”سورۃ یٰسین کا پڑھنا ۔ سولہ فضائل ، ہزار بر کتیں نازل۔ تین بار سورۃ یٰسین اور تین نیتیں؟“

آپ نے ایسا کہاں پڑھا ہے اس کا حوالہ نقل کیجئے محدثین کرام تو فضائل کے باب میں ضعیف حدیث کو بھی قابل عمل سمجھتے ہیں

اگر صبح کے وقت سورہٴ یٰسین شریف پڑھنے کی فضیلت ضعیف حدیث سے ہی ثابت ہو تب بھی صبح کے وقت اس کی تلاوت کو بدعت نہیں کہا جاسکتا اس وقت پڑھنے کو بدعت بتلانا جہالت اور زیادتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دن کے شروع حصے میں سورہٴ یٰسین پڑھی اس کی ضروریات پوری کی جائیں گی

فضائل قرآن کے سلسلہ میں بعض روایات ہمارے ہاں بہت مشہور ہیں لیکن استنادی طور پر ان کی حیثیت بہت کمزور ہے ، اس لئے ہمارے خطباء کو چاہیے کہ وہ صحیح روایات سے فضائل و احکام بیان کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص رات دن سورۃ یٰسین پڑھنے کا معمول اختیار کرتا ہے تو اس کی زندگی آرام و راحت اور سہولت سے گزرے گی، یقیناً جو شخص اس کے معانی پر غور و فکر کرے گا، اس کے ایمان میں اضافہ ہو گا،

اس کا اللہ پر اعتماد اور یقین بڑھے گا جو دنیا میں آرام و سکون کا باعث ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو دنیا میں آرام و سکون عطا فرمائے۔ آمین! اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی، سات دن بنائے، اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ جمعہ کے فضائل واہمیت میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’ اے ایمان والو! جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن ، تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگرتم جانو حضرت انسؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ہرچیز کے لیے دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل ( سورت ) یٰس ہے ، اور جس شخص نے ( سورت ) یٰس کی تلاوت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکهے گا۔

ایک روایت میں ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’میرا دل چاہتا ہے کہ سورۃ یٰس میرے ہر امتی کے دل میں ہو۔ایک روایت میں ہے کہ جو شخص سورۃ یٰس کو پڑھتا ہے اس کی مغفرت کی جاتی ہے اور جو بھوک کی حالت میں پڑھتا ہے وہ سیر ہوجاتا ہے اور جو راستہ گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ راستہ پالیتا ہے اور جو شخص جانور کے گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے

وہ اس کو پالیتا ہے اور جو ایسی حالت میں پڑھے کہ کھانا کم ہوجانے کا خوف ہو تو وہ کھانا کافی ہوجاتا ہے اور جو ایسے شخص کے پاس پڑھے جو نزع کی حالت میں ہو تو اس پر نزع میں آسانی ہوجاتی ہے اور حالت ولادت والی عورت پر پڑھنے سے اس کی ولادت میں سہولت کردی جاتی ہے اسی طرح جب کسی بادشاہ یا دشمن کا خوف ہو اور اس کے لیے یہ سورۃ یٰسٓ پڑھی جائے تو وہ خوف جاتا رہتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *