امام علی ؑ نے فر ما یا۔ رات کو جھاڑو دینے سے کیا ہو تا ہے؟

ایک عورت حضرت امام علی علیہ السلام کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی یا علی میرے تین بچے ہیں شوہر ہے سب کمانے جا تے ہیں لیکن پھر بھی گھر میں بر کت نہیں ہم مفلسی اور پریشانی کی دلدل میں گرفتار ہو چکے ہیں اور ہمارے کام ہوتے ہوتے رک جا تے ہیں بس یہ کہنا تھا تو امام علی علیہ السلام نے فر ما یا اے عورت جس گھر میں بد دعا ہو اس گھر میں بر کت نہیں ہو تی۔ اس عورت نے کہا ہمارے گھر کے لیے کون بد دعا کر تا ہوگا؟ تو آپ نے فر ما یا اے عورت بتاؤ تم گھر کی صفائی کس وقت کر تی ہو؟

اس عورت نے کہا یا علی صفائی کا کوئی وقت نہیں بس کبھی صبح کبھی شام کبھی رات بس یہ کہنا تھا تو امام علی ؑ نے فر ما یا اے عورت اپنے گھر کی صفائی صبح اُٹھنے کے بعد کیا کر و۔ رات کو نہیں کیونکہ جب سورج غائب ہو تا ہے تو جتنے بھی کیڑے مکوڑے زمین پر رہنے والے مخلوقات گھر وں کے کونے پکڑ کر آرام کر تے ہیں صبح کا انتظار کر تی ہیں اور اللہ کی عبادت کر تی ہیں جب کوئی انسان رات کے وقت جھاڑو دیتا ہے صفائی کر تا ہے تو وہ کونو ں میں رہنے والی مخلوقات بے

گھر ہو جا تی ہیں اور اندھیرے میں انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے اور ادھر اُدھر پریشانی کے عالم میں پھرتی رہتی ہیں اور اللہ اپنی ہر خلقت سے پیار کر تا ہے تو اسی بد دعا سے اس گھر میں رہنے والوں کا رزق تنگ خوشحالی پریشانی میں تبدیل ہوجا تی ہے اور گھر سے بر کت چلی جا تی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.