شوگر ساری زندگی واپس نہیں آئے گی

شوگر دنیامیں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔ اور ذیابیطس بی ٹو کا پچیس فیصد لوگوں کا شکا ر ہونے کا پتہ بھی نہیں چلتا۔گذشتہ سال یہ بات دعوٰی میں آیا تھا۔ کہ پونے چار کڑوڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکا رہیں ۔یعنی ہر پانچواں یا چوتھا پاکستانی اس موذی مرض کا شکا ر ہے۔ اس موذ ی مرض سے خود کو بچانے کے لیے ایک عام سی چیز جو کیچن میں موجود ہوتی ہے۔ اس سے مدد لے سکتے ہیں۔ اسکا نام ہے دھنیا ۔ دھنیا ہر گھر میں موجود ہوتا ہے۔ دھنیا صحت کے لیے متعد د فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ اور اس سے تیا ر شدہ پانی شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ طب کی تحقیق کے مطابق دھنیا کولیسٹرول کو کنٹر ول میں رکھنے ، بے وقت کھانے کی لت اورہاضمہ کو بہتر بنا تا ہے۔ اس کے ساتھ دھنیا کے بیج بلڈپریشر کو معمو ل میں لانے کے لیے مدد گار ہوتے ہیں۔

کھانوں کو ذائقہ اور مہک دینے سے ہٹ کر بھی ایک چیز جو آپ کو شوگر سے متعلق بہت سے طبی فوائد دے سکتی ہے۔ اس چیز کانام ہے کلونجی ہے۔ جو کہ ہر گھر میں لگ بھگ موجو د ہو تی ہے۔ اس میں موجو د وٹامن ، امائنو ایسڈ، پروٹین ، فیٹی ایسڈ ، آئرن ، پوٹاشیم اور کیلشیم اور متعد د اجزاء پائے جاتے ہیں۔ کلونجی اور اس کا تیل بھی بلڈپریشر اور شوگر کو کنٹرول کرنے میں بہترین ٹوٹکہ مانا جاتا ہے۔ سب سے پہلے کلونجی لینی ہے اورایک کپ بغیر دودھ چائے کا لینا ہے۔ اس چائے میں ڈھائی ملی لیٹر کلونجی کا تیل شامل کرلیں۔ اس مکسچر کو روزانہ استعمال کریں یا دن میں دو مرتبہ صبح اور رات کو سونے سے پہلے پینا عادت بنا لیں۔ اس سے آپ کو بے پناہ فائدہ حاصل ہوگا۔ ڈاکٹر ٹونی المائدہ جو کہ بمبئی گردے کے خاص ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنے وسیع تجربات اور لمبے عرصے تک تحمل سے کا م لیکر یہ نسخہ دریافت کیاہے۔ اس نسخے کے اجزاء میں گندم سوگرام ، جؤ سو گرام ، کلونجی سو گرام ان کو یکجان کر لیں۔ اب ان کو پانچ کپ پانی میں ڈال لیں۔ اسے دس منٹ تک ابالنا ہے۔ اور بعد چولہا بند کر دینا ہے۔ جب یہ سر د ہو جائے تو اسے چھان کر بیج الگ کرلیں۔ اسے جار ، بوتل میں محفوظ کر لیں۔
اس کو صبح نہار منہ ایک کپ پانی کا پی لیں۔ اسے سات دن تک جاری رکھیں۔ اگلے ہفتے یہی عمل دہرائیں۔ ایک دن چھوڑ کر ایک دن پئیں۔ دو ہفتوں کے بعد آپ محسو س کریں گے ۔ کہ آپ کی زندگی معمول پر آ گئی ہےاور آپ ہر چیز کھا سکتے ہیں۔ بلڈ پریشر یا شوگر کے مریض روزانہ ایک یا دو کیلے کے کھائیں۔ اس سے مرض قابو میں رہتا ہے۔ کیونکہ یہ پوٹاشیم اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ اور ہمارے جسم میں دس فیصد سے زائد سوڈیم کے اثر کم کرسکتا ہے۔ اور گردوں کی حفاظت میں کردار ادا کرتا ہے۔ شہد ایک ایسی غذا ہے۔ جو قدرتی طور پر میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ کئی علاج کی بیماریوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور شہد میں موجود کاربوہائیدریٹ دل کی تڑپ سے خون کے پریشر کو کم کرتا ہے۔ دوہفتوں تک رات کو سونے سے پہلے نیم گرم دودھ میں دو چمچ شہد سے بلڈ پریشر کی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد میتھی دانہ کا آتا ہے۔ میتھی سردیوں کی وہ سبزی ہے جو وٹامن اے ، بی ،سی ، آئرن اور فاسفورس اور کیلشیم بہت سی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں اس کو کھانے میں استعمال کیا جا تا ہے۔ اس کےپتے نہ صرف بیج بھی علاج کےلیے استعما ل کیے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ میتھی کے دانوں میں بڑی مقدار میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مد د دیتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.