پیار تو اندھاہوتا ہے

ایک لڑکی بچپن سے اندھی تھی اور ہمیشہ سے اپنے آپ سے اس خامی کے باعث شدیدنفرت کرتی تھی۔ اسے اس دنیا میں سب لوگ برے لگتے تھے اور ہر ایک سے نفرت تھی سوائے اپنے محبوب کے۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتا تھا اور اس کی ہر بات مانتا تھا، وہ کوشش

کرتا تھا کہ اس کو خوش رکھے۔ لڑکی اکثر بولتی تھی کہ کاش میری آنکھیں ٹھیک ہو جائیں ، کوئی مجھے آنکھیں ڈونیٹ کر دے اور میں بھی دنیا کی رنگینیاں دیکھ سکوں۔ جس دن میری آنکھیں روشن ہو گئیں میں تم سے شادی کر لوں گی۔ ایک دن لڑکی کو ہسپتال سے کال آئی کہ آپ کے لیے ڈونر مل گیا ہے، لڑکی بہت خوش ہوئی اور اس لڑکے کو فون کر کے بتایا۔جب لڑکی کا آپریشن ہو گیا اور اس کی آنکھیں کام کرنے لگیں تواس نے ادھر ادھر دیکھا۔وہ اپنے دوست کو تلاش کر رہی تھی۔ ڈاکٹر سے کہا کہ میرے دوست کو کمرے میں بھجوا دیں۔ جب وہ ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا تو لڑکی نے دیکھا کہ وہ بیچارہ بھی اندھا تھا اور ایک عدد لاٹھی کے زریعے کمرے میں آیا تھا۔ لڑکے نے بولا کہ لو تمہاری خواہش پوری ہو گئی اب بتاؤ کہ
تم میرے ساتھ شادی کرو گی۔ لڑکی نے بے حسی سے جواب دیا کہ کیسی پاگلوں والی باتیں کر رہے ہو، میں تم سے کیسے شادی کر سکتی ہوں تم بھی اندھے ہو، پوری زندگی کیسے گزرے گی۔ وہ چپ چاپ ادھر سے چلا گیا۔ کچھ دن بعد لڑکی کو اس کا آخری خط موصول ہوا جس کے طفیل اس بیوقوف کو پتہ چلا کہ اس لڑکے نے اپنی آنکھیں اس بے وفا حلڑکی کو ڈونیٹ کر دی تھیں کہ یہ خوش رہ لے گی۔ خط میں صرف اتنا لکھا تھا : میری آنکھوں کا خیال رکھنا۔ لڑکا پھر کبھی اس لڑکی سے نہیں ملا اور وہ بہت پچھتائی کیونکہ یہی ہوتا ہے جب آپ کسی اصل چاہنے والے کو کھو دیتے ہیں تو بالکل اکیلے رہ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ تو ہر جگہ مل جاتے ہیں جو آپ کو اس وقت پسند کریں جب آپ اپنے عروج پر ہوں لیکن ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو آپ کا ساتھ کٹھن گھڑی میں دیں اور اس وقت آپ کی قدر کریں جب آپ کے ہاتھ با لکل خالی ہوں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.