کپڑے پہننے سے پہلے 11 بار یہ پڑھیں کپڑوں پر پانی چھڑک کر وہ جوڑا جلدی سے پہن لیں

ایک بزرگ نے ایک عمل نئے کپڑوں کے حوالے سے اپنی کتاب میں درج کیا ہے کہ جب بھی آپ نیا جوڑا زیب تن کریں جب بھی عید کے موقع پر کسی شادی بیاہ کے موقع پر جب بھی آ پ نیا جوڑا بنائیں تو بس آپ نے چھوٹا سا عمل کرنا ہے آپ نے کرنا یہ ہے ثال کے طور پر آپ شاور والی بوتل لے لیجئے اس میں تھوڑا ساپانی لے لینا ہے جو اسی وقت استعمال ہوجائے

یہ پانی ڈالنے کے بعد آپ نے گیارہ مرتبہ سورۃ القدر گیارہ مرتبہ سورۃ الکافرون اور گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص یہ پڑھنے کے بعد آپ نے اس پانی پر دم کردینا ہے یہ دم کرنے کے بعد آپ نے یہ جو نیا جوڑا ہے آپ جب اس کو استری کرنے لگیں آپ نے اس شاور کی مدد سے اس کے اوپر پانی مارنا ہے اس کا فائدہ کیا ہوگا کہ جب تک آپ یہ جوڑا اپنے جسم پر پنے رکھیں گے اسے زیب تن کر کے رکھیں گے انشاء اللہ اس وقت تک آپ کی جیب بھی خالی نہیں رہے گی اور آپ فُل عیش میں رہیں گے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں اس کتاب کے اندر جو شخص اس کپڑے کو پہنے رہے گا اور اتارے گا نہیں وہ فل عیش میں رہے تو یہ عمل انشاء اللہ آپ کو بہت فائدہ دے گا ۔نبی کریم ﷺ جب لباس زیب تن فرماتے تو کرتہ یا قمیص پہلے دائیں آستین میں بازو ڈالتے پھر بائیں آستین میں بازو ڈالتے ۔ پھر قمیص کو اپنے گلہ مبارک میں پہن لیتے ۔اگر ہر مسلمان اسی طریقے سے کرتہ ٗ شیروانی ٗ کوٹ یا بنیان پہنے تو نہ صرف نبی کریم ﷺ کی سنت پوری ہوگی

بلکہ ثواب الگ ملے گا اسی طرح جب شلوار یا پاجامہ پہنتے تو پہلے دائیں پائنچہ میں پیر ڈالتے پھر بائیں پائنچہ میں ۔ قمیص اور شلوار اتارتے وقت الٹا عمل دہراتے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لباس پہنتے وقت نیز وضو کرتے وقت دائیں جانب سے ابتداکرو لباس پہننے سے پہلے کپڑا جھاڑ لینا ٗ شلوار یاتہ بند کو ٹخنوں کے اوپر رکھنا ٗ ٹخنوں کے نیچے نہ لٹکانا ٗ جانداروں کی تصویریں لباس پر نہ بنوانا ٗ مردوں کے لیے ریشمی لباس نہ پہننا ٗغیر قوم کی مشابہت نہ کرنا آپ ﷺ کو پسند تھا کیونکہ تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر اور غرور کی علامت تصور کیاجاتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اﷲ تعالی قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو تکبرسے اپنا تہہ بند گھسٹتا ہے ۔نیا کپڑا پہنتے وقت اﷲ کی تعریف کرنی چاہیئے اور شکر اداکرنا چاہیئے ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے

کہ رسول اکرم ﷺ جب کوئی نیا کپڑا عمامہ قمیص یا چادر پہنتے تو اس طرح دعا پڑھتے ۔ اے اﷲ سب تعریفیں تیرے لیے ہیں جیسے تو نے مجھے یہ پہنایا میں تجھ سے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس کی بھلائی جس کے لیے بنایاگیا میں اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے جس کے لیے بنایاگیا۔ یہ دعا پڑھنے والے کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے ۔آپ ﷺ کو سفید اور سبز رنگ سب سے زیادہ پسند تھے جبکہ آپ ﷺ نے سرخ اور شوخ رنگ کے کپڑوں کی ممانعت فرمائی ۔لباس کو پاک اور صاف رکھنا بھی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *