”شعبان میں صرف دو دن سورہ کوثر کا یہ وظیفہ پڑھ لو“

آج امت مسلمہ ایک وبائی مرض سے دوچار ہے امیر غریب، حاکم محکوم، بادشاہ اور رعایا بلکہ ہر ہر شخص ایک خطرناک ترین وائرس کی زد میں ہیں،

خوف وہراس اور ساناٹے کا ماحوال پورے ملک میں عام ہے جگہ جگہ لاک ڈاؤن کے سبب ضروریاتِ زندگی اور حوائج اصلیہ سے بھی لوگ محروم ہیں اس قدرتی وبا اور قہر خداوندی اور عذاب رب الٰہی کے چلتے ساری انسانیت مجبور ولاچار نظر آرہی ہے، ساری دنیا پر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو یہ نظر آرہا کہ اس وبا کے سبب لوگ اپنے آپ کو گھروں تک محدود رہنے پرمجبور ہیں، شعبان کے مہینے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ صحابہ کرامؓ کو اکٹھاکرتے اورخطبہ دیتے جس میں انہیں رمضان کے فضائل ومسائل بیان کرتے، رمضان کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر اس کی تیاری کے سلسلے میں توجہ دلاتے۔اسی لئے ہم ماہ مبارک کی آمد سے پہلے پہلے اس کے مقام، اس کی عظمت، اس کی فضیلت،

اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں،ان نازک حالات میں ماہ شعبان رب کی عطا کا مہینہ ہے، گناہوں اور نافرمانیوں سے توبہ کر رب کی بارگاہ میں واپس آنے کا یہ صحیح ترین وقت ہے،آپ اپنے گھروں میں رہ کر احتیاطی تدابیر کو اپنانے کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی تلاوت،صوم و صلوۃ کی پابندی کریں،اذکار و واوراد کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار اور دعاؤں کا خاص اہتمام کریں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کامقصدہے،اگر ہم اس ماہ کی قدر دانی کرتے ہیں اور رب عظیم کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہیں اور ظلم وستم سے بچنے، حقوق اللہ و حقوق العباد کی پاسداری کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو انشاء اللہ اس وبا کا خاتمہ ہوگا اور ماہ رمضان کا ہم صحیح طریقے پر استقبال کرپائیں گے اور اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں گے ۔شعبان المعظم کے بابرکت مہینے میں اگر دو دن میں ہم گیارہ سو مرتبہ سورہ کوثر کو پڑھیں تو انشاء اللہ عزوجل اللہ کی رحمت و برکت ہم پر نازل ہو گی اور ہماری تمام مصیبتیں پریشانیاں دور ہوں گی اللہ تعالیٰ ہم پر رزق کی آسانی فرمائے گا اور مشکلات و تنگیوں سے ہمیں نجات دے گا سورہ کوثر کے بہت سے فضائل ذکر کئے گئے ہیں ۔

قرآن کریم کی تمام آیتوں اور تمام سورتوں سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کاکلام ہے کلام الملوک ملوک الکلام۔ احادیث شریف میں قرآن کریم کی ہر آیت یا ہر سورت کے فضائل منقول نہیں ہیں اسی بنا پر سورہ کوثر کے بھی فضائل الگ سے نہیں منقول ہیں پورے قرآن کے جو فضائل ہیں وہ اس سورت کے لئے بھی ہیں۔البتہ اس سورت کی شان نزول کے سلسلہ میں وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پسری (نرینہ) اولاد نہ رہنے کے سبب بعض کفار نے آپ کو العیاذ باللہ! ابتر مقطوع النسل ہونے کا طعنہ دیا تو اللہ تعالی نے اس سورت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخرت میں خیر کثیر یا حوض کوثر دیئے جانے کی بشارت سنائی۔اور دنیا میں بھی یہ بشارت دی گئی کہ صرف نرینہ اولاد کے نہ رہنے سے آپ کو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر کہنے والے حقائق سے بے خبر ہیں آپ کی نسل نسبی بھی ان شاء اللہ دنیا میں تاقیامت باقی رہے گی اگرچہ دختری اولاد سے ہو اور نسل معنوی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلمان جو درحقیقت نبی کی اولاد معنوی ہوتے ہیں وہ تو اس کثرت سے ہوں گے کہ پچھلے تمام انبیاء کی امتوں سے بڑھ جائیں گے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ کے نزدیک مقبول اور مکرم و معظم ہونا بھی مذکور ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.