گالوں کی سرخی کےلئے، جنت کے پھل انجیر کے 3دانوں کاکمال دیکھیں، یہ نسخہ ضرور آزمائیں

خون کی فراوانی ایسی کہ گالیں تک لال ہو جائیں ، جنت کے پھل انجیر کے 3دانوں کاکمال ، کھانے کیسے ہیں ؟ جانیں . . ..انجیر اور اسکے فوائد جیسے ہر پھل کے کوئی نہ کوئی فائدے ہیں ایسے ہی انجیر بھی بہت فائدہ مند پھل ہے اس میں کوئی بیج یا چھلکا نہیں ہوتا شاید اسی لئے اسے جنت کا پھل بھی کہتے ہیں. کہا جاتا ہے

زمین پرسب سے پہلا پھل انجیر کا ہی دریافت ہوا تھا پاکستان میں تازہ انجیر کے بجائے اسے خشک کر کے اور پچکا کر لوگوں تک پہنچاجاتاہے کیونکہ یہ نرم پھل ہے اسلئے زیادہ عرصے تک اپنی اصلی حالت میں نہیں رہتا. اسلئے اسے رسی میں پرو دیا جاتا ہے تاکہ فروخت ہوسے. انجیر انسانی جسم کو موٹا کرتی ہے،اور چہرے کو تازہ اور سرخ بناتی ہے.انجیر ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتی ہے اس لئے فربہی مائل افراد اگر وزن کم کرنا چاہیں ہو چار سے پانچ دانے کھا سکتے ہیں کیونکہ اس میں حراروں یعنی فیٹس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے. خون کے دباؤ کے شکار افراد میں سوڈئم اور پوٹاشیم کی مقدار اپنے توازن میں نہیں ہوتی ہے ایسے میں انجیر کا استعمال بے حد مفید ہے

کیونکہ یہ خون فشار کو بھی کم کر سکتی ہے. انجیر باقی پھلوں کے مقابلے پر بہتر طور پہ غذا فراہم کرتی ہے. آنتوں کے افعال بہتر کرنے کے لئے روزآنہ انجیر کے چار یا پانچ دانے کھا نے چاہییں.انجیر کھانے جسم میں خون بننے لگتا ہے انجیر سے سستی دور ہوتی ہےانجیر بچوں کے ہاضمے کے لئے نہایت مفید پھل ہے.انجیر کو جنت کا پھل کہا گیا ہے، انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے، انجیر کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لیے بیش بہا مفید ہے یہ جسم کو فربہ اور چہرے کو سرخ و سپید بناتا ہے۔ انجیر دوسرے پھلوں کی نسبت ایک نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خود بہ خود ہی گر جاتا ہے اور اسے دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

اگر انجیر کو فریج میں رکھا جائے تو یہ شام تک پھٹ جاتا ہے،اسے استعمال کرنے کے لیے خشک کرنا پڑتا ہے، انجیرکو خشک کرنے کے لیے سب سے پہلے اسے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے تاکہ یہ جراثیم سے پاک ہو جائے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو جائے۔ عرب ممالک میں انجیر کو بہت پسند کیا جاتا ہے، انجیر ہمارے ہاں بھی دستیاب ہے۔ انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء شکر، کیلشیم، فاسفورس پائے جاتے ہیں، دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں،ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے

اس لیے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے، انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے، یہ قابل ہضم ہے اور قبض کو دور کرتا ہے۔ انجیر جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتا ہے، انجیر کی بہترین قسم سفید ہے، یہ پھل گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے، زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے، انجیر کو مغز بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہے اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہو جاتا ہو تو اس کا گودہ منہ میں رکھنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ انجیر کھانے کے بے شمار فائدے ہیں، انجیر کو پانی میں بھگو کر چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دو بار کھائیں،

دائمی قبض دور ہو جائے گی،اس کے علاوہ خشک انجیر کو رات بھر پانی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیںہوتے، سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لیے بے حد مفید ہے اس کے علاوہ انجیرکم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ انجیر کھانے سے آدمی قولنج جیسے مرض سے محفوظ رہتا ہے۔ کھانسی، دمہ اور بلغم کے لیے انتہائی مفید ہے، انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے، انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں،ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آ جاتا ہے۔جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو،

ان کے لیے انجیر کا استعمال مفید ہے، جن لوگوں کو ضعف دماغ کی شکایت ہو، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں، پھر سات دانے بادام، ایک اخروٹ کا مغز، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں، دماغ کی کمزوری سے نجات مل جائے گی۔ بواسیر کی مرض میں بھی انجیر انتہائی مفید ہے یہ ایسا پھل ہے کہ پرانی سے پرانی بواسیر کو ختم کر دیتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.