دھوکہ ۔۔۔!!

تعلق کی کتاب میں پہلا لفظ ایمانداری کا تحریر نہ ہوتو، آخری صفحے پرجدائی مقدر بن جاتی ہے۔ محبت کی ڈوری ، وفاؤں کے دھاگے ، اگر ٹوٹ جائیں تو جڑتے نہیں ہیں۔ آنسوؤں کی ضمانت بھی جہاں کام نہ آئی وہ شخص لفظوں کا یقین خاک کرے گا؟ جو سب کے سامنے آپ کو قبول نہ کرپائے ، وہ تنہائیوں میں بھی آپ پر کوئی حق نہیں رکھتے۔ دو محبت کرنے والوں کی عزت ہمیشہ سانجھی ہوتی ہے۔ لیکن جب دونوں میں سے ایک کو اپنی عزت کی فکر پڑ جائے نا۔۔تودوسرا سنگسار ہو کر رہ جاتا ہے۔

بھوک صرف کھانے کے لیے نہیں لگتی ، بعض دفعہ لفظوں کے لیے بھی لگتی ہے ، اس ایک جملے کے لیے بھی لگتی ہے کہ مجھے تم سے محبت ہے۔ رشتے توڑنا بہت آسان ہے اصل سمجھداری یہ ہے کہ کچھ بھی ہوجائے درگزر کرکے محبت کو قائم رکھا جائے ورنہ رشتہ ختم کرنے کا پچھتاوا آپ کو زندگی بھر سکون سے سونے نہیں دے گا۔ وہ رشتے و اقعی بہت خاص ہوتے ہیں ،

جو ہر ضرورت ، ہرمجبوری ، ہرطرح کے حالات میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ اگرکوئی آپ کی بے انتہاء محبت کے باوجود بھی آپ کو دھو کہ دے کر چھوڑ دیتاہے۔ تو یقین رکھیں آپ کو وہ ملے گا جوآپ کو بے انتہاء چاہتا ہوگا۔ کتاب پڑھنے والی عورت بہت دیر سے محبت پرایمان لاتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ تخیل حقیقت سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ مجھے اب تک معلوم نہیں ہوسکا، یہ محبت کونسا اور کیسا جذبہ ہے بس اتنا دیکھا ہے کہ اس جذبے نے بہت مضبوط مرد کو رلایا بھی ہے

اور بہت انا پرست لڑکی کی انا کو بھی توڑا ہے۔ میں نے اس محبت کے مارے مرد اور عورت دونوں کو روتے دیکھا ہے کہنا بس یہ ہے کہ امید وہاں دیا کر و جہاں پوری کرسکو مجبوریوں کی آڑ میں دل نہ توڑا کرو کیونکہ تم اپنی مجبوریاں تو پہلے سے جانتے ہو۔ محبت میں قربانیاں دی جاتی ہیں ، مانگیں نہیں جاتیں ، قربانیاں مانگنے والے محبت کے دعویدار تو ہوسکتے ہیں حقدار ہرگز نہیں ہوسکتے ۔

ایسی “اذیتیں” کبھی نہیں بھلائی جاسکتیں جو “محبت” کے نام پر دی گئی ہوں۔ ہجرت بہت مجبور ہوکر کی جاتی ہے چاہے گھر سے کی جائےیا کسی کے دل سے ۔ جس سے آپ کو بےپناہ محبت ہواور وہی بندہ مسلسل آپ کی تذلیل کر رہاہو تو ایک وقت آتا ہے جب ہمارے جذبات سختی اختیار کر لیتے ہیں اور کہیں نہ کہیں محبت دب جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.