جو لوگ ہمیں نہیں جانتے ان کی نظر میں ہم مغرور ہیں جو لوگ ہم سے ح س د کرتے ان کی نظر میں ہم جو لوگ ہم سے محبت کرتے ان کی نظر میں ہم

ہر شخص تو ہوتا نہیں ہربات کے قابل ، ہرشخص کو ہر بات بتا یا نہیں کرتے ، سب یار ہیں عیارذرا دیکھ کر ملنا، ہر آدمی سے ہاتھ ملایا نہٰں کرتے

۔ کسی نے پوچھا کون اپنا ہے اور کون نہیں جواب ملا: اگر وقت اپنا ہے تو سب اپنے ورنہ کوئی نہیں۔ کوئی کہتا ہے دنیا پیار سے چلتی ہے کوئی کہتا ہے دنیا دوستی سے چلتی ہے جب آزمایا تو پتہ چلا کہ دنیا تو صرف مطلب سے چلتی ہے۔ ہمیشہ وقت کی قدر کرو۔ وقت گہرے سمندر میں گرا ہوا موتی ہے جس کا دوبارہ ملنا ناممکن ہے ۔ بات کا مطلب سمجھیں صرف مطلب کی بات نہ رکھیں۔ جب اندر چیزیں بہتر ہوجائیں باہر خود بخود مثبت تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے۔

رشتوں میں سب سے بہتر رشتہ میرے نزدیک مخلصی کا رشتہ ہے۔ یعنی کے ذاتی مفاد سے ہٹ کر۔ صرف اور صرف اپنائیت کا احساس ہونا، زندگی آپ کو بہت کم ایسے لوگوں سے ملواتی ہے۔ کہ جو آپ کے ساتھ بغیر کسی مفاد اور لالچ کے ہوتے ہیں۔ تم پرندوں کا دکھ نہیں سمجھے پیڑ پر گھونسلا نہیں ، گھر تھا۔ کچھ زند ہ لوگ اپنے رویوں اور کردار کی وجہ سے ہمارے اندرے مرجاتے ہیں ۔ اور ہمیں وہی لوگ کھاگئے ، جن پر ہمیں نا ز تھا۔ وہاں سے رستہ بدل لینا چاہیے جہاں آنکھوں کے پیچھے کی نمی اور مضبوط لفظوں کے پیچھے ٹوٹا ہوا لہجہ کوئی نہ سمجھے۔ وقت نے ایک ہی بات سکھائی ہے تعلق ، رشتے ، ناطہ تب تک زندہ ہے ۔ جب تک آپ دوسرے کے معیار پر اور توقعات پرپور ا اترتے ہیں۔

موسمی محبت کرنے والے لوگ ہوا کے جھونکے کی طرح ہماری زندگی میں آجاتے ہیں ۔ جبکہ ہوا بھی ایک جگہ ٹکتی ہی نہیں اس لیے کوشش کیجئے ایسے دعوے دار لوگوں سے اجتناب کیجئے۔ کامیاب لوگ دوسروں کے لیے کامیابی چاہتے جبکہ ناکا م لوگ دوسروں کے لیے ناکامی چاہتے۔ جن سے خفا نہ ہوتے تھے ان سے جدا ہوگئے ہم۔ لحاظ اور اجنبی عورت کی عزت بڑی سے بڑی ڈگری بھی نہیں سکھا سکتی، اگر سکھاسکتی ہے تو صرف گھر کی تربیت۔ شیشے کی بوتل سے خوشبو نہیں آتی، خوشبو اس کے اندر رکھے مواد سے آتی ہے ، اس طرح صرف مسلمان ہونا کافی نہیں،

بلکہ اپنے طریقہ زندگی اپنے چال چلن ، اپنی گفتگو اور اپنے کردار سے ظاہر کرنا ضرور ی ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔ جو لوگ ہمیں نہیں جانتے ان کی نظر میں ہم عام سے انسان ہیں ۔ جو ہم سے جلتے اور حسد کرتے ہیں ۔ ان کے لیے ہم متکبر و مغرور ہیں ۔ جو ہمیں جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں ۔ ا نکے خیال میں ہم معقول انسان ہیں ۔ جو ہم سے محبت کرتے ہیں ان کے نزدیک ہم غیر معمولی ہیں۔ جو ہم سے نفرت کرتےہیں ان کے خیال میں ہم نہایت برے ہیں۔ ہر شخص کا اپنا نقطہ ء نظراور انداز فکر ہے سو خود کو لوگوں کی نظر میں بہتر بنانے کے لیے اپنے آپ کو ہلکانہ کریں ۔اللہ کا آپ سے خوش ہونا آپ کے لیے کافی ہے ۔ لوگوں کی خوشنودی ایسی خواہش ہے جو حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ جبکہ اللہ کی خوشنودی ایسا مقصد ہے جسے چھوڑا نہیں جاسکتا ۔ پس جو چیز حاصل نہیں ہوسکتی اسے چھوڑ دیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *