کوشش کرو اور پیچھے ہٹ جاؤ خدا نے تم سے کوشش مانگی ہےنتیجہ نہیں

عورت جوانی میں بیوی بن کر علیحدہ ہونے پر زور دیتی ہے اور بڑھاپے میں ساس بن کراکٹھے رہنے پر دلیلیں دیتی ہے۔

جس طرح جسم بیمار ہونے پر کھانے کی لذت کا ذائقہ نہیں لیتا ۔ اسی طرح جب دل گن اہگار ہوتا ہے ۔ تو عباد ت کا مزہ نہیں چکھ پاتا۔ پیسہ انسان کو اوپر لے جاسکتا ہے۔ لیکن انسان پیسہ اوپر نہیں لے جاسکتا۔ یونہی نہیں ہوتیں ہاتھ کی لکیروں کے آگے انگلیاں ۔ رب نے بھی قسمت سے پہلے محنت لکھی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے ۔

کہ عورت اس لیے پردہ نہیں کرتی کہ مرد اپنی نظریں جھکا لے اورمرداس لیے نظریں نہیں جھکاتے کہ عورتیں پردہ کرلیں۔ ہمیشہ اس وقت بولیں جب آپ کو احساس ہو کہ آپ کے الفاظ جو آپ کہنے جارہے ہیں آ پ کی خاموشی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اگر سفر کا مزہ لینا ہوتو ساتھ سامان کم رکھیےاگر زندگی کامزہ لینا ہے تو دل میں ارمان کم رکھیے۔ منفی سوچ غلط نمبر کی عینک کی طرح ہوتی ہے ہر منظر دھندلا اور ہر راستہ ٹیڑھا اور ہر چہرہ بگڑا ہوا ہی نظر آتا ہے۔

اگر لوگ آپ سے دوری اختیار کررہے ہیں تو انہیں کرنے دیجیے کیونکہ آپ کی تقدیر، قسمت ، وقت اور زندگی کی ڈور کسی کے چھوڑ جانے کی محتا ج نہیں ہے۔ ہمارا تعلق اس نابینا معاشرے سے ہے جہاں اداسی کا یقین دلانے کے لیے آنسودکھانے پڑتے ہیں۔ اور بیماری کا یقین دلانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ محبت اور م وت پورا آدمی طلب کرتی ہے ۔ جو لوگ آپ سے بغض اورحسد رکھتے ہیں ۔ ان سے نفرت نہ کریں کیونکہ اصل میں یہی آپ کی صلاحیتوں کو ماننے والے ہیں۔

جنہیں مکمل یقین ہے کہ آپ ان سب سے بہتر ہیں۔ علم یہ ہے کہ آپ کو معلو م ہو کیا کہنا ہے حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلو م ہو کب کہنا ہے۔ صورت بغیر سیرت کے ایک ایسا پھول ہے جس میں کانٹے زیادہ ہوں اور خوشبوبالکل نہ ہو۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرو، اصل میں کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو بے غیرتی ہورہی ہے اسے تسلیم کرلو۔ کچر ے میں پھینکی گئی روٹیاں یہی بیان کرتی ہیں کہ پیٹ بھرتے ہی انسان اپنی اوقات اور وقت کو بھول جاتا ہے۔

رب کو اوپر نہ ڈھونڈو ذرا سی گردن نیچے کر، رب تجھے اپنے دل میں ملے گا۔ فیصلوں سے پتاچلتا ہے کہ آپ کون ہیں۔ اگرکسی کو جاننا چاہتے ہیں۔ تو اس کے فیصلوں پر غور کریں۔ زندگی جب دیتی ہے تو احسان نہیں کرتی اورجب لیتی ہے تو لحاظ نہیں کرتی۔ خدا کی راہ میں کوشش کرو اور کبھی پیچھے مت ہٹو کیونکہ خدا نے تم سے کوشش مانگی ہے نتیجہ نہیں ۔
آپکاکردار آپ کی پہچان ہے ورنہ ایک نام کے لاکھوں انسان ہیں۔ استا د، سڑک اور سیڑھی اپنی جگہ پر ہی رہ جاتے ہیں۔ مگر دوسروں کو ان کی منزل تک پہنچادیتے ہیں۔ آپ کی غلطیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی بیوی کا دل سے شکریہ ادا کریں۔ جو م وت کی وادی سے ہو کر آپ کو باپ بننے کی خوشی دیتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *