میری بیوی نے میری بانہوں میں دم توڑا اس کے آخری الفاظ یہ تھے ۔۔۔۔ میں سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا اس وقت اس نے مجھ سے شادی کی اس نے بولا دونوں مل کر محنت کر کے امیر ہوں گے جب اچھے دن آئے تو وہ چلی گئی ارشاد بھٹی اپنی بیوی کی موت کا بتاتے ہوئے رو پڑے ان کی بیوی کون تھی اور ان کی موت کیسے ہوئی جانیں

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اللہ نے فضل کر دیا، وینٹی لیٹر اترا، گھنٹے بعد بیگم نے آنکھیں کھولیں، ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ سر کو حرکت دے کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی، سوا دوگھنٹوں بعد بولنا، پہچاننا شروع کردیا، کیا خوشی، جب ساڑھے 4دنوں بعد بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی، کیا خوشی، جب اس نے بچوں کا پوچھا، کیا

خوشی، جب ہم نے سہارا دے کر اسے بیڈ پر بٹھایا، کیا خوشی، جب میں نے اسے گزرے 4دنوں کی کہانی سنائی، وہ بے یقینی کے عالم میں بولی، اچھا یہ سب ہوچکا ،کیا خوشی، جب رات کو دونوں بچے ماں سے ملنے آئے، بیگم کے گلے لگے دونوں بچے، آنکھوں میں آنسو، منظر ایسا، بیان نہیں کیا جا

سکتا، کیا خوشی، جب اسے رات گئے پہلی بار سوپ کے چند چمچ پلائے گئے، کیا خوشی، جب دو دن آئی سی یو میں ر ہ کر اسے میڈیکل وارڈ میں شفٹ کیا گیا، کیا خوشی، جب پہلی دفعہ سہارا دے کر اسے چلایا گیا، کیا خوشی، جب اسے اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا، گو کہ ان خوشیوں میں کٹھن لمحے بھی آئے، جیسے جب وینٹی لیٹر اترا، اگلا ایک گھنٹہ جان سولی پر لٹکی رہی، ہم ڈرے، سہمے ہوئے، ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا، اگر ایک ڈیڑھ گھنٹے میں آنکھیں نہ کھولیں، رسپانس نہ دیا، آکسیجن لیو ل، بلڈ پریشر کنٹرول میں نہ رہا، وینٹی لیٹر دوبارہ لگانا پڑے گا،

وہ ایک گھنٹہ، کیا اذیت ناک انتظار، بیان سے باہر، لمحے وہ بھی کٹھن جب ڈاکٹروں سے سنا، وہ وینٹی لیٹر تک پہنچی septic shockکی وجہ سے، وجہ بنی وہ پتھری جس نے پتے سے نکل کر کئی شریانیں بلاک کر دیں، لیکن اب بھی خطرہ ٹلا نہیں، ایک اور پتھری ابھی تک پتے میں موجود، پھر پورے جسم میں انفیکشن بھی، لمبے عرصے تک ادویات، اینٹی بائیوٹک پر رہنا پڑے گا،

مگر یہ کٹھن لمحے اس لئےکٹھن نہ لگے کیونکہ End result اچھا نکلا، ہم خوش، بیگم موت کے منہ سے واپس آ گئی۔بیگم گھر آئی، ہم نے گھر کا ایک کمرہ اسپتال بنا دیا، چوبیس گھنٹے کیلئے تربیت یافتہ نرسیں موجود، روزانہ ڈاکٹروں کے وزٹ، ہر 4گھنٹے بعد انجکشن، ہر چھ گھنٹوں بعد مختلف قسم کی ڈرپس، ہر آٹھ گھنٹے بعد اینٹی بائیوٹک، ہر لمحے آکسیجن، بلڈ پریشر کی نگرانی، علاج، پرہیز، لمحہ بہ لمحہ نگرانی، بیگم کا مورال، یہ جان جوکھوں کا کام مگر چونکہ

بیگم گھر پر، ہمارے درمیان، ہم بہت خوش، بہت مطمئن، لیکن ہمیں کیا خبر، ہمیں کیا معلوم، ہماری خوشیاں عارضی، ہمارا اطمینان وقتی، اوپر آسمانوں پر کچھ اور ہی لکھا جا چکا، کچھ اور ہی فیصلہ ہو چکا، ہیو ی اینٹی بائیو ٹک، مسلسل انجکشن، بھانت بھانت کی دوائیاں، بیگم کا معدہ، جگر متاثر ہونے لگا، اس کا کھانا پینا چھوٹ رہا، ہر وقت ہنگامی صورتحال، کبھی بلڈ پریشر اتنا نیچے کہ جان کے لالے پڑ جاتے، ہم بھاگم بھاگ اسپتال پہنچ جاتے، کبھی آکسیجن لیول اتنا نیچے، ہمیں اسپتال جانا پڑتا، اس کے علاوہ آٹھ دس ٹیسٹ ایسے جو دن میں دو مرتبہ ہوتے، ان ٹیسٹوں کی رپورٹیں آتیں، کوئی نہ کوئی رپورٹ گڑ بڑ ہوتی، جسم میں کبھی کوئی چیز کم نکلتی تو کبھی کوئی شے زیادہ، بار بار اسپتال جانا پڑتا، یہاں یہ بتاتا چلوں، اسی بھاگم بھاگ کے دوران ہم نے لاہور، کراچی، لندن، امریکہ سب ڈاکٹروں کی رائے بھی لی، کئی کو آن لائن چیک بھی کروایا، معدے، جگر کے حوالے سے پاکستان کا

کوئی متبادل ادویات والا ڈاکٹر، حکیم، سیانا نہ چھوڑا، دنیا بھر میں دعائیں کروائیں، صدقے دینے کی انتہا کر دی مگر صورتحال دن بدن خراب، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم بے بس۔ہیوی اینٹی بائیوٹک، بیگم کا جگر شدید متاثر، اسے یرقان ہوا، اب اک عجیب سی صورتحال، جسم میں ا نفیکشن، اینٹی بائیوٹک ضروری، مگر اینٹی بائیوٹک نہیں دے سکتے کیونکہ جگر جواب دے رہا، ہمارے ڈاکٹر جو چڑیا کو توپ سے مارنے کیلئے مشہور، ان کی ہیوی اینٹی بائیوٹک نے بیگم کے معدے، جگر کا سواستیاناس کر دیا تھا، ہم اسلام آباد کے دو پرائیویٹ اسپتالوں کے درمیان فٹ بال بن چکے تھے، کبھی ایک اسپتال تو کبھی دوسرے اسپتال، گو کہ میں بیگم کا مسلسل حوصلہ، ہمت بڑھا رہا، اسے مسلسل تسلی دے رہا، اسے کسی نہ کسی طرح گاڑی میں بٹھا کر روزانہ ڈرائیو پر لے جا رہا، مگر شاید اب اسے پتا چل رہا تھا کہ کچھ اور ہونے والا، وہ مجھے باربار کہہ رہی، اگر مجھے کچھ ہو گیا، میرے بچوں کا خیال رکھنا، اگر مجھے کچھ ہو گیا، اپنا خیال رکھنا، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرا جو کچھ سب کارِخیر کے کاموں میں لگا دینا، میر اسکول چلاتے رہنا، جو مسجدیں زیرِ تعمیر انہیں مکمل کروانا، اگر مجھے کچھ ہو گیا، میں نہ رہی، یاد رکھنا میں جہاں بھی ہوئی تمہیں، بچوں کو بہت مس کروں گی، تم سب کا انتظار کروں گی، میں اسے ٹوکتا، روکتا، تسلی دیتا، کہتا، بے وقوفوں والی باتیں مت کرو، تم نے لمبا جینا، ابھی ہم نے مل کر بہت کچھ کرنا، ہمت، حوصلے سے کام لو،

اچھا و قت نہیں رہا تو یہ برا وقت بھی نہیں رہے گا، مگر بیگم کی صورتحال ایسی، تسلیاں، حوصلے دیتے ہوئے میں بڑی مشکل سے آنسو روکتا اور اکثر جب میری آواز بھر انے لگتی، میں بات بدل کر فون کے بہانے کمرے سے نکل جاتا۔اب بیگم کا جگر نہ صرف کام کرنا چھوڑ چکا بلکہ دل ،دماغ، گردوں، پھیپھڑوں پر بھی اثر انداز ہو رہا، پتے میں پتھری الگ پریشانی، جسم میں ا نفیکشن الگ چیلنج، ایک شام دو تین ڈاکٹر دوستوں نے مشورہ دیا، سی ایم ایچ پنڈی میں معدے، جگر کے بہت اچھے ڈاکٹر، ایک بار وہاں سے بھی چیک اپ کراؤ، میں اگلے دن بیگم کو لیکر سی ایم ایچ گیا، تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم نے یہ کہہ کر پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی، بہت دیر ہو چکی، ہم ایک کوشش کریں گے مگر ساتھ ساتھ ہمیں جگر ٹرانسپلانٹ کروانے کا عمل بھی شروع کرنا ہو گا، بیگم کو سی ایم ایچ میں داخل کر لیا گیا، مگر ہرگزرتے دن کے ساتھ صورتحال آؤٹ آف کنڑول ہورہی تھی، جگرجسم کے دوسرے اعضاء کو مسلسل متاثر کررہا تھا، ا نفیکشن آؤٹ آف کنڑول ہو رہا تھا، غالباً پانچویں دن، شام کو معائنے کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم نے مجھے بلایا، کہا، صورتحال ٹھیک نہیں، آپ کی اہلیہ کو آئی سی یو میںشفٹ کرنا پڑے گا، میں نے کہا ،وہ کریں جو اسکے لئے بہتر، بیگم کو آئی سی میں یو شفٹ کر دیا گیا، وہاں بمشکل دن گزرا، رات کو بھگڈر مچ گئی، بیگم سانس نہیں لے پار ہی تھی، تمام ترکوششوں کے بعد جب کچھ نہ ہوا تو ہنگامی طور پر وینٹی لیٹر لگا دیا گیا، میں ایک با ر پھر آئی سی یو میں، بیگم ایک بار پھر وینٹی لیٹر پر، دو ماہ، وینٹی لیٹر سے بات پھر وینٹی لیٹر پر، میں ہکا بکا، حیران، پریشان آئی سی یو میں سر جھکائے بیٹھا ،آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.