صرف ایک دفعہ استعمال کر یں ۔ حمل ٹھہر جا ئے گا۔ رحم / بچہ دانی کی سوجن۔

رحم کی سوجن کے لیے ایک آسان اور اثر دار گھریلو ٹوٹکہ بتائیں گے اس کے سو فیصد رزلٹ ہے رحم کی سوجن کی وجہ سے خواتین کے جسم پر تو برے اثرات پڑتے ہی ہیں ان کے ساتھ ان کے جذبات بھی کافی متاثر ہو تے ہیں کیونکہ رحم کی سوجن کی وجہ سے حمل نہیں ٹھہرتا ۔ حمل نہ ٹھہرنے کی وجہ سے خواتین نفسیاتی مریضہ بن جا تی ہیں بہت جلد غصہ آجاتا ہے کھانا بھی صحیح طریقے سے ہضم نہیں ہو تا رحم کے مقام پر درد رہتا ہے سر ہر وقت بھاری رہتا ہے جیسے سر میں ہلکا ہلکا سا درد ہو جو کسی بھی دوائی کی وجہ سے ٹھیک نہیں ہوتا جس کی وجہ سے زیادہ تر خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ یہ گردوں کا اثر ہے۔ رحم کی سوجن ٹیسٹ یا الٹراساؤنڈ میں نہیں آتی ہے آج ہم آپ کو اسی حوالے سے ایک سادہ سا گھریلو ٹوٹکہ بتا تے ہیں لیکن اس سے پہلے نئے آ نے والے دوستو سے گزارش ہے

کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا کیونکہ ان باتوں سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ ہونے والا ہ ہے۔ یہ ٹوٹکا آپ نے ایام کے پہلے یا دوسرے دن کر نا ہے ایام کے پہلے یا دوسرے دن بھی کر سکتے ہیں۔ اتنا فائدہ نہیں پہنچے گا جتنا پہلے دن استعمال کرنے سے فائدہ پہنچے گا اسی لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کر یں کہ پہلے دن ہی یہ ٹوٹکہ استعمال کر یں یہ ٹوٹکہ ایام کے دوران صرف ایک ہی بار استعمال کر نا ہے ایک بار کے ہی استعمال سے ہی آرام آ جا ئے گا اگر بالفرض آرام نہیں آ تا تو یہ دوسری بار استعمال کر نا ہے۔ سو فیصد حمل ٹھہر جا ئے گا اگر رحم کی سوجن کی وجہ سے حمل نہ ٹھہر رہا ہو تو ٹوٹکہ سمجھ لیں کیسے استعمال کر نا ہے ۔ سب سے پہلے گڑ کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے کر اس کا شربت بنا لیں

یہ آپ نے بنا کر رکھ لینا ہے دوسری طرف آپ نے اینٹ یا پتھر کا ایک ٹکڑا جو تھوڑے بڑے سائز کا ہو اس کو چولہے پر گرم کر لینا ہے اتنا گرم کر لیں کہ جلدی ٹھنڈا نہ ہو۔ اس اینٹ یا پتھر کے ٹکڑے کو بر تن سے اُٹھا کر باتھ روم میں رکھ لیں اب اس کے اوپر تھوڑے سے تیار شدہ شربت ڈالنا ہے اور اس کادھوپ لینا ہے ۔ رحم کے منہ کی طرف سے لینا ہے یعنی آپ جس وقت پخانے کے وقت بیٹھتے ہیں اس طرح بیٹھ کے اس کا دھوپ لینا ہےیہ تین منٹ کے لیے دھوپ لیں اس کے بعد بستر میں چلے جا ئیں اس کے استعمال سے انشاء اللہ رحم کی سوجن دور ہو گی اور حمل بھی ٹھہر جا ئے گا تو آ ج کے لیے اتنا ہی ۔ اُمید کر تا ہوں کہ آپ کو آج کی باتوں سے بہت ہی زیادہ ہو گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *