ہے تاکہ قیامت تک آنے والے انسان اس کتابِ مبین سے نہ صرف اُخروی زندگی میں کامیابی حاصل کر لیں بلکہ اس دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہو کر دنیا میں روش مثال بن سکیں۔ذیل میں قرآنِ مقدس میں بیان کردہ سات (7) ابدی اصولوں کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ جن میں سے صرف اگر ایک کو بھی مان کر اپنے تمام اعمال کی بنیاد بنا لیا جائے تو دنیاوی کامیابی کی ضمانت دی جا سکتی ہے اور آخرت میں اعلیٰ کامیابی اور اللہ کریم کی خوشی بطور بونس حاصل ہوگی۔ اگر ان تمام پر عمل کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت فرد کو کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی۔ ان اصولوں پر عمل کر کے دنیا میں ہو ہی نہیں سکتا کہ فرد کو سُنہری کامیابی نہ ملے۔

قران کریم میں پہلی ہی سورت میں جہاں فرد کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق کی دعا سکھلائی گئی ہے وُہیں اُسے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وُہ دعا کرے کہ اللہ کریم اُسے اُن لوگوں کے راستے پر چلا دے جن پر اُس نے انعام کیا (سورۃالفاتحہ ۔آیت 6) کیونکہ انعام یافتہ کے راستے پر چلنے سے ہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطاکی جاتی ہیں۔دنیا کے انعام یافتہ لوگوں جیسا بن جائیں یعنی ان جیسا جینا شروع کر دیں دنیا کی بھلائیاں ، خیریں اور فضل عطا کر دئے جائیں گے۔ آخرت میں کامیاب لوگوں جیسے کہ انبیاء، صدیقین، صُلحاء اور شہداء جیسا جینا شروع کر دیں آخرت میں ان کا ساتھ عطا کر دیا جائے گا۔ آپ جس میدان َعمل کے بھی ہیرو یا انعام یافتہ بننا چاہتے ہیں تو اُس میں پہلے سے موجود انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلنا شروع کر دیں ۔کامیابی دوڑتے ہوئے

آپ کے پاس پُہنچ جائے گی۔ کسان کو پہلے ہل چلانا ہے، فصل کاشت کرنا ہے ، اسے ہر طرح کی بُری چیزوں جیسے نقصان دینے والے دیگر جانداروں اور ناسازگار حالات سے بچاتا ہے۔مہینوں کی انتھک محنت کے بعد ہی اُسے بھرپور فصل یعنی آسانیاں عطا کی جاتی ہیں۔ طالب علم کو پہلے راتیں جاگ جاگ کر محنت کرنا ہوتی ہے تب جا کر اچھے نتیجے کی صورت آسانی ملتی ہے۔ یعنی دنیا میں کسی بھی آسانی کی قیمت پہلے محنت ، تنگی اور مشکل کی صورت کاٹنا ہوتی ہے تب جا کر کہیں آسانیاں نصیب ہوتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.