حمل کو روکنا اور حمل کو ضائع کرنا اہم طریقے اور معلومات

ماں بننا ہر شادی شدہ عورت کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن بعض دفعہ صورتحا ل پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کے باعث ایک عورت کو حمل ضائع کرنے کے بارے میں، یا حاملہ نہ ہونے کے بارے میں سوچنا پڑ جاتا ہے۔ مذہب اسلام میں ایک عورت شادی کے بعد صرف اس صورت میں حمل ضائع کر سکتی ہے۔ جب اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔ ورنہ غیر ضروری باتوں کو بنیا د بنا کر حمل ضائع کرنے کی اجازت ہمارے مذہب میں نہیں ہے ۔

حمل کوروکنے اور ضائع کرنے کے بارےمیں چند اہم باتوں اور طریقوں کےلیے آپ اس آرٹیکل کو پورا پڑھیں۔ چونکہ آج کل غیر معیاری اور غیر صحت بخش کھانا کھانے کی وجہ سے عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد اینیمیا یعنی خون کی کمی اور ہیپاٹائٹس کا شکار نظر آتی ہے۔ اس لیے ڈاکٹر حضرات یہی مشورہ دیتے ہیں۔ کہ پہلے بچے کے بعد دو سال کا وقفہ ضرور کرنا چاہیے۔ اس وقفے کےلیے بیوی کو شوہر کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا آپس میں مشورہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے۔ کہ قربت سے پہلے شوہر حفاظتی شیلڈ کا استعمال کرنا بھول جاتا ہے۔ یا غیر معیاری شیلڈ کے استعمال کرنے سے عورت حاملہ ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں ماہواری کے آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔

یہ جاننا چاہیے کہ حمل ٹھہر ا ہے یا نہیں ۔ آج کل بازار میں ایسی ٹپس بھی دستیاب ہیں۔ جو ماہواری کی تاریخ کے دوسرے دن ہی حمل ٹھہر نا کا بتادیتی ہیں۔ برتھ کنٹرول پلز یا مانع حمل گولیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ یہ گولیاں انڈوں کو بیضہ دانی تک نہیں پہنچنے دیتیں۔ جس کی وجہ سے انڈے فرٹیلائزر نہیں ہوتے۔ اور عورت کو حمل نہیں ہوتا۔ عام طور پر برتھ کنٹرول پلز مہینے میں دو بار استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ جن کے استعمال میں باقاعدگی اور ایک خاص وقت طے کرنا ضروری ہوتاہے۔ برتھ کنٹرول پلز ہردن کےلیے الگ الگ ہوتی ہیں۔ برتھ کنٹرول پلز میں پائے جانے والے ہارمون ایسٹروجن کے باعث کچھ خواتین کو قہ، الٹی اور سرچکرانا اور ذہنی دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ لہذا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ان میڈیسن کا استعمال بالکل نہیں کرنا چاہیے۔ جولو گ فالج، مرگی اور دل کے امراض میں مبتلا ہوں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

ان گولیوں کا مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ منفی اثرا ت میں الٹی اور متلی اور سردرد اور مثبت اثرات میں بانجھ پن دورہونا، بیضہ دانی میں انڈے بننا اور بعض سکن کے مسائل دو ر ہوجاتےہیں۔ برتھ کنٹرول کرنے کےلیے نس بندی ایک آپشن ہے لیکن ایسا تب کیا جاتا ہے جب مستقل طورپر اولاد پیداکرنے کی خواہش نہ ہو۔ اس کے لیے ایک چھوٹا سا آپریشن کیاجاتا ہے۔ اور سپرمز باہر خارج نہیں ہوتے۔ عورتوں کی فلو پئین ٹیوب مستقل طور پر بلاک کی جاتی ہے۔ اور مستقل طورپر وہ سپرمز حاصل نہیں کر پاتی ۔ حمل کو ضائع کرنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں حمل ضائع کرنا اخلاقی اور غیر شرعی فعل سمجھاجاتا ہے۔ تیرہ ہفتوں کے بعد حمل ضائع کرنے سے ماں کی جسمانی صحت متاثر ہونے کا خدشہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.