بیوی کو شاپنگ کروانے سے کیا ہوتا ہے؟

اہل مغرب نے اسلام میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت پروپیگنڈا کر رکھا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس طرح کے حقوق اسلام نے خواتین کو دیئے ہیں اس کا تصور دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا۔قرآن و حدیث کی تعلیمات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہترین خاوند اسی شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنی اہلیہ کی تمام ضروریات اپنی حیثیت کے مطابق پوری کرتا ہے۔اسلام میں عورت کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ مرد کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ چاہے تو اپنی اہلیہ کے اخراجات اٹھائے اور چاہے تو اس پر ہی اِن کا بوجھ ڈال دے، بلکہ اس پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے اخراجات کا مناسب طور پر اہتمام کرے،

البتہ اسے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق جتنا ممکن ہو خرچ کرے۔ خصوصاً جب کوئی خاتون بچے کی پرورش کر رہی ہو تو اس کی تمام ضروریات کا بہترین ممکن طور پرخیال رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔اسلام نے گھریلو مسائل کے بطریق احسن حل کے لئے یہ اصول بیان کر دیا ہے کہ محدود ذرائع والا خاوند اپنی اہلیہ پر اپنے محدود ذرائع کے مطابق اخراجات کرے اور جو صاحب حیثیت ہے اس پر لازم قرار دیا گیا ہےکہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کھل کر خرچ کرے۔ یعنی مرد بخل سے کام نہ لے بلکہ جہاں تک اس کی گنجائش ہو اہلیہ کی جائز ضروریات کے لئے بخوشی خرچ کرے

( کسی بھی عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں ) سنن ابوداود کتاب البیوع باب نمبر ( 84 ) ، سنن نسائی الزکاۃ باب ( 58 ) مسنداحمد ( 2 / 179 ) سنن ابن ماجۃ ( 2 / 798 ) ۔اورایک روایت میں ہے کہ جب خاوند بیوی کی عصمت کا مالک بن جائے تواس کے لیے اپنے مال میں کچھ بھی جائز نہيں ) ترمذی کے علاوہ باقی پانچ نے اسے روایت کیا ہے ۔یہ اوراس سے قبل والی حدیث اس کی دلیل ہے کہ بیوی کے لیے جائز نہيں کہ وہ خاوندکی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف کرسکے ، اوراس میں یہ ظاہر ہے کہ عورت کےلیے اپنے مال میں تصرف کرنے لیے خاوندکی اجازت شرط ہے ، اس قول کے قائلین نے ثلث سے زیادہ کی شرط دوسری نصوص کی وجہ سے لگا‏ئي ہے ، جن میں یہ ہے کہ مالک کے لیے صرف ثلث اوراس سے کم میں وصیت کرنے کا حق حاصل ہے اس سے زيادہ کی وصیت نہیں کرسکتا لیکن اگرورثاء اجازت دیں تو پھر کرسکتا ہے ۔

جیسا کہ سعدبن ابی وقاص رضي اللہ تعالی عنہ کے قصہ میں میں جو کہ مشہور ہے اس میں ہے کہ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے سارے مال کے صدقہ کے بارہ میں پوچھا توآپ نے اجازت نہ دی اورجب دو ثلث کا پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی نہیں ہی کہا اورجب انہوں نے ثلث کے بارہ میں پوچھا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ثلث ٹھیک ہے اورپھر ثلث بہت ہے ۔ صحیح بخاری و مسلم ۔اورقیاس ميں ان کی دلیل یہ ہے کہ :خاوند کا حق اس کے مال سے بھی متعلق ہے جس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے عورت سے اس کے مال اوراس کی خوبصورتی وجمال اور اس کے دین کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے ) اسے ساتوں نے روایت کیا ہے ۔اورعادت ہے کہ بیوی کے مال کی وجہ سے خاوند اس کا مہر بھی زيادہ کرتا ہے اوراس میں دلچسپی لیتااوراس سے نفع حاصل کرتا ہے ، اورجب اسے تنگي پیش آجائے تووہ اسے مہلت دے دیتا ہے ، تواس طرح یہ مريض کےمال سے وارثوں کے حقوق کی جگہ ہوا ۔ دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 4 / 514 ) ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.