”آم کے شوقین حضرات ایک بار حضور کا فرمان ضرور پڑھ لیں۔“

لیکن اس سے پہلے آج اسی حوالے سے تمام مکمل تفصیلات آپ کو بتائیں گے لیکن اس سے پہلے اگر آپ نے میری ان باتوں سے فائدہ اُٹھانا ہے تو ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا کیونکہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہونے والا ہے۔

اللہ رب العزت نے قرآن میں فر ما یا کہ تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلا ؤ گے اور دوسرے مقام میں فر ما یا ۔ ترجمہ: اگر تم اپنے رب کی نعمتوں کا شمار کر نا چاہو تو تم اپنے رب کی نعمتوں کا شمار نہیں کر سکتے اگر اندازہ لگا یا جا ئے اگر ذکر کیا جا ئے تق یقیناً یہ جو آنکھ ہے یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے یہ جو زبان ہے یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے یہ جو ناک ہے جس سے ہم سانس لیتے ہیں

یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہےیہ جو ہاتھ ہیں یہ بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر ان تمام نعمتوں کا اگر ان تمام نعمتوں کا مقام پوچھنا ہے تو ان لوگوں سے پوچھئے گا کہ جن کے پاس آنکھیں نہیں ہیں ان لوگوں سے پوچھیے گا کہ جن کے پاس زبان نہیں ہے وہ بول ہی نہیں سکتے ان لوگوں سے پو چھئیے گا

کہ جن کے پاس ہاتھ بازو نہیں ہیں پھر وہ ہی آپ کو بتائیں گے کہ ہاتھ کی قدر کیا ہو تی ہے زبان کی قدر کیا ہو تی ہے آم ہم بہت زیادہ شوق سے کھاتے ہیں یقیناً کھانے چاہییں یہ اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشا دفر ما یا ہر وہ حلال چیز کھا ؤ جو اللہ اور اللہ کے رسول نے تمہارے لیے حلال فر ما ئی ہے

اور ہر اس چیز سے رک جا ؤ جو اللہ اور اللہ کے محبوب نے تم پر ح رام کی ہے یقیناً یہ بہت اچھا پھل ہے اسے کھائیے گا لیکن احتیاط کے ساتھ کیونکہ گرمی بھی بہت زیادہ ہے تو اس کی تاسیر جو ہے وہ بھی گرم ہے اس لیے خود بھی استقلال کے ساتھ کھائیے یعنی کہ یہ نہ ہو کہ آپ کے سامنے جناب مفت کے آم آ جا ئیں تو سارے ہی میں نے ہی کھانے ہیں ہر چیز کا ایک نہ ایک طریقہ کار ہے

کوئی نہ کوئی طریقہ کار جس چیز کے فائدے ہیں اس چیز کے نقصانات بھی ہیں جس چیز کے نقصانات بھی ہیں اس کے فائدے بھی ہوں گی تو یقیناً بہت زیادہ فائدے ہو ں گے آپ کو۔ نہ تو اتنا کم کھائیں کہ ہم سارا سال پچھتاتے رہیں اور نہ ہی اتنا زیادہ استعمال کر یں کہ ہم کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہو جا ئیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *