”تمہاری جان بھی چلی جائے مگر زندگی میں یہ کام کبھی نہ کرنا“

ایک مسلمان کو حلال کھانا چاہئے حلال کمانا چاہئے اور حلال سے محبت رکھنی چاہئے کیوں رکھنی چاہئے

کیونکہ یہ اللہ ذوالجلال کے حکم کی تعمیل ہے اللہ ذوالجلال نے رسولوں کو بھی وہی حکم دیا ہے انبیاء کو بھی وہی حکم دیا ہے اور مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے ۔یا ایھا الرسل کلو من الطیبٰتِ واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم اے رسولوں کی جماعت پاک چیزیں کھایا کرو اور نیک عمل کیا کرو انسان پاکیزہ چیزیں کھاتا ہے تبھی نیک عمل کرتا ہے اور مومنوں سے کیا کہا

یاایھا الذین آمنو کلو من طیبٰت مارزقنٰکم واشکرو للہ ان کنتم ایاہ تعبدون اے ایمان والو تمہیں جو ہم نے پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں وہ کھاؤ اور پھر اللہ کا شکر بجا لاؤ اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو ان دو آیات کی روشنی میں یہ بات سمجھنی چاہئے حلال کھائیں گے تو نیکی کریں گے جو حلال لقمہ نہیں کھاتا کبھی نیکی کے کام نہیں کرتا سہل ابن عبداللہ التستری اس لئے کہا کرتے تھے من اکل الحلال عبداللہ شاء ام ابا جو حلال کھاتا ہے وہ چاہے نہ چاہے اللہ اس سے نیکی کے کام ہی کرواتے ہیں

اس کا راستہ سیدھا رہتا ہے اور جو حرام کھاتا ہے وہ چاہے نہ چاہے اس سے برائیاں ہی ہوتی ہیں۔اللہ ذوالجلال ہم سب کو محفوظ فرمائے یہ اللہ ذوالجلال کا صرف حکم ہی نہیں جس کی تعمیل انسانیت کو کرنی چاہئے بلکہ اللہ کے رسول کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا لوگوں کو بتائیں حلال کیا ہے حرام کیا ہے طیب کیا ہے خبیث کیا ہے کس چیز کو لینا ہے کس چیز سے بچنا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآن بیان کرتا ہے

الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندہم فی التوراۃ والانجیل یامرھم بالمعروف وینھٰھم عن المنکر ویحل لھم الطیبٰت ویحرم علیھم الخبائث ویضع عنھم اصرھم والاغلال التی کانت علیھم اللہ کے رسول تو آئے ہی اس لئے ہیں نیکی کا حکم کریں برائی سے منع کریں بتائیں کہ یہ حلال ہے اور بتائیں کہ یہ خبیث ہے اس کے قریب نہ جانا اور وہ بوجھ جو انسانیت کے اوپر تھے ان بوجھوں سے آزاد کرنے کے لئے اللہ نے رسول کو بھیجا تھا ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میں گزر رہا تھا

تو کھجور گری ہوئی تھی لو لا انی خشیت انھا من الصدقہ لاکلتھا میں نے اس لئے اسے ہاتھ نہیں لگایا کہ کہیں یہ صدقہ کی کھجور نہ ہو ۔ ہم چونکہ صدقہ نہیں کھاتے اس لئے میں نے اس کو ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کیا کتنا چھوٹا بچہ ہے حسن و حسین کھجور صدقے کی پکڑی فورا انگلی ڈال کر منہ سے نکال دی فرمایا او بیٹا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی تربیت ہی ایسے کی تھی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غلام ان کے لئے کھانا لے کر آیا

ابھی لقمہ ڈالا ہی تھا غلام کہتا ہے جانتے ہو کہا سے آیا ہے کہا کہاں سے لائے ہو کہا جاہلیت میں میں کہانت کیا کرتاتھا تو میری شیرینی ابھی باقی تھی وہ آج مجھے ملی ہے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی انگلی ڈالی منہ میں اور قے کر دی اور اس مشکل سے قے کی وہ کہنے لگاکیا کررہے ہیں آپ تو سیدنا فرمانے لگے اگر اس لقمے کو نکالتے نکالتے میری جان نکل جاتی تو میں اس کو بھی نکال دیتا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *