”رسول اکرمؐ کے وصال کے وقت حضرت ابو طلحہؓ اپنے مکان میں تھے“

رسول اکرمؐ کے وصال کے وقت حضرت ابو طلحہؓ اپنے مکان میں تھے۔ ادھر مسجد نبویؐ میں صحابہؓ میں گفتگو ہوئی کہ آنحضرتؐ کی قبر کون تیار کرے؟ مدینہ میں بغلی اور مکہ میں صندوق والی قبریں کھودی جاتی تھیں، جبکہ آنحضرتؐ بغلی قبر پسند فرماتے تھے۔مسلمانوں میں دو شخص قبریں کھودتے تھے۔ مہاجرین میں ابو عبیدہؓ اور انصار میں حضرت ابو طلحہؓ۔ حضرت ابو عبیدہؓ صندوق اور حضرت ابو طلحہؓ لحد والی قبر بناتے تھے۔ دونوں کے پاس آدمی بھیجا گیا اور یہ بات طے پائی کہ جو پہلے پہنچے گا، وہ قبر کھودنے کا شرف حاصل کرے گا۔ چونکہ آنحضرتؐ کی مرضی بغلی کی تھی، بہت سے مسلمان دعا کررہے تھے کہ ابوطلحہؓ پہلے پہنچ جائیں۔یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت ابوطلحہؓ پہنچ گئے اور حضور اقدسؐ کے لئے بغلی قبر کھودنے کا اعزاز پالیا اور یوں رسول اقدسؐ کی منشا بھی پوری پوگئی۔رسول اکرمؐ کے وصال کے بعد بہت سے صحابہؓ نے مدینہ کی سکونت ترک کردی تھی اور شام چلے گئے تھے۔

سیدنا ابو طلحہؓ بھی ان ہی غمزدوں میں داخل تھے، لیکن جب زیادہ پریشانی بڑھتی تو آستانہ نبوتؐ کا رخ کرتے اور مہینوں کا سفر طے کر کے رسول اقدسؐ کی قبر اطہر پر حاضر ہوتے اور قلب وجگر کو سکون پہنچاتے۔حضرت ابوبکر صیدقؓ کا عہد خلافت، حضرت ابوطلحہؓ نے شام میں گزارا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ خلافت کا بیشتر حصہ بھی وہیں بسر ہوا۔ البتہ حضرت فاروق اعظمؓ کی وفات سے کچھ روز پہلے آپؓ مدینہ میں تشریف فرماتے تھے۔ حضرت فاروق اعظمؓ کو ان کی ذات پر جو اعتماد اور ان کی منزلت کا جو خیال تھا، وہ اس سے ظاہر ہے کہ جب آپؓ نے چھ آدمیوں کو خلافت کے لئے نامزد فرمایا تو حضرت ابوطلحہؓ کو بلا کر کہا آپ لوگوں کے سبب سے خدا نے اسلام کو عزت دی۔ آپ انصار کے پچاس آدمی لے کر صحابہ کرامؓ پر متعین رہیں، تاوقتیکہ یہ کوئی خلیفہ نامزد کرلیں۔جہاز پر انتقال اور سات دن بعد تدفین:ایک دن آپؓ سورہ برات تلاوت فرما رہے تھے۔ جب اس آیت انفروا خفافا… پر پہنچے ولولہ جہاد تازہ ہوا۔ گھر والوں سے کہا کہ خدا نے بوڑھے اور جوان سب پر جہاد فرض کیا ہے۔ میں پھر جہاد میں جانا چاہتا ہوں۔ میرے سفر کا انتظام کر دو (یہ دو مرتبہ کہا)۔بڑھاپے کے علاوہ روزہ رکھتے رکھتے بھی بہت نحیف ہوگئے تھے۔

گھر والوں نے کہا: خدا آپ پر رحم فرمائے! عہد نبویؐ میں تمام غزوات میں شریک ہو چکے، حضرت ابوبکرؓ و عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں برابر جہاد کیا۔ کیا اب بھی جہاد کی حرص باقی ہے؟ آپ گھر بیٹھئے، ہم لوگ آپ کی طرف سے جہاد میں جائیں گے۔حضرت ابوطلحہؓ بھلا رکنے والے کب تھے۔ شہاد کا شوق ان کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ بولے: جو میں کہتا ہوں، اس کی تعمیل کرو۔ گھر والوں نے چارونا چار سامان سفر درست کیا اور یہ ستر برس کا بوڑھا مجاہد، خدا کا نام لے کر چل پڑا۔ غزوئہ بحری کے لئے اسلامی بیڑہ روانہ ہونے والا تھا۔ حضرت ابوطلحہؓ جہاز پرر سوار ہوئے اور غزوے کے منتظر تھے کہ ساعت مقررہ آپہنچی اور ان کی روح عالم قدس کی جانب پرواز کر گئی۔بحری سفر تھا۔ زمین کہیں نظر نہ آتی تھی۔ ہوا کے جھونکے جہاز کو غیر معلوم سمت میں لئے جا رہے تھے۔ اس مجاہد کی لاش جہاز کے تختے پر رکھی رہی۔ آخر ساتویں روز جہاز خشکی پر پہنچا۔ اس وقت لوگوں نے لاش کو وہاں ایک جزیرہ میں دفن کیا۔ اس وقت تک لاش بعینہ صحیح و سالم اور تروتازہ تھی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.