”صرف گیارہ دنوں کے اندر اندر لکھ پتی بننے کا پاور فل وظیفہ“

جب اداسی انتہا کو پہنچنے لگی اور زندگی میں مایوسی نے ایک بار پھر ڈیرہ ڈال لیا تو میں رحمت بابا سے ملنے چلا گیا اور وہ ہمیشہ کی طرح لوگوں میں گھرے ان کے مسائل کا حل بتا رہے تھے تو کسی کو دلاسہ دے رہے تھے ۔ بعض اوقات معملات اس قدر خراب سے خراب تر ہو جاتے ہیں کے تسلی اور دلاسے کے علاوہ انسان

کے پاس اور کچھ نہیں رہتا اور یہ بات مجھ سے بڑھ کر بھلا اور کون جان سکتا تھا مگر مجھے تو یہ دونوں بھی معیسر نہیں تھے نا ہی تسلی نا دلاسہ شاید اس میں بھی میرا ہی قصور تھا۔ رحمت بابا ایک نوجوان کو دعا دے کر رخصت کر کے میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے میاں اج بھی خیالوں میں گم ہو ۔ کبھی تو اپنی سوچوں کے سمندر کے آگے بندھ باندھ کر آیا کرو۔ میں جو دروازے پر ہی سوچوں میں ڈوبا چلا جا رہا تھا بابا کے بلانے پر سلام کر کے ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ نہ جانے کیوں دل میں سوال پیدا ہوا اور میری لاکھ کوشش کے باوجود بابا نے میرے بدلتے چہرے کے اثرات کو بھانپتے ہوئے بولے ۔ دل میں مت رکھو کہ ڈالو جو بھی بات ہے ۔میں نے پوچھا بابا ارپ پتی بنے کابھی کوئی وظیفہ وغیرہ ہے ۔ بابا نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور بولے موبائل نکال کر کیلکیولیٹر پر جتنی دولت چاہتے ہو وہ لکھو تو میں گبھرا گیا کے ۔ میں نے پوچھا بابا کیا کوئی کرامت تو نہیں دکھانے والے یہ نا ہوں میں یہاں لکھوں وہاں اپ پیسے مجھے دے دیں میرے اس معصومانہ سوال پر وہ مسکرا دیےاور بولے ۔ دینے والی زات

تو بہت مہربانی ہے جسے چاہے جتنا نواز دے ۔ میں تو تمیں راستہ دیکھانے والا ہوں ۔ جس پر چل کر تم وہ دولت حاصل کر سکتے ہو ۔ اور یاد رکھنا استقامت کرامت سے بہتر ہے۔مجھے اپنے سوال پر شرمندگی ہوئی مگر اب کہ تو دیا تھا میں نے جلدی سے دس ارب لکھ لئے اور کہا میں نے لکھ لیا ہے ۔ تو وہ بغیر دیکھے بولے بس اب تم نے صرف درود پڑھنا ہے ۔ جی ٹھیک ہے مگر کتنی بار ۔ جو نمبر تم نے لکھے ہیں اتنی بار پر بابا ۔ یہ تو بہت زیادہ ہے ۔ اتنا پڑھنا تو ممکن بھی نہیں میرے لئے تو بیٹا لکھے ہوئے نمبر میں سے کچھ کم کر دو ۔ پر بابا اپ سمجھے نہیں 10 ارب تو پوری زندگی میں بھی پڑھنا مشکل ہے ۔وہ میری ضد دیکھ کر پیار سے بولے دیکھو بیٹا ۔ تم صرف اپنے حصے کا کام کرو اور اللہ کے حصے کا اس پر چھوڑ دو تم بس یہ سوچ لو کے میں نے صرف اللہ کے محبوب پر 10 ارب بار درودھ پڑھنا ہے وہ تم پر دس گناہ رحمتوں کی برسات کر دے گا دنیا کی دولت کا کیا ہے وہ تو ایمان کی بےشمار دولت آتا کر دے گا ۔ آخرت کے خزانوں کے دروازے تمہارے لئے کھول دے گا ۔ کی

ا تم وہ حدیث بھول تو نہیں گئے مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے بس نیت صرف درود کی رکھنا اور ہر وقت صرف درود پڑھنا نماز کی پابندی بھی کرنی ہے۔ روزانہ کا حساب بھی رکھنا کہ اج کتنی بار پڑھا ہے ۔ اب تم مجھے خود بتاناکے اس کا کیا آثر پڑھا تم پر . یاد رکھنا تمہیں پڑھنے میں دیر ہو سکتی ہے پر اسے رحمت برسانے میں کبھی دیر نہیں ہوتی بس درود اس طرح پڑھنا جیسا اس کا حق ہے ۔ اور درود کا حق پتا ہے نا تمہیں بتایا تھا بھولے تو نہیں میں نے کہاں نہیں نہیں مجھے یاد ہے میری اداسی ختم ہو چکی تھی ۔ مجھے اپنے سوال پر شرمندگی نہیں تھی میں بس یہ سوچ رہا تھا رحمت بابا نے مجھے کس طرح ارب پتی بننے کا طریقہ بتا دیا اس دولت سے بڑھ کر بھی کیا کوئی دولت ہے میں دعا کروا کر وہاں سے نکل آیا ۔ کیوں کے مجھے اب حساب لگانا تھا کے کتنی بار میں روز درود پڑھوں۔ بے شک میں نے وہ سوال مزاق میں پوچھا تھا مگر اب میں ارادہ کر بیٹھا تھا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.