تیل میں گھر کی عام سی چیز ملا ؤ۔ پھر با لوں کا بڑ ھنا روک کر دکھا ؤ۔

آج کے دور میں بہت کم ہی ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کے بال نہیں گرتے ورنہ ہر دوسرا شخص ہی گرتے بالوں سے پریشان ہے خاص کر خواتین کی جان بالوں میں ہی ہو تی ہے ذرا سا ہی بال گرنا شروع تو ٹینشن بھی شروع تو آج کی ریمیڈی اتنی زبردست ہے کہ یہ بالوں کے لیے ایک نعمت ہے بالوں میں خشکی سکری کا مسئلہ ہے تو وہ بھی کافی حد تک کنٹرول ہو جا ئے گااور بالوں کی نشوونما میں بھی مدد ملے گی ہر کوئی اسے اپنے گھر میں بنا لے گا اور بالوں کو تیزی سے بڑھا لے گا

تو جلدی سے اس ریمیڈی کی طرف بڑ ھتے ہیں ۔اس زبردست سی ریمیڈی کو بنانا شروع کر تے ہیں۔ تو سب سے پہلے آپ نے جو چیز لینی ہے وہ ہے آملے کا تیل کسی بھی ہر بل سٹور سے یہ با آسانی مل جا تا ہے یہ بالوں کو لمبا گھنا کر تا ہے بالوں کو سفید ہونے سے روکتا ہے خشکی سکری سے بچا تا ہے اور بالوں کی نشو و نما میں مدد دیتا ہے تو اس آئل میں ہم نے جو چیز ڈالنی ہے وہ ہے لہسن لہسن میں موجود اجزاء بالوں کی گروتھ کے لیے مدد دیتی ہیں تو آپ نے چار سے پانچ پیسز کو کوٹ کر پیسٹ نما بنا لینا ہے پیسٹ نما بنانے کے بعد اس میں آملہ کا تیل ڈالنا ہے آدھی پیالی سے تھوڑا زیادہ آپ تیل ڈال لیں گے مقدار کم زیادہ ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اب اسے دو سے تین گھنٹے کے لیے ایسے ہی چھوڑ دیں دو سے تین گھنٹے بعد آپ نے اسے بالوں کی جڑوں میں لگا نا ہے اور لگا کر مساج کر نا ہے چار سے پانچ منٹ تک اچھی طرح مساج کر یں گے تا کہ بلڈ سر کو لیشن تیز ہو جا ئے پھر اسے باقی کے بالوں میں لگا کر چھوڑ دیں گے کم از کم دو گھنٹے تک آپ نے اسے لگا رہنے دینا ہے

پھر کسی بھی شیمپو سے سر دھو لیں ہر بل شیمپو استعمال کر یں توزیادہ اچھا رہے گا ہر ایک دن چھوڑ کر آپ اسے لگا ئیں گے اور پندرہ دن تک آپ اسے سٹور کر کے رکھ سکتے ہیں ۔اس سے آپ کے بال لمبے گھنے بھی ہوں گے مضبوط بھی ہوں گے اور بالوں کا گرنا بھی رک جا ئے گا بالوں کی گروتھ کے لیے بیسٹ ریمیڈی ہے تو آپ اسے ضرور ٹرائی کر یں۔ جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ آج کل جو ہے بالوں کا مسئلہ بہت ہی زیادہ بڑھ چکا ہے ہر دوسرے شخص کے بالوں میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے تو یہ جو میں نے ریمیڈی بتائی ہے اس کے استعمال سے انشاءا للہ آپ کے بالوں کے تمام مسائل حل ہو جا ئیں گے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *