جنت کی زندگی کیسی ہوگی؟

خلاصہء کلام یہ کہ دنیا مچھر کے پر سے بھی زیادہ حقیر ہے اور دھوکے کا گھر ہے۔ دنیادارِ امتحان ہے جس کا دورانیہ بڑا ہی مختصر ہے اور اس تھوڑےسے وقت میں آج رسول اللہﷺ کی پیروی میں اللہ کی اطاعت وبندگی ہی جنت کے حصول کا صحیح ذریعہ ہے اور یہی وہ کامیابی ہے جس کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے،

اسی نعمت کے حصول کے لیے مقابلہ کرنے والوں کو مقابلہ کرنا چاہیے اور اسی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ بڑی حکمت والا ہے اور اسکی حکمت کا تقاضا ہے کہ جو لوگ اس کو راضی کرنا چاہتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے احکامات ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کے دین کا عَلم لے اس کو نافذ و جاری کرنے کے لیے اٹھتے ہیں ان کے لیے ایک نعمتوں بھرا سلامتی کا گھر بنائے جو کہ اس سے بنایا ہے اور جسے ہم جنت کے نام سے جانتے ہیں۔وہ گھر ہر طرح کی محبوب و مرغوب، پاکیز ہ و لذت والی تمام چیزوں کا مخزن اور تمام بھلائيوں کا مرکز ہے۔ دوسری طرف جو لوگ اللہ اپنی خواہشات اور لذات کو اللہ کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں، انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ ، اس کے رسولوں ، اور اس کے دین کے خلاف بغاوت کا جھنڈا لے کر کھڑے ہوتے ہیں

ان کے لیے رب نے ع-ذ-اب کا گھر بنایا ہے جسے ہم ج-ہ-ن-م کے نام سے جانتے ہیں جو کہ ہر طرح کی مکروہ اور تکلیف دہ چیزوں کا گھر ہے اور ساری ہولناکیوں کا مرکزہے۔ قرآن کی زبان میں یہ دونوں گھر یعنی جنت اور ج-ہ-ن-م دارالقرار ہیں جب کہ ان دو گھروں کے علاوہ تیسرا گھر یہ دنیا ہے جو کہ سنگم کی حیثیت رکھتاہے۔ یہاں سے دونوں منزلوں کے مسافر زاد راہ لیتے ہیں۔ اور یوں دنیا کا ہر شخص آخرت کا مسافر ہے جس کے لیےان دونوں منزلوں (جنت اور ج-ہ-ن-م)کے تعارف کے لیے اسے دنیا میں ہر ایک کے نمونے بکھرے پڑے ہیں۔ یہ خوش رنگ نباتات، پھول، بیل بوٹے اور میٹھے ذائقہ دار پھل، جھرنوں بہتے پانی، اٹھکیلیاں کرتی باد نسیم،حسین و جمیل صورتیں، خوشنما اوردیدہ زیب پیرہن سب جنت کی نعمتوں کا ایک ہلکا سا عکس ہیں اور یہاں کا رنج والم، مشکلیں، پریشانیاں، تکالیف،

گرمی اور سردی ج-ہ-ن-م کی ایک ادنی نشانی ہے۔ یہ بات سمجھ لیجیےکہ دنیا میں نعمتیں آلائشوں کے ساتھ جڑی ہیں ۔جہاں خوشیاں ہیں وہیں غم اور تکالیف بھی ہیں۔ خوشبو کے ساتھ بدبو بھی ہے۔ نعتموں، حسن وآرائش اور جمال کے ساتھ بدمزگیاں، آلائشیں اور گندگیاں بھی ہیں۔ جنت میں یہ ساری نعمتیں خالص ہو جائيں گی۔ وہاں صرف خوشیاں ہوں گی غم نہیں ہوں گے۔ صرف نعمتیں ہوں گی اپنے بھرپور حسن و جمال وپاکیزگی کے ساتھ۔ صرف خوشبوئيں ہوں گی بدبوئیں نہیں۔ نعمتیں اپنی تکمیل کے درجے میں آلائشوں سے پاک کر دی جائيں گی۔ انسانی جسم پی-ش-اب، تھوک، بلغم اور دیگر گندگیوں سے پاک کر دیے جائيں گے اور انسانی دل اور اخلاق نفرت وکدورت، کینہ و حسد اور دیگر ایسی بیماریوں سے پاک ہو جائيں گے. جس جنتی کے اندر جو برائی اس دنیا میں رہی ہو گی وہ برائی اس سے دور کر دی جائے گی

اور یوں جنتیوں کو ہرقسم کی آلائشوں سے پاک کر دیا جائے گا اور جنت کی تمام نعمتیں بھی ان تمام آلائشوں سے پاک ہوں گی جو ہمیں دنیا میں ان نعمتوں کے ساتھ جڑی نظر آتی ہیں۔ یہاں شہد مکھی کے پیٹ اور دودھ جانوروں کے تھنوں سے نکلتا ہے وہاں یہ دریاؤں اور نہروں کی شکل میں جاری ہوں گے۔ غرض جنت میں ہر نعمت اپنےکمال کے درجے میں ہے۔ جنت وہ حسین سرزمین ہے جہاں ابدی راحت و سکون ہے، جہاں دکھ اور تکلیف نام کی بھی کوئی چیز نہیں، جہاں نہ بغض و عداوت ہے، نہ ج-ن-گ و جدل ہے نہ خ-ون-ری-زیاں، نہ تھکاوٹ وبیماری ہے نہ بدصورتی وبڑھاپا اورنہ ہی م-وت۔ جہاں صرف امن اور سلامتی ہے، جہاں گھنے سر سبزباغات، رنگ برنگے پھولوں ، پھلوں اور پودوں می صاف پانی ، دودھ ، ش-ہ-د اور طرح طرح کے شربتوں کے دریا بہتے ہیں اور چشمے پھوٹتے ہیں۔

جہاں کبھی نہ ختم ہونے والا رزق ہے۔ جہاں کے باسی ہیرے موتیوں، یاقوت و زمرد اور سونے چاندی کے محلا ت میں رہتے ہیں اوراس سرزمین میں اکٹھے ہونے والے خاندان کبھی جدا نہ ہوں گے۔ جہاں انبیاء علیہم السلام، صدیقین، ش-ہ-د-اء اور صالحین کی صحبت میسر ہے۔ جہاں دلوں میں صرف محبت ہے، ہمیشہ کی جوانی، خوبصورتی ، نوعمری اور تندرستی ہے۔جہاں ہر تمنا کا پورا کیا جانا ہے، جہاں اللہ کی دائمی رضا و خوشنودی ہے اور جہاں اپنے پیدا کرنے والے کا دیدار اور اس سے ملاقاتیں ہیں۔ جہاں کی زندگی وہ زندگی ہے جس کے پانے والا کبھی کچھ اور نہ چاہے گا۔ جنت تو نعمتوں کا گھر ہے، جہاں رزق کی فراوانی ہے، جہاں رہنے کے لیے باغات اورمحلات ہیں جن کے نیچے طرح طرح کی نہریں بہتی ہیں۔ انسان کو صحت،جوانی، تندرستی، بے فکری اور عافیت میں اپنے خاندان کے ساتھ ہمیشہ رہنے کو اگر ایک غار بھی مل جائے

تو دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ اپنے بچپن ہی کا تصور کر دیکھیے جب ہم بے فکر ہوتے ہیں، ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی اورنہ ہی خدشات اور سوچیں۔زندگی کے اس حصے کا لطف پھر کبھی نہیں آتا بھلے آپ بعد میں کیسی ہی نعمتوں میں کیوں نہ ہوں۔ اپنی آج کی زندگی پر ہی غور کر لیجیے، اول تو محرومیاں اور اگرساری نعمتیں ہوں پھر بھی خدشات انسان کو پریشان کیے رکھتےہیں۔ جنت میں ایسی کوئی فکر اور پریشانی نہ ہوگی اور زندگی کا حقیقی لطف تو وہی لوگ اٹھائیں گے جو جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ جنت دارالسلام ہے یعنی سلامتی کا گھر اور اس میں دائمی سکونت اللہ تمام انسانیت میں سے چھانٹ کر ان کو عطا فرمائے گا جنہوں نے اس دنیا میں رہتے ہوئےاللہ کے سلامتی والے دین یعنی اسلام سے محبت کی، اسے اپنے اوپر جاری و ساری کیا اور اسے کے فروغ و نفاذ کے لیے کوششیں کیں۔

انہی کوششوں کے صلے میں انہیں ہمیشہ رہنے کو وہ معاشرہ نصیب ہو گا جو اسلام یعنی سلامتی والا معاشرہ ہو گا۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بھی اپنے انہی پسندیدہ لوگوں میں شامل فرمائے جن کو وراثت میں ایسی حسین جنت اورجینے کو ایسی بہترین زندگی ملے گی۔ آمین ثم آمین۔ یہی دائمی سلامتی کا وہ گھرہے جس کی طرف ہمارا مہربان رب ہمیں بلا رہا ہے: سورة يونس – 10 {25} وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۲۵ (تم اِس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مُبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دار السّلام کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ اسی کی طرف دوڑنے ، مسابقت کرنے اور اسے پا لینے کی ترغیب ہمیں قرآن حکیم میں دی جا رہی ہے: سورة آل عمران – 3 {133} وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَۙ۰۰۱۳۳ دوڑ کر چلو

اُس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ پرہیزگار لوگوں کے لیے مہیّا کی گئی ہے ۔ سورة الحديد – 57 {21} سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۰۰۲۱ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھےم کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ جنہیں اسلام اس دنیا میں ہی پسند نہ آیا، جنہوں نے غیرِاسلام کو اسلام پر ترجیح دی اور اسلام کی راہ سے روکا، جنہیں اللہ کے فرامین اور احکامات، نصائح ویاد دہانیاں اس دنیا میں ناگوار گزرتی رہیں،

جن کی زندگی اپنے رب سے بغاوت میں گزری وہ کیونکر یہ توقع رکھیں گے کہ دنیامیں اسلام یعنی سلامتی والے دین اور اہلِ اسلام سے نفرت کرنے کے باوجود اللہ ان کو آخرت میں دارالسلام یعنی دائمی سلامتی کا گھر عطا فرمائے گا۔ ایسی گندگی کو تو تمام انسانیت سے چھانٹ کر الگ کیا جائے گا اور پھر اس غلاظت کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ اللہ ہمیں اس سے پناہ دے۔ آئیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا راستہ اختیار کرتے ہیں کہ یہی اسلام ہے، یہی سیدھا راستہ ہےاور یہی سلامتی کی راہ ہے اور اس راہ پر چلنے والوں کی آخری منزل ابدی سلامتی کا گھر یعنی جنت ہے۔حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے تین بار اللہ سے جنت طلب کی اور تین مرتبہ د-و-ز-خ سے پناہ چاہی اس کے حق میں یہ گواہی ق-ی-ا-مت کے روز جنت اور د-و-ز-خ بھی دیں گے۔ آئیے اپنے بے انتہا مہربان رب سے توبہ کرتےہیں اوردعا مانگتے ہیں

کہ وہ ہمیں معاف فرما دےاورہماری کوتاہیوں اور گ-ن-ا-ہ-وں سے درگزر فرما کر جنت کو ہمارا ابدی ٹھکانا بنا دے: اللھم انا نسالک الجنۃ الفردوس ونعوذبک من عذاب النار (اے اللہ ہم تجھ سے جنت الفردوس کا سوال کرتے ہیں اور آگ کے ع-ذ-اب سے تیری پناہ مانگتے ہیں). اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی وناصر ہو. آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.