تیل میں صرف ایک معمولی چیز ملاؤزندگی بھر کے لیے بال سیاہ کا لے

بالوں کا سفید ہو جا نا ایک فطری عمل ہے جس سے ہر شخص کا واسطہ کبھی نہ کبھی پڑ ہی جا تا ہے بال سفید ہونے لگیں تو لوگ اچھے بھلے جوان شخص کو بھی بوڑھے جیسے الفاظ سے نواز دیتے ہیں اور پھر بالوں کو کا لا کر نے کے لیے کلرز کا استعمال کیا جا تا ہے جو کہ بالوں کو وقتی طور پر کا لا تو کر دیتے ہیں لیکن تھوڑ ے دن بعد بال دوبا رہ سے سفید ہو جا تے ہیں۔ اور ان کلرز کیمیکلز اتنے ہوتے ہیں کہ بال گرنے لگ جا تے ہیں تو آج میں آپ کو ایک ایسی ریمیڈی بتاؤں گی کہ جس کےا ستعمال سےآپ کے بال کالے ہو جا ئیں گے۔

بلکہ آپ کے بال لمبے گھنے اور مضبوط بھی ہوں گے اور جو بالوں کی نیو گروتھ ہو گی وہ بھی کالی ہی ہو گی لیکن آپ نے صبر و تحمل سے کا م لینا ہے بال ایک دن میں سفید نہیں ہوتے آہستہ آہست سفید ہوتے ہیں تو ایک دن میں مستقل طور پر کالے بھی نہیں ہو سکتے تو چلیے دیکھ لیتے ہیں کہ یہ ریمیڈی کیسے بنے گی ۔ سب سے پہلے آپ نے کدو کا تیل لینا ہے ہر پنسار کی دکان پر یہ آسانی سے مل جا تا ہے اس کے باقاعدہ استعمال سے بال کالے بھی ہوتے ہیں

اور مضبوط بھی دو چمچ آپ اس کے لیں گے اب آپ نے لینا ہے تر پھلا پاؤڈر کسی بھی حکیم کی دکان سے مل جا تا ہے ایک چمچ آپ نے اس کا ڈالنا ہے اب اس کو اچھے سے مکس کر لیں مکس کر نے کے بعد اب آپ نے کر نا یہ ہے اس پیسٹ کو بالوں میں لگا نا ہے پورے بالوں میں لگا ئیں پھر دو گھنٹے بعد کسی بھی شیمپو سے سر دھو لیں اس کے علاوہ تر پھلا پاؤڈر کی بس ایک سے دو چٹکی رات سو نے سے پہلے کھانی ہے سادہ پانی سے کھا لیں اور سو جا ئیں لگا تار اس کو دو مہینوں تک استعمال کر یں گے ماسک کو ہر ایک دن چھوڑ کر لگا ئیں گےا ور ایک سے دو چٹکی روزانہ کھا ئیں گےا نشاء اللہ آپ کے بال کالے بھی ہو جا ئیں گے اور مضبوط بھی ۔

جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ خوبصورت اور دل کو بھا جا نے والے بال ہر کسی کو ہی پسند ہیں ہر کوئی یہی چا ہتا ہے کہ اس کے جو بال ہیں وہ بہت ہی اچھے ہوں بہت ہی گھنے ہوں بہت ہی شاندار ہوں تو اس مقصد کو حاصل کر نے کے لیے انسان کئی قسم کے ٹوٹکے استعمال کر تا ہے اور ان ٹوٹکوں سے انسان کو فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے ۔ تو آج جو میں نے بالوں کو کالا کرنے کے لیے جو ریمیڈی بتائی ہے وہ بہت ہی خاص ہے ۔ اس ریمیڈی کو بالوں کو کا لا کرنے کے لیے ضروری استعمال کیجئے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.