یہ 3 سورتیں 1 عمل کا آسان وظیفہ

اولاد نرینہ کےلیے قرآنی عمل ہے خاص عمل جس بھی خاندان کو یہ عمل بتایا ہے اللہ تعالیٰ نے اس خاندان میں بیٹوں کی لائن لگا دی ہے ۔ جس نے یہ پانی دم والا پیا ہے اور یہ قرآنی عمل کرنے کے بعد، اسے اللہ تعالیٰ نے بیٹا ہی عطا کیا ہے۔ ایک صاحب جو ہیں۔

انہوں نے جب یہ جواباً بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے بیٹے کے نعمت سے نواز ا ہے۔ یہ عمل کرنے کے بعد یہ وظیفہ آپ کی خدمت میں پیش کررہےہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے خاندان نے جس عورت نے بھی یہ عمل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے ۔ بہت ہی آسان عمل ہے۔ قرآن پاک کی تین سورتیں ہیں۔ ایک سورت ” سورت مریم” اور ایک سورت ” سورت محمد” اور ایک سورت ” سورت یوسف” ہے۔

یہ سورتیں ایک ایک مرتبہ پڑھ کر پانی کی بوتل پر دم کردیں۔ کوئی بھی پانی والی بوتل لے لیں۔ ڈیڑھ لیٹر والی لے لیں۔ لیٹر والی لے لیں۔ اس کے اوپر دم کرکے آپ نے رکھ دیں ۔ اور جب عورت حمل سے پہلے بھی یا بعد میں بھی یہ پانی پینا شروع کردیں ۔ اسی بوتل سے پانی پئیں ۔ اور پانی جب کم ہونے لگے ۔ ختم نہیں ہونے دینا ہے۔ پانی جیسے ہی کم ہونے لگے تو اس میں اور پانی اسی پانی میں ڈال دیناہے اور وہی پانی پیتے رہیں ۔

انشاءاللہ! بیٹا ہی پیدا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ بیٹا ہویا بیٹی ہو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن بہت سے خاندان ایسے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ بیٹا ہو۔ بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد دی ہے ۔ اب وہ بیٹے کی خوشی دیکھناچاہتے ہیں۔ بے شک قرآن پاک کی تلاوت بھی کرتے رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرنی چاہیے۔ نماز کی پابند ی بھی کرنی چاہیے انشاءاللہ! یہ قرآنی عمل کریں ۔ آپ کا بیٹا ہی ہوگا۔ وہ انسان کہ جس کو مرنے سے پہلے توبہ کی تو فیق حاصل ہو جائے اور اس سے بھی زیادہ خوش قسمت ہے وہ انسان جو اپنی روزانہ کی روٹین میں توبہ اور استغفار کرتا ہے ۔ اپنے گن اہوں پر سچی توبہ کرتا ہے ۔ اور نادم رہتا ہے۔

یہ رب العزت کی شان ہے کہ اگر کوئی انسان کوئی نیکی کا کام کرنے کا سوچتا ہے تو اس کے صرف سوچنے پر ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جب اس کو کرنے کا کامل عمل اور کامل ارادہ کر لیتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیاں اور لکھ دی جاتی ہیں ۔ اور جب وہ شخص نیکی کر لیتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کو 70سےلے کر 700گنا تک بڑھا دیتا ہے ۔ اسی طرح جب انسان کسی گناہ کے کام کا سوچتا ہے تو اس کی سوچ پر ایک گ۔ناہ نہیں جب وہ اس کام کو کر نے کا ارادہ کر لیتا ہے تب بھی کوئی گن اہ نہیں لکھا جا تا ۔

کیو نکہ رب کو اس کے پلٹنے کی امید ہو تی ہے لیکن اگر وہ گن اہ بھی کر بیٹھتا ہے تب بھی غفور رحیم وہ رب کی ذات فرشتوں کو کہتا ہے کہ چھ گھنٹے تک اس کے گناہ نہ لکھے جائیں ۔ شاید یہ مجھ سے تو بہ کر لے۔ یہ ہے رب کا شانِ رحیمی اور کریم جو نیکی سوچنے پر تو لکھتی ہے لیکن گناہ کے سوچنے پر گن اہ نہیں کرتی بلکہ گن اہ لکھا ہی نہیں جا تا۔اور یہاں تک کہ چھ گھنٹے کا وقت گزر جانے کے بعد بھی اللہ کو اپنے بندوں سے امید ہو تی ہے کہ وہ رب سے سچی توبہ کر لیں۔

معزز سامعین آج میں آپ کو بدھ کے دن استغفار پڑھنے کی ایسی فضیلت بھی بتاؤں گا اور اس کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر استغفار کو اگر آ پ اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے 11انعا مات سے انسان کو نوا ز دیتا ہے۔ وہ آپ جان سکیں گے۔ حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ جو شخص استغفار اپنے اوپر لازم کر لے تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیتا ہے۔

اور ہر غم و پریشانی سے اسے نجات دیتا ہے۔ اسے ایسی جگہ سے اس طرح رزق پہنچا تا ہے کہ جس کا اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک اور احادیث میں آتا ہے کہ حجرت زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا کہ جس نے یہ کہا تو اس کے گن اہ معاف کر دئے جائیں گے چاہے وہ میدانِ جنگ سے کیوں نہ بھا گا ہوا ہو۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فر ما یا کہ جس کے نامہ اعمال میں زیادہ استغفار ہوا۔ اس کے لیے خوش خبری ہے۔ معزز سامعین استغفار کو روزانہ کی بنیاد پر یا کثرت سے بہت سے فائدے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *