ہارٹ اٹیک سے ایک مہینہ پہلے نظر آنے والی 8علامات جانیے وہ کون سی علامات ہیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ ہے

اور مرد وخواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اوردن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔ 50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کی ایک اور علامت ایسے درد کی ہوتی ہے جس کا آغاز جسم کے بائیں حصے سے ہوتا ہے، یہ درد سینے سے شروع ہوکر نیچے کی جانب جاتا ہے،

مگر اکثر مریضوں کو ہاتھ میں درد کا احساس ہوتا ہے۔ویسے تو سر چکرانے کی مختلف وجوہات ہوسکتی تاہم اگر آپ کو اچانک لڑکھڑاہٹ کا احساس ہو جس کے ساتھ سینے میں تکلیف یا سانس لینے میں مشکل ہو تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کا مطلب بلڈ پریشر تیزی سے گرنا ہوتا ہے کیونکہ دل معمول کے مطابق پمپ کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ویسے جبڑے یا گلے میں تکلیف کی وجہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے، تاہم اگر سینے کے درمیان درد یا دباﺅ کا احساس ہو جو گلے یا جبڑے کی جانب پھیل جائے تو یہ ہارٹ اٹیک کی علامت ہوسکتی ہے۔بیشتر واقعات میں یہ دل کے مسئلے کی نشانی نہیں ہوتی، تاہم اگر آپ پہلے ہی امراض قلب کا شکار ہیں

تو پھر ضرور خطرے کی گھنٹی ہے، اگر آپ کی کھانسی بہت زیادہ دیر تک برقرار رہے جس سے سفید یا گلابی بلغم خارج ہو تو یہ ہارٹ فیلیئر کی نشانی ہوتی ہے۔یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔ چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیاجانا چاہیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.