بہتر ہے تم مگر مچھ کے منہ میں چلے جاؤ لیکن آوارہ عورت کی ۔۔۔؟؟

اگر کوئی کافر بھول کر بھی خدا کو پکارے تو اللہ اپنی بے نیازی کا جلوہ دکھا دیتا ہے بلکہ کبھی ایسی پکار اللہ کے رحمت کے دریا میں ہل چل مچادیتی ہے۔ اور رحمت الہیٰ لپک کر اس کو اپنے دامن میں ڈھانپ لیتی ہے۔ توبہ پر استقامت بھی خدا کی تو فیق سے ہوتی ہے ورنہ انسان جہاں آپس کے عہد وپیمان توڑ دیتا ہے وہاں توبہ توڑتے ہوئے بھی زیادہ دیر نہیں لگاتا۔ نیکی ، بدی کی توفیق خدا کے ہاتھ میں ہے اپنی نیکیوں اور خوبیوں پر مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے نیکی کی توفیق دی ہے

اور تجھے خوبیوں والا بنایا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو اب بھی اس کا الٹ کردے یعنی تجھے بدصورت بنادے اور بد صورت کو تیر ی صورت بنا دے ۔ اپنے رب سے صلح رکھنے والا محشر میں شر من د ہ ذلیل نہ ہوگا۔ اگر تو عقل مند ہے تو رات کو کیے ہوئے گن اہ کی رات کو ہی معافی مانگ لے۔ اللہ کی بارگاہ میں معافی کی نیت سے جو بھی آیا ہے اس کے گن اہ آنسوؤں سے ہی دھو دیے گئے۔ رات کو آنسو بہانے والے کی آبرو اللہ قائم رکھتا ہے۔ جب میرے معاملات ٹھیک ہوں گے تو مجھے بدخواہ دشمن کا کیا غم ؟ نوکر اگر نوکر بن کر رہے تو مالک کو پیارالگتا ہے

ورنہ آقا اسے گدھے کی طرح ہانکے گا۔ اللہ تعالیٰ مخلوق سے زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈر ا جائے اور شر م کی جائے اور وہ ہر وقت ہر جگہ دیکھتا ہے علیم وخبیر ہے یوسف ؑ تو نبی اللہ تھے ان کو تو اللہ نے بچانا ہی تھا عجیب بات تو یہ ہے کہ یوسف ؑ کا دامن پکڑ کر زلیخا بھی بچ گئی۔ کمینوں کی صحبت چھوڑدے ورنہ عزت چلی جائے گی ۔ پرہیز گار لوگوں کا دامن پکڑنے میں شرم محسو س نہ کر۔ تیز چل سستی نہ کر، صیحح چیز دیرسے بھی مل جائے تو غم نہیں کرنا چاہیے

موت نے ابھی تیرے ہاتھ مفلوج نہیں کیے لہٰذا اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوجا۔ اے انسان ! اب دیر نہ کر اپنا دامن گن اہوں سے دھو لے ، نہر بند ہونے والی ہے۔ نیکوں کے پاس بیٹھنے والا بروں کے جال سے نکل جاتا ہے۔ نیک لوگوں کی پیروی کر، تاکہ تجھے نیکی نصیب ہو۔ بہتر یہ کہ تم مگر مچھ کےمنہ میں چلے جاؤ لیکن آوارہ عورت کی بے غیرتی کو برداشت مت کرو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.