”سیدھا ہاتھ سر پر رکھ کر صرف 7 بار پڑھیں“

آج کا یہ عمل دنیا میں عزت کا مقام پانے کےلیے یہ عمل بہت مجرب اور فوراً اپنی تاثیر دکھانے والا ہے۔

کسی صفلی جادو اور گندے علم سے گھر کا سکون برباد ہوجاتاہے۔ گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا ہے۔ بات بات میں آپس میں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ گھر کے باہر مزاج درست ہونا ، لیکن جیسے ہی گھر داخل ہوتا ہے۔ کہ مزاج بگڑ جاتا ہے۔ بلاوجہ غ صہ آتا ہے ۔ لڑنے کو طبیعت چاہتی ہے۔ گھرمیں بے رونقی اور بے برکتی رہتی ہے۔

گھر کے افراد جو کچھ کماتے ہیں۔ ان میں گزارا نہیں ہوتا۔ اور بے روز گا رہوتے جاتےہیں۔ جہاں کامیابی کےلیے کوشش کرتے ہیں۔ وہیں ناکا می ہوتی ہے۔ قرض کا بوجھ روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ عمل بہت مفید اور کامیاب ہے۔ اگر کسی کا دشمن کا خطرنا ک اور ہرقسم کے نقصان پہنچانے میں لگا رہتا ہو۔ اور اس کے دل کو نرم کرنے میں اور اپنے اوپر مہربان کرنےکےلیے آج کا یہ عمل انتہائی مجرب ہے۔

اس عمل کی برکت سے انشاءاللہ! دشمن دشمنی چھوڑ دے گا۔ اور مہربانی سے پیش آتا رہے گا۔ وہ مہربان ہوجائےگا۔ اور دوستی کا ہاتھ بڑھا ئےگا۔ جس شخص کا جو کام اٹک گیا ہے۔ اور مقصد میں کامیابی نظر نہ آتی ہو۔ اس کے لیے یہ عمل تیر بہدف نہایت پرتاثیر ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس وظیفہ کا پورا فائدہ ہو۔ تو اس پر ضرور عمل کریں ۔ ہمیں دشمن سے نجات کے وظائف کی ضرورت اکثر نوبت آتی رہتی ہے۔

جب جان ، مال ، اولاد اور عزت محفو ظ نہ رہے تو پھر منہ بند کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ شریر انسان بے لگا م ہوکر دوسروں کےلیے بھی نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ مگر پھر بھی میرا آپ کے لیے مشورہ ہے کہ درگز ر کی کوشش کرے ۔ اولیائے کرام کا بھی یہی طریقہ تھا۔ اور ہے۔ بعض ایسے معاملات جس میں فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو ۔ وہاں دشمن کا خاتمہ ضروری ہوتا ہے۔ ایک واقعہ آپ کے لیے ہے۔

اس میں حفاظت کا خاص عمل بھی ہے۔ او ر ایک نصیحت بھی ہے۔ کہ جو غلطی مجھ سے ہوئی آپ ہرگز نہ کریں۔ میں ایک دفعہ اپنے رشتہ دار کے گھر جارہا تھا۔ کہ راستے میں ایک جگہ لڑائی ہورہی تھی ۔ناجانے مجھے کیا تجسس ہوا اورمیں دیکھنے کےلیے کھڑا ہوگیا۔ اچانک گولیاں چلنا شروع ہوگئیں ۔ تین سے چار راہگیر زخمی ہوگئے۔ اور گولی چلانے والے نے پستول اس طرف کردیا۔

جس طرف میں کھڑا تھا۔ تو میں نے فوراً تین دفعہ ہاتھ سر پھیرا “یا حفیظ، یاسلام ” پڑھنا شروع کردیا۔ اس عمل کی وجہ سے اس شخص نے پستول کا رخ نیچے کردیا۔ اورمیں بچ گیا۔ جس وقت اس نے پستول کا رخ میری طرف کیا مجھے لگا تھا آج نہیں بچوں گا۔ لیکن “یا حفیظ ، یا سلام ” کے ورد نے میری جان بچالی ۔

اس دن سے اس ورد کو میں نے اپنا معمول بنا لیا۔ ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ کبھی بھی میرے والی غلطی ہرگز نہ کریں۔ جہاں جھگڑا بڑھ رہا ہو۔ وہاں تماشاہ دیکھنے کی غلطی ہرگز نہ کیجیے۔ اور جلد سے جلد ایسی جگہوں سے محفوظ مقام کی طرف منتقل ہوجائیں۔ بہرحال آج کا عمل بہت ہی مجرب اور آزمودہ عمل ہے۔ بہت زیادہ سلامتی والا عمل ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.