پیارے نبی ﷺ کا یہ فرمان ضرور سن لو روزہ نہ رکھنے پر کونسا ع ذاب نازل ہوتا ہے

رمضان کا مہینہ جو اللہ تعالیٰ نے عطافرمایا ہے۔ تو اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے روزوں کو فرض قرار دیا ہے۔ فرض اور لازم قرار دیے دیا ہے

اور یہ قانون کی طرح ہوگیا ہے۔ جس طرح ملک کا قانو ن ہوتا ہے کوئی اس کی خ۔لاف و۔رز ی کرے تو اس پر ج۔رمانہ اور س زا عائد کی جاتی ہے۔

تو جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قانون بنایا ہے اگر انسان اسی کی خلاف ورزی کرے گا وہ بھی س زا ہے اور ج۔رم کا مستحق ہوگا۔ روزہ نہ رکھنے کا جو انج۔ام ہے ایک حدیث آپ کو سناتے جائیں کہ آپ ﷺ نے جنت کی بھی سیر کی ہے اور جہنم کے بھی نظارے دیکھیں ہیں۔ آپ ﷺ جہنم کے نظارے حضرت جبرائیلؑ کو دکھا رہے تھے ۔ ایک شخص کو دیکھا۔ کہ ایک فرشتہ ایک بڑا چٹ۔ان اٹھا کر اس کے سر پر م.ارت۔ا ہے ۔

جب فرشتہ دوبارہ چٹان اٹھانے جاتا ہے تو اسی دوران اس کا سر ٹھیک ہوجاتا ہے۔ تو وہ دوبارہ م۔ارتا ہے۔ توآپ ﷺ فرشتے سے پوچھتے ہیں۔ یہ کون ہیں اور ان کو کیوں ایسی س زا دی جارہی ہے ۔ آپ ﷺ سے عرض کرتے ہیں۔ اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کی امت کا وہ شخص ہے جو عشاء کی نماز پڑھے بغیر سوجاتاتھا ۔ تھوڑا آگے جاتےہیں۔ تو آگے جا کردیکھتے ہیں۔ کہ مرد وعورت الٹے اور ننگے لٹکے ہوئے ہیں۔

اور نیچے سے ان پر آ۔گ جل رہی ہوتی ہے۔ اور ان کے جبڑے یہ پیچھے کی طرف فرشتے ان کو کھینچتے ہیں۔ اور ان کو چی۔رتے ہیں اور وہاں سے ان کا خ ون بہہ رہا ہوتاہے۔ تو آپ ﷺ ان پوچھتے ہیں یہ کون ہیں ۔ تو فرشتہ عرض کرتا ہے اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو رمضان کا مہینہ پاتے تھے اور رمضان کا مہینہ پاکر بھی اس کے اند ر روزے نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ کھاتے پیتے تھے ۔ اس تھوڑے سے فائدے کے لیے ہم دائمی ع ذاب کو گلے لگارہے ہیں۔ اب اس حدیث کے اندر دیکھیں اور روزہ نہ رکھنے والے کو تین ع ذاب دیے جارہے ہیں۔

پہلا اس پر آ۔گ جل رہی ہوتی ہے۔ آ۔گ کے اندر ہے ۔دوسرا اس کو الٹ۔ا لٹک۔ایا گیا ہے۔ تو انسان کو اگر الٹ۔ا لٹک۔ا یا جائے تو دو تین منٹ سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتا۔ اور تیسرا اس کے جبڑوں کو پیچھے کھینچ کر پھ۔اڑ ا جارہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم بڑا احسان فرمایااور بڑا فضل کرکے مہینہ ہمیں عطاء کیا۔ تو ہمیں بھی اس کا حق ادا کرناچاہیے۔ جیسے اس کا حق ہے کہ ہم اس رمضان کے مہینے کے اندر روزے رکھے اور پورے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ اوراپنی مغفرت اور بخشش کروائیں۔آج کل روزہ رکھنا بھی مشکل نہیں ہے ۔

اگر اس زمانے کا پہلے زمانے کا تق۔ابل کیا جائے تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ کہ پہلے زمانے کے اندر یہ نعتمیں بھی نہیں تھیں۔ یہ پنکھے ، اسے ۔سی یہ تمام نعمتیں نہیں تھیں اس وقت۔ لیکن پھر بھی صحابہ اور تابع تابعین سخت گرمی کے اندر بھی روزہ رکھتے تھے۔ حضرت صالم رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جنگ کے میدان میں تھے ۔ جنگ امامہ بہت نڈھال پڑے ہوئے تھے ۔

ایک صحابی پانی جو ہے زخمی۔وں کو پلا رہے تھے ۔ ان کے پاس پہنچے ۔ ان کو پانی پلانا چاہا۔ لیکن ان کا سخت گرمی کے اندر بھی ان کا روزہ تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ ہمیں بہت بڑی نعمت عطا کی ہے ۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی قدر یہی ہے کہ ہم اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی طر ف متوجہ ہوجائیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت اور اپنی بخشش کروائیں ۔ اور اپنے گن اہوں کا ازالہ کروائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.