امام ابو حنیفہ ؒ کی ذہا نت کا اہم واقعہ

امام ابو حنیفہ دیگر علماء کے ساتھ ایک ایسے آدمی کی دعوت ولیمہ پر تشریف لے گئے جس نے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح دو بھائیوں سے کر دیا تھا۔ اس تقریب کے دوران سر پرست انتہائی پریشانی کے عالم میں مکان سے باہر آیا اور کہنے لگا ہم لو گ سخت مصیبت میں پڑ گئے رات غلطی سے دلہن بدل گئی اور ایک شخص دوسری عورت سے صحبتی ہوا ہے سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے فر ما یا کوئی مضائقہ نہیں حضرت عمر معا ویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح کا ایک سوال بھیجا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ ہر شخص پر صحبت کی وجہ سے مہر واجب ہے اور ہر عورت اپنے شوہر کے پاس چلی جائے لوگوں نے اس جواب کو پسند کیا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ خاموش تھے ۔ مظہر نے اما م ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کچھ فر ما ئے صوفی الر حمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اس کے سوا اور کیا کہیں گے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فر ما یا کہ دونوں لڑ کوں کو میرے پاس لاؤ دونوں حاضر کیے گئے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ہر ایک سے پو چھا کہ رات تم جس عورت کے پاس رہے وہ تم کو پسند ہے دونوں نے ہاں میں جواب دیا پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے لڑ کیوں کے نام در یافت فر ما ئے اور مسئلہ کا یہ حل تجویز کیا کہ دونوں مردوں کا نکاح جن عورتوں سے ہوا تھا ان کو طلاق دے دے اور ہر ایک اس سے نکاح کر لے جس سے اس نے صحبت کی ہے۔

لوگوں نے آپ ہمت اللہ علیہ کے اس جواب کو بہت عزت سے دیکھا مظہر کھڑے ہوئے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیشانی کو بو سہ دیا اور کہا کیا تم لوگ ایسے شخص کی محبت پر مجھے سلا مت کر تے ہو۔مسعر بن کدام، حسن بن صالح، سفیان ثوری، امام اعظم بھی شریک دعوت تھے، لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک صاحب خانہ بدحواس گھر سے نکلااور کہا ”غضب ہوگیا “زفاف کی رات عورتوں کی غلطی سے بیویاں بدل گئی جس عورت نے جس کے پاس رات گزاری وہ اس کا شوہر نہیں تھسفیان ثوری نے کہا امیر معاویہ کے زمانے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا، اس سے نکاح پر کچھ فرق نہیں پڑتا ہے؛ البتہ دونوں کو مہر لازم ہوگا،مسعر بن کدام،امام صاحب کی طرف متوجہ ہوئے کہ آپ کی کیا رائے ہے ۔

، امام صاحب نے فرمایا پہلے دونوں لڑکے کو بلایا جائے تب جواب دوں گا، دونوں شوہر کو بلایا گیا اما م صاحب نے دونوں سے الگ الگ پوچھا کہ رات تم نے جس عورت کے ساتھ رات گزاری ہے، اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے کیا تمہیں پسندہے ؟دونوں نے کہا: ہاں! تب امام صاحب نے فرمایا: تم دونوں اپنی بیویوں کو جن سے تمہارا نکاح پڑھایا گیا تھااسے طلاق دے دو اورہر شخص اس سے نکاح کر لے جو اس کے ساتھ ہم بستر رہ چکی ہے۔ (عقود الجمان ص:۲۵۵)حضرت سفیان ثوری نے جو جواب دیا تھا مسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی صحیح تھا،وطی بالشبہ کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا ہے؛ مگر امام صاحب نے جس مصلحت کو پیش نظر رکھا، وہ ان ہی کا حصہ تھا؛ اس لیے کہ وطی بالشبہ کی وجہ سے عدت تک انتظار کرنا پڑتا جو اس وقت ایک مشکل امر تھا پھر عدت کے زمانے ہر ایک کو یہ خیال گزرتا کہ میری بیوی دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہے، اور اس کے ساتھ رہنے پر غیرت گوارہ نہ کرتی اور نکاح کا اصل مقصد الفت ومحبت، اتحاد واعتماد بڑی مشکل سے قائم ہوپاتا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.