موٹاپا، گیس،بدہضمی بس صرف یہ ایک چیز استعمال کریں

موٹاپا، گیس، بدہضمی، پانی کی کمی، بڑی آنت کا کینسر، شوگر یہ ایسی بیماریاں ہیں جن سے ہر دوسرا پاکستانی اس وقت نبردآزما ہے۔

موٹاپے کا شکار افراد نسخوں اور ٹوٹکوں کے ذریعے اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اورتھکا دینی والی ورزشیں بھی ان کی خواہشات پوری کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں ،

گیس اور بدہضمی جہاں بلڈ پریشر اور عارضہ قلب کا باعث بنتی ہے وہیں یہ م۔وت سے بھی ہمک۔نارکر سکتی ہے،اسہال کی وجہ سے جسم میں ہونیوالی پانی کی کمی آپ کو کمزور اور لاغر کر سکتیے جبکہ مثالے دار خوراک اور قبض ایسی چیزیں ہیں جو بڑی آنت کے ک۔ینسر کا باعث بنتی ہیں۔ جبکہ آج ہر تیسرا پاکستانی کسی نہ کسی سطح پر شوگر کے مرض میں مبتلا ہے

ہم یہاں آپ کو ایک ایسی چیز سے متعلق بتانے جا رہے ہیں جو آپ کو ان تمام خط۔رناک عارضوں سے نجات اور ان کے خلاف موثر ہتھ۔یار کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ اس چیز کا نام اسپغول ہے۔ جی ہاں اسپغول کی مدد سے نہ صرف با آسانی وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ یہ گیس اور بدہضمی دور کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے جبکہ اسہال کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے جسم میں ہونیوالی پانی کی کمی کو بھی دور کرتا ہے جبکہ بڑی آنت کے ک۔ینسر کے خلاف یہ نہایت مفید ہے۔ اسپغول خون میں خون میںشوگر کی سطح اور انسولین میں باقاعدگی رکھ کر کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بناتی ہے

اسپغول پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق اسپغول کے بیجوں میں فیٹس یعنی حشمی روغن پایا جاتا ہے۔ زلالی مادہ اور فالودہ نما جیلی جیسا لعاب ہے۔ دراصل یہ لعاب ہی وہ مادہ ہے جو انسانی جسم میں بیماری کے خلاف اپنا اثر دکھاتا ہے۔اس لعاب کی ایک حیرت انگیز مثال یہ ہے کہ انسانی جسم میں چوبیس گھنٹے تیزاب یعنی ہائڈروکلورک ایسڈ جیسے تیز اث۔ر تی۔زاب اور لیلیے کے تیزاب میں رہنے کے باوجود اسپغول کے لعاب کا برائے نام حصہ ہضم ہوتا ہے اور تمام ہضم کے عمل کے درجات کو طے کرتا ہوا بڑی آنت میں موجود جراثیم پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان کو کولونائزیشن کو منجمد کردیتا ہے۔

ان تیزابوں کی اثرانگیزی اس پر کچھ اثر نہیں کرتی اور پھر آگے جاکر یہ لعاب یعنی جیلی ان جرثوموں مثلاً مبسی لس شیگا‘ سیسی لس فلیکس نر‘ سینسی لس کولائی اور سیسی کرکالر ابھی اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔ مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسپغول کا لعاب چھوٹی آنت کی کیمیائی خمیرات کا زیادہ اثر نہیں لیتا اور نہ معدے کے کرشمات کا اثر لیتا ہے

اور نہ بڑی آنت میں موجود جراثیم اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔یہ لعاب آنتوں کے زخموں اور خراشوں پر بلغمی تہہ چڑھا دیتا ہے اور بیکٹیریا کے نشوونما کو احسن طریقہ سے روک دیتا ہے اور جو زہریلے مواد جو ان بیکٹیریا کی موجودگی سے پیدا ہوتے ہیں ان کو جذب کرلیتا ہے۔اسپغول کے بارے میں جو اطباء رائے رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ دوسرے درجے کا سرد ہے اور بعض کے نزدیک تیسرے درجے کا سرد ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.