ایک خوبصورت عورت ڈاکٹر کے پاس آئی او رشرماتے ہوئے بولی ۔۔۔؟

شہر کے ایک مشہور کلینک پر ایک کار آکر رکی، کار کے اندرے سے ایک فیشن ایبل امیر نظر آنے والی خاتون اتری اور کلینک کے اندر آکر کہنے لگی کہ مجھے ڈاکٹر صاحب سے علیحدگی میں کوئی ضروری بات کرنی ہے۔ ڈاکٹر نے جلدی سے کچھ مریضوں کو دوا دے کر فارغ کیا اور خاتون کو اندرے کمرے میں بلا لیااور کہا کہ جی فرمائیے آپ کی کیا مد د کرسکتا ہوں؟ عورت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میں بہت پریشان ہوں اور بڑی امید لے کر آپ کے پاس آ ئی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میرا مسئلہ حل کروا دیں گے۔ ڈاکٹر کے یقین دلانے پر عورت نے شرماتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر کے ختنے ابھی تک نہیں ہوئے جس کی وجہ سے مجھے بہت نف رت محسوس ہوتی ہے۔

وہ کسی طرح ختنے کروانے پر راضی نہیں۔ اگر آپ اس کے ختنے کردیں تو میں آپ کی احسا ن مند رہوں گی۔ یہ کہہ کر خاتون نے پرس سے پچاس ہزار روپے نکال کرڈاکٹر کےآگے رکھ دیے اور کہا کہ پچاس ہزار روپے آپ کو کام ہونے کے بعد ادا کر دوں گی ۔ ڈاکٹر نے سوچا کہ چھوٹے سے کام کے لیے یہ سودا برا نہیں ہے۔ عورت کہنے لگی کہ آپ مجھے اپنا کار ڈ دے دیں۔ او ر اپنے ملازم کو میرے ساتھ بھیج دیں۔ تاکہ وہ میرے شوہر کو یہاں لے آئے اور پھر آپ اس کو منا کر کر اس کا آپریشن کردینا، عورت نے ڈاکٹر کے ملازم کو ساتھ لیا۔

اور شہر کے بڑے سنا ر کے پاس جا پہنچی وہاں سے دس لاکھ کا جیولری سیٹ خریدااور ایک لاکھ روپیہ اد ا کرکے سنا ر سے کہا کہ میں فلاں ڈاکٹر کی بیوی ہوں میرے ساتھ ملازم بھی ہے۔ آپ میرے شوہر کے کلینک پرجا کر باقی کے نو لاکھ لے لیں۔ چنانچہ اس خاتون نے سنا ر کو اپنے ساتھ کار میں بٹھایا اور ڈاکٹر کے کلینک پہنچ گئی ۔ ڈاکٹر کو آنکھ کے اشارے سے سمجھایا کہ یہ میرا شوہر ہے اس کے ختنے کرنے ہیں اور خود چپکے سے کار میں بیٹھ کر رفو چکر ہوگئی اب سنار ڈاکٹر کےپاس گیا۔ تو ڈاکٹر نے اس کو نرمی سے بتانا شروع کردیا کہ ختنہ کروانا نا صرف سنت عمل ہے بلکہ میڈیکل اعتبار سے اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں ۔ انسان مختلف بیماریاں سے بچ جاتا ہے۔

سنا ر نے حیران ہو کر کہا کہ ڈاکٹر صاحب کیسا ختنہ ؟ آپ میر ا نو لاکھ روپیہ ادا کریں میرے پاس وقت کی کمی ہے، اب حیران ہونے کی بار ڈاکٹر کی تھی۔ اس نے پوچھا کہ کونسا نو لاکھ؟ سنا ر نے کہا کہ ابھی آپ کی بیوی ایک لاکھ ادا کرکے دس لاکھ کا سونے کا سیٹ لے کر گئی ہے۔ بقایا کے نو لاکھ آپ نے ادا کرنے ہیں ۔ ڈاکٹر نے کہا مگر وہ تو آپ کی بیوی ہے اور مجھے آپ کے ختنے کرنے کا پچاس ہزار ایڈ وانس دے کر گئی ہے۔ کافی بحث و تکرار کے بعد معلوم ہو ا کہ وہ عورت نہ تو ڈاکٹر کی بیو ی ہے نہ سنار کی ۔ بلکہ وہ تو ان دونوں کے ختنے کرکے کب کی فرار ہوچکی تھی ۔ یہ سچا واقعہ ہے ۔ جو فیصل آباد کے ریل بازار میں پیش آیا تھا۔ ایسے لٹیروں سے بچ کر رہا کریں۔ کہیں کوئی عورت آپ کے بھی۔۔۔!

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.