بیوی کو پکڑ ا آفس کولیگ کے گھر سے سبق آموز سچی کہانی۔۔

راحیلہ سے میری دوستی تھی ۔ وہ بہت اچھی عادت کی تھی۔ بد قسمتی سے اس کی شادی شوکت نامی آدمی کے ایک پڑوس سے ہوگئی تھی۔ ہم تو جانتے تھے کہ یہ شخص سخت مزاج اور شکی ہے۔ بے چاری راحیلہ کے والدین نہیں جانتے تھے۔ اس کے والد منان صاحب کے چار بیٹے تھے۔ ان میں راحیلہ سب سے بڑی تھی۔ ان کے ایک واقف کا ر نے شوکت کا رشتہ بتایا۔ شوکت کی پہلی بیوی چلی گئی تھی

اور اب وہ دوسری شادی کامتمنی تھا۔ وہ ایک سرکار ی محکمے میں کلرک تھا۔ بوڑھے والدین اور د و بھائی کالج میں زیر تعلیم تھے۔ اس کے گھر والے تو ٹھیک تھے ۔ لیکن شوکت کے اکڑ پن کی وجہ سے جو بھی دیکھتا تھا وہ کتراتا تھا۔ شاید اس کی پہلی بیوی اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ منان صاحب کے دوست جس نے رشتہ کروایا۔ انہوں نے ان کی بہت تعریف کی تھی۔ تاہم شوکت کے گھر والے بھی بہت سیدھے سادے لوگ تھے۔ دونوں گھروں کے بزرگ آپس میں ملے۔ ایک دوسرے سے بات چیت کی تو منان صاحب نے بیٹی کے رشتے کےلیے ہاں کردی۔ یوں راحیلہ بیاہ کر ہمارے محلے میں آگئی۔ اس نے آتے ہی

گھر سنبھال لیا۔ شوہر کا ایک اچھی بیوی کی مانند خیال رکھا۔ اس کی سلیقہ شعاری سے بکھرا ہوا گھر سنبھل گیا۔ جلدی اللہ نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی سے نواز دیا۔ اب وہ شوکت کو اتنا دھیا ن نہ دے پاتی کیونکہ اس کو گھرداری کا بھی خیال رکھنا پڑتا۔ ا س سے شوکت اس سے الجھنے لگا۔ اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چک چک کرنے لگا۔ اس کے والدین نے سمجھایا تم نے پہلے ہی ایسے ہی اپنا گھر بربا د کیا ہے۔ ذرا غصے پر قابو رکھو اب تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ کسی کی نہ سنتا کیونکہ بدمزاجی اس کی فطر ت بن چکی تھی۔ ایک روز وہ مجھ سے کہنے لگی تانیہ اگر تمہارے آفس میں جگہ ہوتو نوکری دلوا دو

گھر کے حالات کافی حدتک ٹھیک ہوجائیں گے۔ دراصل شوکت کی تنخواہ کم ہے اور اوپر سے بچوں کا خرچہ۔ اورمہنگائی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ اور روز بروز چڑچڑے ہوتے جارہے ہیں۔ راحیلہ گریجویٹ تھی میں نے اس سے کہا کہ آفس میں منیجر صاحب سے بات کروں گی۔ میں نے منیجر سے بات کی اور کچھ دنوں بعد اس کے کولیگ نے جاب چھوڑ دی اور منیجر صاحب نے کہا کہ جس کی تم نے جاب کی بات کی ہے اس کے ڈاکومنٹس اور سی وی لےآؤ۔ ہمیں ایک خاتون کی ضرورت ہے۔ میں نے راحیلہ کو بتایا اور وہ خوش ہوئی اور اپنے کاغذات مجھے دے دیے۔ منیجر صاحب نے دو روز بعد اس کو بلایااور

انٹرویو کے بعد نوکری کےلیے تقرر کر لیا۔ ا ب راحیلہ پر دوہری ذمہ داری تھی۔ اب وہ آفس کے بعد گھر کے ذمہ داری بھی سنبھالتی تھی۔ انہیں دنوں ایک اور سیٹ خالی ہوئی اور ایک نیا جونیئرمنیجر سیٹ پر آگیا۔ جس کا نام شہاب تھا۔ وہ کمپیوٹر کا کام جانتے تھے۔ ان دنوں کمپیوٹر نیانیا آیا تھا۔ اور ہمارے آفس میں چند ہی لوگ کام کرتے تھے۔ ان میں شہاب صاحب بھی تھے۔ اور ان سے کہاگیا کہ ہم خواتین کو بھی کمپیوٹر کا کام سکھائیں گے۔ لہذا ایک دن مجھے اور راحیلہ کی رہنمائی کرنے لگے۔ ایک روز باتوں میں معلوم ہوا کہ شہاب صاحب کی شادی نہیں ہوئی ۔ راحیلہ نے پوچھا آپ کہاں رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں

ایک ہوٹل میں رہتا ہوں۔ اگر کوئی چھوٹا سا مکان مل جائے تو وہاں چلاجاؤں۔ میں نے کہا میرے بھائی کے دوست کا ایک خالی مکان ہے۔ اور اس کی چابی میرے بھائی کے پاس ہے۔ ان کا دوست تین سال کےلیے بیرون ملک گیا ہوا ہے۔ میں نے بھائی سے بات کی تو انہوں نے کہا ہاں ! مل سکتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں بات کی اور وقت طے کی۔ پھر میرے بھائی نے مکان دکھا دیا جو ہمارے گھر سے اگلے چوک پر تھا۔ایک روز ا س کا بیٹا شدید بیمار تھا۔ اس نے اپنے

بیٹے کی خاطر چھٹی لی اور جلد ی گھرجانے کو ہوئی۔ تبھی شہاب صاحب نے کہا اگر برا نہ مانو تو میں تم کو گھر چھوڑ دوں۔ کیونکہ میرے والد صاحب بھی خانیوال سے آرہے ہیں۔اور وہ اس کے ساتھ چلی گئی ۔ بد قسمتی سے اس کا شوہر اسی وقت آفس سے گھر آرہا تھا۔ اس نے راحیلہ کو گاڑی سے اترتے دیکھ لیااور پھر کیا ہوا جو ایک غلطی سر زد ہوگئی اس کی معافی نہیں تھی۔ بہر حال اس غلطی کی سز اتو ملنی ہی تھی۔ اس روز شوکت نے اپنی بیوی پر بہت سنگین الزام لگایا۔ کہاکہ تم ملازمت کے بہانے یاروں سے ملتی ہو۔ اس کے بعد شوکت روز بیوی سے جھگڑنے لگا۔ اور محلے والے بھی سنتے کہ شوکت اپنی

بیوی کو عجب القابات سے پکارتا ہے۔ لوگوں کو پھر بھی راحیلہ پر شک تھا۔ لیکن میں جانتی تھی کہ وہ ایسی نہیں ہے۔ کہ وہ اپنے گھر اور بچوں کے سکھ کی خاطر کررہی تھی۔ اگر تم کہتے ہو تو میں ملازمت چھوڑ دیتا ہوں ۔ میں نے تمہارے کہنے اور ہاتھ بٹانے پر ملازمت کی تھی۔ اس نے کہا مجھے شوق نہیں ہے ایسی کمائی کا۔ جو اپنی عزت بیچ کر گھر میں لاتی ہو۔ راحیلہ اتنے سخت الفاظ سے گھبرا کر استعفیٰ دے دیا۔ اس نے نوکری چھوڑی تو شوکت اور طیش میں رہنے لگا۔ اس نے راحیلہ پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ ایک دن شہاب صاحب نے پوچھا مسز فہیم ! یہ تو بتائیے کہ راحیلہ نے نوکری کیوں چھوڑ دی ہے؟ میں

نےکہا آپ کی وجہ سے چھوڑی ہے۔ جو ا س دن آپ نے اس کو گھر پر چھوڑا تھا۔ اس کے شوہر نے دیکھ لیا۔ اس کا شوہر بہت سخت مزاج او ر شکی آدمی ہے۔ اس نے راحیلہ کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اس کے والدین نے بھی کوشش کی ہے اسے سمجھانے کی۔ شاید اسی وجہ سے اس کی پہلی بیوی نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ شہاب صاحب نے کہا کہ اگر تمہارا شوہر میری وجہ سے تمہیں طلاق یا چھوڑ دے ۔ تو مجھ سے رابطہ کرنا۔ میں نے راحیلہ کو بتا دیا۔ایک دن ہی نہیں گذرا تھااور راحیلہ سے بد سلوکی کی اور گھر سے نکال دیا۔رات کے دس بجے تھے۔ نہ وہ گھر جاسکتی تھی۔ تو وہ میرے پاس گھرآئی۔ میں نے کہا رات

میرے گھر رکو ۔ صبح شوکت کو سمجھائیں گے۔ بہرحال رات گزرگئی۔ صبح ہوئی اور میر ے شوہر فہیم شوکت کے پاس گئے۔ تم نے اپنی بیوی کو خود نکالا تھایا خود نکل گئی تھی ۔ اس نے کہا میں نے خود نکالا تھا۔ خداجانے اس کے شادی سے پہلے کیا سلسلے تھے۔ اب اس کے کیاسلسلے ہیں؟ میں نہیں رکھ سکتا ایسی بیوی سے۔ اور بچوں کو بھی وہ سنبھالے گی۔ ایسے جواب نے میرے شوہر کو لاجواب کردیا۔ اور گھر آکر کہا کہ ایسے شوہر کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔ اگر اس نے راحیلہ کو رکھ بھی لیا تو اس کی زندگی اجیرن رکھے گا۔ ] ہم نے راحیلہ کو اس کے والدین کے گھر چھوڑ دیا۔ اور بچوں کے بغیر راحیلہ نہیں رہ

سکتی تھی۔ اس کے والدین نے آکر داماد سے صلح کرنے کو کہا۔ شوکت نے بچوں کو حوالے کردیا۔ اور کہا کہ میں تمہاری بیٹی کو کاغذات بھیج دوں گا۔ و ہ بچوں کو چھوڑ کر گھر آگئے اور اس نے کہا بچوں کو تو لے آتے ۔ اس کے والدین نے کہا کہ ہم بچوں کو اس لیے نہیں لے آئے ورنہ تمہیں طلاق دیدے گا۔ شاید بچوں کی وجہ سے تم پر رحم آجائے۔ کچھ دن بعد راحیلہ میرے پاس دفتر آئی اور کہا کہ بچے مجھے دے دو۔ میں نے کہا کہ تمہار ا شوہر ٹیڑھا آدمی ہے وہ تمہارے بچے مجھے کیسے دے گا۔ راحیلہ کی منت سماجت کے باوجود اس نے بچے اس کے حوالے نہ کیے۔ وہ ایک روز شہاب کے پاس آئی ۔ شہاب صاحب نے کہا دفتر میں کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ گھر چلو وہیں سب باتیں کرتے ہیں۔ وہ گھر آئے اور کہا کہ اگر تم اپنے بچوں کےلیے اتنی بے چین ہو تو اس کے گھر خود چلی جاؤ۔ ممکن تمہارے ساس سسر اس کو منا لیں اور تم کو گھر رکھ لے۔ اگر نہیں مانا تو میں تمہیں عدالت سے تمہیں بچے دلوانے میں مدد کروں گا۔ وہ

وہاں سے شوکت کے گھر چلی گئی اور ساس نے گھر بٹھایا اور راحیلہ نے اپنے بچوں کو گلے لگا۔ اس نے اپنی ساس سے کہا کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں رہو گی۔ نہیں تو اپنے بچوں کو ساتھ لے کر جاؤں گی۔ شوکت کے والدین نے کہا کہ شوکت نے تمہارے بچوں کو چھوڑ دیا تھالیکن تمہارے والدین نے منع کردیا تھا۔ ناجانے اس میں ان کی کیا مصلحت تھی؟ تمہیں تو پتہ کہ شوکت سر پھڑا ہے اب وہ تمہیں اپنے بچے نہیں دے گا۔ راحیلہ وہ ٹھہر گئی۔ رات کو شوکت نے آکرراحیلہ کو دیکھا تو آگ بگو لہ ہوگیا۔ جب میں نے تم کو گھر سے نکا ل دیا تو کیا اب بچوں کو اغواء کرنے آئی ہو۔ غرض اس نے راحیلہ کو گھر سے نکال

دیا ۔ اس بار وہ ہمارے گھر نہیں آئی اور شہاب صاحب کے گھر چلی گئی ۔ شہاب صاحب اسے دیکھ کر کہاتم جانتی ہو کہ میں اکیلا رہتاہوں۔ رات کے وقت ہے خیر آگئی ہو تو آجاؤ۔ شہاب صاحب نے بیٹھک میں بٹھایا اور کہا کہ کیا کہنا ہے؟ راحیلہ نے کہا میں نے آپ کے کہنے پر اس کے گھر گئی لیکن شوکت زور آور ہے۔ آپ نے عدالت کی بات کی تھی۔ مجھے میرے بچے دلوا دو۔ اس نے کہا اس وقت تم اپنے والدین کے گھر جاؤ ۔ اور میں تمہیں اپنے والدین کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔ اسی وقت گھر پر دستک ہوئی۔ اور شوکت نے اس کا پیچھا کیاکہ اس وقت وہ کس کس کے پاس جاتی ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ محلے کے بلاک

کے اس گھر میں گئی ہے تو اس نے محلے کے بندوں کو اکٹھا کیا۔ شہاب نے اس وجہ سے دروازہ بند کر دیا۔ کہ کوئی اس کے جاننے والا دوست نہ آجائے۔ شہاب نے پوچھا کون ہو؟ شوکت اور کچھ بندوں نے کہا کہ دروازہ کھولو۔ شہاب اور راحیلہ دونوں تھر تھر کانپنے لگے۔ جیسے ایک مجمع پتھر لیے گھر میں کھڑا ہو۔ اس کے بیٹھک کی کھڑکی سے تھوڑا سا نظر آرہا تھا۔ تو دیکھا تو راحیلہ اور شہاب کو کھڑے ہوئے دیکھ لیا۔ اب تو اس کا مرجانا یقینی تھا۔ جان سے زیادہ عزت کو جھٹکا ہو۔ آدمی مر جانے کا ہی سوچتا ہے۔ مگر موت بھی اپنے بس میں کیوں ہوتی ہے؟ شہاب کے اچانک یاد آیا کہ اس کے بھائی کا دوست یہاں

پر ڈی ایس پی تھا۔ اس نے اپنے بھائی کو فون پر بتایا اور دوست کو فون کیا اور خوش قسمتی سے ڈی ایس پی نے فون اٹھایااور پولیس کی وین وقت پر پہنچی۔ پولیس نے ان کو تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے کہا جو معزز لوگ ہوں وہ تھانے آجائیں۔ جب وہ تھانے پہنچے تو انہوں نے خواتین کو خواتین والے کمرے میں بٹھا دیا۔ شوکت نےکہا کہ یہی وہ بدمعاش ہے جس نے میری بیوی کو ورغلایا ہے۔ میرا گھر برباد کیا ہے۔ اور اب یہ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ دونوں کے والدین کو بلایا گیا۔ تاکہ تصدیق اور شناخت ہو۔ خاتون پردہ پوش ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی کام درپیش ہواس لیے آئی ہو۔ جو قصور وار ہوگا اس کو سزاضرور

ملے گی۔ مکمل طور پر انصاف ملے گا۔ شوکت کے والدین نے آنے سے انکا ر کر دیا۔ راستے کے سبب راحیلہ کے والد صبح پہنچے۔ شہاب صاحب نے تمام واقعہ اپنے بھائی کو بتا کر سنا دیاتھا۔ رات کے دس بجے تھے اور یہ خاتون برقعہ اوڑھے بیٹھے تھی۔ یہ پہلے میرے آفس میں کام کرتی تھی۔ اور اب اپنے بچوں کے سلسلے میں مجھ سے مدد لینے آئی تھی۔ بہرحال راحیلہ کو اس کے شوہر نے اگلی صبح طلاق دیدی۔ اور بچے بھی اس کے حوالے کردیے۔ راحیلہ کا باپ اس کو لے کر واپس خانیوال آگئے۔

ادھر شہاب صاحب نے ملازمت چھوڑدی۔ اور ہمارے شہر کو خیر آباد کہہ دیا۔ چونکہ وہ پہلے سے منگنی شدہ تھے۔ اور راحیلہ اپنی ناقص عقل کی وجہ سے اپنی کی گئی غلطی کی سزا بھگت رہی تھی۔ وہ ایک غیر مرد کے ساتھ تو کام کر سکتی تھی۔ مگر اس سے لفٹ لینا اس کا جرم ٹھہر گیا تھا۔ اگر اس دن اپنے بچے کی بیماری کی وجہ سے لفٹ نہ لیتی تو آج اس کی زندگی سکون سے گزر رہی ہوتی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *