بد ہضمی سے بچاؤ

آج ایسی غلطیوں کے بارے میں جانیں گے ۔ جن کی وجہ سےہمیں بدہضمی ، قبض ، گیس ، جگر کی کمزور ی اور نظام ہاضمہ سے جڑے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ممکن ہے کہ آپ بھی ان غلطیوں میں سے کچھ غلطیاں کررہے ہوں گے ۔ نان ویج غذاؤں کے ساتھ سبز یاں نہ کھانا۔ آپ جو بھی نان ویج فوڈز کھاتے ہیں۔ مثلاً چکن، فیش، میٹ ان غذاؤں می غذائیت تو بھر پور ہوتی ہے۔ لیکن جو اجزاء ہماری آنتوں سے غذا کو دھکیلنے میں مدد کرتے ہیں۔ و ہ نہیں ہوتے ۔ یہ تمام اجزاء صرف سبزیوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے جو لوگ کسی بھی گ وشت یا انڈوں کو سبزیوں کےبغیرکھاتے ہیں۔ انہیں پیٹ درد، بدہضمی اور گیس کے ساتھ ساتھ تیزابیت اور سینے کی جلن کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو اپنی غذاؤں میں نان ویج کے ساتھ سبزی یا سلاد کا استعمال ضرور کرنا چاہیے۔

ان غذاؤں میں سبزی کی مقدار جتنی زیادہ ہوگی۔ آنتوں اور معدے کے مسائل آپ سے اتنا دور رہیں گے۔ اب اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیجیے۔ اگر ہم کھانے کو جتنا زیادہ چبائیں گے۔ وہ باریک ہو کر لیکوئیڈ بن جائےگا۔ اور کھانا فوری طور پر ہضم ہوکر ہمارے جسم کا حصہ بھی بن جائے گا۔ حکیم لقمان صاحب فرماتے ہیں کہ اگر صحتمند رہنا چاہتے ہو تو کبھی بھی دانتوں کا کا م آنتوں سے نہیں لینا چاہیے۔ تیز تیز کھانا : جب ہم کھانا تیز تیز کھاتے ہیں۔ تو کھانا ٹھیک سے چباتے نہیں ہیں۔ اور تیزی سے ہم ضرورت سے زیادہ کھالیتے ہیں۔ کھانا پیٹ میں جا کر پھول جاتا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی پیٹ بھر کر کھا چکے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارا معدہ جام ہوجاتا ہے۔ اور کھانے کو ہضم کرنےکا عمل بہت ہی زیادہ سست ہوجاتا ہے۔ اسی لیے کھانا ہمیشہ آہستہ آہستہ اور چبا چبا کرکھانا چاہیے۔ تین سانسوں میں پانی پینا چاہیے۔

اور پانی کو گھونٹ گھونٹ کرکے پورے منہ میں گھما گھما کر پینا چاہیے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے منہ میں موجو سلائیوا کی زیادہ سے زیادہ مقدار ہمارے معدے میں جاتی ہے۔ا ور ہماری غذا بڑی تیزی سے ہضم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ہمارے سلائیوا میں وہ تمام ائینزائم ہوتے ہیں۔ جو غذا کو ہضم کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ کھانے کے فوری بعد لیٹنا: جب ہم کھانا کھاتے ہیں۔ تو کھانا ہمارے غذ ا کی نالی سے ہوتا ہوا اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتا ہے۔ لیکن جب ہم لیٹ جاتے ہیں۔ تو کھانے کو ہضم کرنے کا عمل سست پڑجاتا ہے۔ اور کھانے کا کچھ حصہ غذا کی نالی میں او پر کی طرف آجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں یا جلن ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے مکمل اجتنا ب کرنا چاہیے ۔ بہت کم پانی پینا: اگر ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو اس کااثر ہمارے معدے پر بھی پڑتا ہے۔

اسی لیے ہمیں بھرپور مقدار میں پانی پینا چاہیے۔ اک انسان کو عموماً آٹھ سے دس گلاس دن بھر ضرور پینا چاہیے ۔ اگر آپ پھلوں ، سبزیوں یا سلا د کا استعمال کرتے ہیں۔ تو پھر آپ کو پانچ سے چھ گلاس پانی کم سے کم ضرور پینا چاہیے۔ پیٹ بھر کر کھانا: غذا کو ہمارے معدے میں ہضم ہونے کےلیے ہلنے جلنے کےلیے تھوڑی سی جگہ درکا رہوتی ہے۔ اگر ہم پیٹ بھر کر کھانا کھالیں ۔ تو کھانا ہضم کرنے میں معدے کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔ اگر کھانا بہت لذیذ ہو تو کھاناکھانے والے کا ہاتھ نہیں رکتا۔ لیکن بعد میں یہی ٹیسٹی کھانا ہضم ہونے میں بہت وقت لگاتا ہے۔ اگر ہمارا معدے کھانے کو ہضم کرنےکےلیے زور لگاتا ہے تو کھانا ہمارے فوڈپائپ کے ذریعے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے سینے میں جلن اور کھٹی ڈکاریں آنی لگتی ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ آپ کے پیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا موجود ہے۔ جو لوگ زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں۔ وہ پانی بھی نہیں پی سکتے ۔ کیونکہ ہمارا پیٹ کھانے سے بھر ا ہوتاہے۔ اگر کھانا باآسانی ہضم کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمیشہ بھوک رکھ کر کھایا کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *