”سورج گرہن کے وقت یہ دعا ضرور پڑھ لینا۔ جو زندگی بھر نہیں مل سکا وہ بھی مل جا ئے گا۔“

شریعت کی جانب سے حاملہ عورتوں کے لیے کوئی خاص ہدایت ہماری نظر سے نہیں گذری۔ سب مسلمانوں کو حکم یہ ہے

کہ گرہن لگنے کو اللہ تعالی کی قدرت کی نشانی سمجھیں اورحق تعالی کی عظمت شان کا دل کی گہرائیوں سے اقرار اوراعتراف کرتے ہوئے توبہ واستغفار میں مشغول رہیں صحیح بخاری میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے سورج گرہن کے وقت نماز کسوف ادا کرنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

میں ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : “ایک بار سورج گرہن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے کہیں قیامت قائم نہ ہو گئی ہو! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور خوب لمبے قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھائی، میں نے اس سے پہلے آپ کو کبھی اتنی لمبی نماز پڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا،

اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (اللہ تعالی کی طرف سے ارسال کردہ یہ نشانیاں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے رونما نہیں ہوتیں، البتہ اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، چنانچہ اگر تمہیں اس قسم کی کوئی نشانی نظر آئے تو فوری طور پر ذکر الہی، دعا اور استغفار میں مگن ہو جاؤ نماز کسوف کے اس طریقے کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری: (1046) اور مسلم: (2129) میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے

کہ ’’ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد چلے گئے اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور پھر لمبی قرأت فرمائی، پھر آپ نے تکبیر کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ۔۔۔” کہا اور کھڑے رہے سجدہ نہیں کیا ، پھر آپ نے دوبارہ لمبی قرأت فرمائی لیکن یہ پہلی قرأت سے قدرے کم تھی،

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ تکبیر کہتے ہوئے لمبا رکوع کیا تاہم یہ پہلے رکوع سے کم لمبا تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ” کہا ۔پھر آپ ﷺ سجدے میں چلے گئے اور پھر دوسری رکعت بھی بعینہٖ اسی انداز سے پڑھائی۔اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے [دو رکعت نماز میں] چار رکوع اور چار سجدے فرمائے “نماز کسوف کی باجماعت ادائیگی امام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں جن میں بہت لمبی قرأت ہو اور ہر رکعت میں رکوع سجدے بھی خوب دیر تک ہوں،
دو رکعتیں پڑھ کر قبلہ رُو بیٹھے رہیں اور سورج صاف ہونے تک اللہ تعالیٰ سے عافیت اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے رہیں۔علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سورج گرہن قدرت کی نشانیوں میں سے ایک ہے،حضور صلی اللہ و علیہ وسلم سورج گرہن کےدوران نوافل ادا کرتے تھے۔ اس ضمن میں کراچی کی مختلف مساجد اور عوامی مقامات پر نماز کسوف کے اجتماعات کا انعقاد کیا گیا ہے۔سورج گرہن کے نقصانات سورج گرہن کا سب خطرہ آنکھوں کو ہوتا ہے

کیونکہ گرہن لگنے کے دوران سورج سےانفراریڈ، الٹراوائیلٹ نامی سرخ شعاعیں نکلتی ہیں جو انسانی آنکھ کو بہت زیادہ متاثر کرتی اور اس سے قرنیہ ہمیشہ کے لیے متاثر ہوتا ہے۔سورج گرہن کے دوران شعاعیں آپ کے قرنیہ اور ریٹنا کو جلا سکتی یا بھاپ پیدا کرسکتی ہیں جس سے انکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.