قرآن مجید کی سورتیں اورانکی فضیلت،جان کر آپ سبحان اللہ کہ اُٹھیں گے

سورة فاتحہ نور ھے- چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بنان فرماتے ھیں-” ایک مرتبہ جبریل وعلیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیٹھے تھے کے انہوں نے اوپر سے ایک دروازہ کھلنے کی زور دار آواز سنی،سورة فاتحہ نور ھے- چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بنان فرماتے ھیں-” ایک مرتبہ جبریل وعلیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیٹھے تھے کے انہوں نے اوپر سے ایک دروازہ کھلنے کی زور دار آواز سنی،

سر اٹھایا اور فرمایا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ ھے جو آج سے پہلے کبھی نھی کھولا گیا-اس سے ایک فرشتہ زمین پر نازل ھوا ھے جو آج سے پہلے کھبی نہیں نازل ھوا- اس نے حاضر ھو کر سلام عرض کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلمسے کہا کہ آپ کو دو نور مبارک ھوں آپ سے پہلے یہ نور کسی نبی کو عطا نہی کیے گیے ایک سورة فاتحہ اور دوسرا سورة بقرہ کے آخری دو آیات جو بھی یہ دو آیات پڑ ھے گااسے اس کی مانگی ھوئی چیز ضرور عطا کی جاے گی-(صیح مسلم 806)سورةبقرہسورةبقرہ کی تلاوت گھر کو جادو آسیب اور شیطان مردود کے حملے سے محفوظ رکھتی ھے- چنانچہ فرمان نبوی ھے کہ” جس گھر میں سورة بقرہ کی تلاوت کی جاتی ھے شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ھے

”(صیح مسلم )ایک دوسری روایت میں بھی اس طرح کی فضیلت بیان ھوئی ھے اور مزید اس میں اس سورت کے پڑھنے کا حکم بھی مودود ھے۔ جیسا کے فرمان نبوی ھے کہ ” اپنے گھروں میں سورة بقرہ کی تلاوت کیا کرو شیطان اس گھر میں داخل نہی ھو سکتا جس میں سورة بقرہ کی تلاوت کی جاتی ھے ۔”( حسن السلسلة الصحیحة ، صیح الجامع ایلصغیر،مستدرک حاکم)سورة آل عمرانسورة بقرہ اور سورة آل عمران روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی- چنانچہ حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-” قرآن پڑھو کہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرے گا دو نورانی سورتوں بقرہ و آل عمرآن کو پڑھتے رہا کرو

یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے دو سائبان یا دو بادل یا پر کھولے ھوے پرندوں کے دو دوڈاروں کی طرح ھوں گی اپنے پڑھنے والوں کی قیامت کے دن سفارش کریں گی”-(صیح مسلم)سورة ھودسورة ھود آخرت پیدا کرنے والی سورت فرمان نبوی ھے کہ ”مجھے سورة ھود اور اس جیسی سورتوں نے بو ڑھا کر دیا ھے ”قرآن مجیدکی سورتیں اور انکی فضیلت“ ” سورة فاتحہ نور ھے- چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بنان فرماتے ھیں-” ایک مرتبہ جبریل وعلیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیٹھے تھے کے انہوں نے اوپر سے ایک دروازہ کھلنے کی زور دار آواز سنی، سر اٹھایا اور فرمایا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ ھے جو آج سے پہلے کبھی نھی کھولا گیا-اس سے

ایک فرشتہ زمین پر نازل ھوا ھے جو آج سے پہلے کھبی نہیں نازل ھوا- اس نے حاضر ھو کر سلام عرض کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلمسے کہا کہ آپ کو دو نور مبارک ھوں آپ سے پہلے یہ نور کسی نبی کو عطا نہی کیے گیے ایک سورة فاتحہ اور دوسرا سورة بقرہ کے آخری دو آیات جو بھی یہ دو آیات پڑ ھے گااسے اس کی مانگی ھوئی چیز ضرور عطا کی جاے گی-(صیح مسلم 806)سورةبقرہسورةبقرہ کی تلاوت گھر کو جادو آسیب اور شیطان مردود کے حملے سے محفوظ رکھتی ھے- چنانچہ فرمان نبوی ھے کہ” جس گھر میں سورة بقرہ کی تلاوت کی جاتی ھے شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ھے”(صیح مسلم )ایک دوسری روایت میں بھی اس طرح کی فضیلت بیان ھوئی ھے اور مزید اس میں اس سورت کے پڑھنے کا حکم بھی مودود ھے۔

جیسا کے فرمان نبوی ھے کہ ” اپنے گھروں میں سورة بقرہ کی تلاوت کیا کرو شیطان اس گھر میں داخل نہی ھو سکتا جس میں سورة بقرہ کی تلاوت کی جاتی ھے ۔”( حسن السلسلة الصحیحة ، صیح الجامع ایلصغیر،مستدرک حاکم)سورة آل عمرانسورة بقرہ اور سورة آل عمران روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی- چنانچہ حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-” قرآن پڑھو کہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرے گا دو نورانی سورتوں بقرہ و آل عمرآن کو پڑھتے رہا کرو یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے دو سائبان یا دو بادل یا پر کھولے ھوے پرندوں کے دو دوڈاروں کی طرح ھوں گی اپنے پڑھنے والوں کی قیامت کے دن سفارش کریں گی

”-(صیح مسلم)سورة ھودسورة ھود آخرت پیدا کرنے والی سورت فرمان نبوی ھے کہ ”مجھے سورة ھود اور اس جیسی سورتوں نے بو ڑھا کر دیا ھے” (السلسلة الصحیحة ،ترمذی) سورة بنی اسرائیل”حضرت عائشہ رض کا بیان ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھر رات بنی اسرائیل اور زمر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے-”حسن مسند احمد)سورة کھفسورة کھف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے والا دجال کے فتنے سے محفوظ رھے گا- چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے سورة کھف کی ابتدا ئی دس آیات حفظ کر لیں اسے فتنہ دجالسے بچا لیا جاےگا-”(صیح مسلم)سورة سجدہ سورة سجدہ بروز جمعہ نماز فجر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورة سجدہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کا بیان ھے

”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں الَم تنزیل السجدہ اور ھل اتی علی الانسان (الدھر) کی قرات فرمایا کرتے تھے-(صیح بخاری) سورة زمر ”حضرت عائشہ ر کا بیان ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھر رات بنی اسرائیل اور زمر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے-”حسن مسند احمد)سورة فتحسورة فتح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کا ئنات کی ھر چیز سے عزیز تھی- چنانچہ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں جا رھے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے رات کا وقت تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کو ئی جواب نہ دیا انہوں نے پھر سوال کیا لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نا دیا

انہوں نے تیسری مرتبہ سوال کیا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب بھی کوئی جواب نا دیااس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر کی ماں اسے روے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ سوال کیا لیکن آپ نے نے انھیں کسی مرتبہ بھی جواب نہ دیا – حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ھیں کے پھر میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور لوگوں سے آگے بڑھ گیا مجھے خوف تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ھو جاے- ابھی تھوڑی دیر ھی ھوئی تھی میں نے پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے پکار رھا تھا میں نے کہا مجھے خوف تھا ھی کے میرے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ھو جاے بہرحال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا اور سلام کیا آپ نے فرمایا-

” مجھ پر آج رات ایک سورت نازل ھوی ھے-جو مجھےساری کوئنات سے زیادہ عزیز ھے جس پر سورج طلوع ھوتا ھے پھر آپ نے سورة فتحکی تلاوت فرمائی-(صیح بخاری) سورة طورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب میں سورة طور کی تلاوت فرمائی چنانچہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ھیں کہ ،، میں نے نماز مغرب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سورة طور کی تلاوت فرماتے ھوے سنا میں نے کسی اور کو نہ سنا جس کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیاد ہ اچھے ھو-(موطا،صیح بخاری،صیح مسلم)سورة واقعہسورة واقعہ فکر آخرت پیدا کرنے والے سورت ھے-(السلسلة الصحیحة )سورة صفحضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ھیں کہ ” ھم نے اس مو ضوع پر بات کی

کہ کون ھےجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھو کر یہ پوچھے کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ھے لیکن ھم میں سے کوئی بھی نہ اٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف ایک شحص کو بھیجا اس نے ہمیں جمع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سورة مبارکہ یعنی سورة صف پڑھ کر سنا دی- صیح مسند احمد ، دارمی،ابن حنان) سورة جمعہحضرت ابن عباس اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کے ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ اور سورہ منافقون کی تلاوت فرمایا کرتے تھے”(صیح مسلم)سورة منافقون نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورہ سورة منافقون کی تلاوت فرمایا کرتے تھے(جیسا کے درج بالا حدیث میں درج ے)سورة

ملکنبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت ہمیشہ سورہ ملک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے-(السلسلة الصحیحة ،مسنداحمدمستدرکحاکم،ترمزی)سورة ملک اپنے پڑھنے والے کی روز قیامت سفارش کرے گی حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-” قرآن مجید تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ھے جو اپنے ساتھی (یعنی پڑھنے والے) کی سفارش کرے گی حتی کے اسے بخش دیا جاے گا اور وہ سورت ملک ھے-( صیح ابن ماجہ، صیح ابوداود، ترمزی، السنن الکبری للنسائی)سورة دھربروز جمعہ نماز فجر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورة دھر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے چنانچہ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ھے ،،نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورة دھر کی قرات فرمایا کرتے تھے”

Sharing is caring!

Comments are closed.