پسینہ کے ہماری صحت پر اثرات۔

جس طرح ہمارے گردے خ و ن میں سے فاضل مادوں کو فلٹر کر کے پیشاب کے راستے خارج کر تے ہیں اور ہمیں کئی طرح کے امراض سے تحفظ فراہم کر تے ہیں اسی طرح ہماری جلد بھی پسینے کے ذریعے فاضل مادوں کو خارج کرنے کا کام سر انجام دیتی ہے پسینہ آ نے سے ہمیں وقتی طور پر تھوڑی بہت تکلیف ضرور ہو تی ہے لیکن اس سے جلد میں رکے ہوئے مادے نکل جا تے ہیں اور جسم کھل جا تا ہے اسی وجہ سے دانے پسینہ میں نکلنے والے مواد کے ذریعے ختم ہو جا تے ہیں اس کے علاوہ پسینہ کے راستے حرارت اور گرمی بھی خارج ہو تی ہے جس سے خ و ن کا درجہ حرارت نارمل رہتا ہے۔

اسی لیے جسم کے بڑھے ہوئے درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے ادویات کا استعمال کیا جا تا ہے جیسا کہ بخار کی صورت میں پسینہ آور دواؤں کے ذریعے بخار اتارا جا تا ہے اور بخار کو نارمل کیا جا تا ہے اسی طرح بڑھے ہوئے بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے اور رتوبات کی زیادتی سے ہونے والے موٹاپا یا بڑھے ہوئے وز ن کو کم کرنے کے لیے بھی پسینہ لانے والی چیزوں سے فائدہ اٹھا یا جا تا ہے جب پسینہ کھل کر آ نے کے بعد جب گرمی بدن سے خارج ہو تی ہے تو بدن ٹھنڈا ہو جا تا ہے اور اگر کسی وجہ سے پسینہ بند ہو جا ئے تو اس سے بدن میں گرمی زیادہ محسوس ہو تی ہے اور گرمی کو برداشت کرنے میں دشواری ہو تی ہے بار بار غسل کر تا ہے۔

جسم پر الرجی کی طرح سوئیاں سی چھبتی محسوس ہو تی ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں پسینہ لانے والی غذاؤں کا استعمال کر کے ان مسائل سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے چنانچہ اس کے لیے ایک چمچ شہد میں چٹکی بھر باریک پسی ہوئی کالی مرچ شامل کر کے استعمال کر نا مفید ثابت ہو تا ہے البتہ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ پسینہ آ نے سے جہاں مادے خارج ہو تے ہیں اور پسینہ بند ہونے سے فضلات رک جا تے ہیں و ہیں اگر پسینہ ضرورت سے زیادہ آ نے لگ جا ئے تو خ و ن میں سے اصل اجزاء پسینہ کے راستے خارج ہو نا شروع ہو جا ئیں گے۔

جس سے کمزوری واقع ہو کر مریض کے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جا تا ہے جیسا کہ ہیضہ کے مریض کو سخت پسینہ آ کر مریض م و ت کے منہ میں چلا جا تا ہے جب کہ پسینہ زیادہ آ نے سے بدن میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے چنانچہ ایسے میں ایسی چیزوں کا استعمال کر نا چاہیے جو بدن میں پانی کی کمی کو پورا کر سکے اس کے لیے آپ ناریل پانی کا استعمال کیا جا سکتا ہے تربوز کھانے سے پانی کی کمی پوری ہو تی ہے اور کھیرے کا استعمال کر نا بھی فائدہ مند ثابت ہو تا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *