ایمان بڑھانے کے طریقےاس طریقے پر عمل کریں اور اپنا ایمان بڑھائیں

ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا فلاں پہاڑی کے اوپر فلاں جڑی بوٹی ہے وہ کھا لو، حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لے گئے اس کو استعمال کیا ٹھیک ہوگئے ۔ کچھ عرصے کے بعد دوبارہ وہی بیماری ہوئی ، تو انہوں نے کہا مجھے تو اس کا علاج پتا ہے پھر اسی پہاڑی پہ گئے اور وہی جڑی بوٹی کھا لی مگر جو بیماری تھی وہ نہ گئی۔ اللہ تعالیٰ سے پوچھا یا اللہ! پہلے مجھے تکلیف ہوئی تو اس کو کھایا ٹھیک ہو گیا اب دوبارہ مجھے وہی درد ہوا اب وہ کھا رہا ہوں ٹھیک نہیں ہو رہا۔ یہ کیا معاملہ ہے؟

اللہ رب العزت نے بات کو کھول کر سمجھا دیا ,اے موسیٰ ! اس کے اندر شفاء نہیں تھی شفاء تو میرے حکم میں تھی۔ پہلے میں اس میں شفاء رکھ سی تھی آپ نے کھایا شفاء ہوئی اب چیز وہی مگر میں اس میں شفاء نہیں رکھی تو شفاء نہیں ہوئی۔ تو بات یہ بتانی مقصود ہے اللہ تعالیٰ جب جو چاہتے ہیں وہ کرتےہیں۔ ہمیں اپنے اعمال کو بنانے کی ضرورت ہے۔ ایمان والے کی زندگی اعمال والے کی زندگی ہوتی ہے۔ ہمیں عمل کے ذریعے حق بات کو مانتے ہوئے اللہ کے وعدوں پر یقین رکھنا ہے۔ ایمان والوں کی زندگی کیا ہوتی ہے؟ وہ اللہ کے وعدوں پر یقین رکھتا ہے۔ “وہ 1 لاکھ 34 ہزار روپے فی گھنٹہ کماتی ہے۔ اتنی رقم آپ کے بٹوے میں ہو تو کیسا ہو” وہ 1 لاکھ 34 ہزار روپے فی گھنٹہ کماتی ہے۔ اتنی رقم آپ کے بٹوے میں ہو تو کیسا ہو” “وہ 1 لاکھ 34 ہزار روپے فی گھنٹہ کماتی ہے۔ اتنی رقم آپ کے بٹوے میں ہو تو کیسا ہو” وہ 1 لاکھ 344 ہزار روپے فی گھنٹہ کماتی ہے۔ اتنی رقم آپ کے بٹوے میں ہو تو کیسا ہو لندن کی دوشیزا ماہانہ 15 لاکھ کما رہی ہے! 16 کی عمر میں سکول چھوڑ دیا، اور اب.. “لندن کی دوشیزا ماہانہ 15 لاکھ کما رہی ہے! 16 کی عمر میں سکول چھوڑ دیا، اور اب..” “لندن کی دوشیزا ماہانہ 15 لاکھ کما رہی ہے! 16 کی عمر میں سکول چھوڑ دیا، اور اب..” لندن کی دوشیزا ماہانہ 155 لاکھ کما رہی ہے! 166 کی عمر میں سکول چھوڑ دیا، اور اب ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (کاتب وحی) انہوں نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھااور پوچھا کہ :

ام المومنین آپ رضی اللہ عنہا امت کی ماں ہیں مجھے نصیحت فرمایئے۔حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک نصیحت لکھی اور لکھا: کہ اگر تم اللہ کو راضی رکھو گے اور مخلوق کی پرواہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ناراض مخلوق کے دل میں بھی تمہاری محبت پیدا کردیں گے اور اگر اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کو خوش کرو گے تو اللہ تعالیٰ ان لوگو ں کے دلوں تمہارے لئے نفرت پیدا کر دے گا بغض پیدا کردےگا۔ تو اللہ کی قیمت کے اوپر لوگوں کو مت راضی کرو۔اصل اللہ راضی کرنا ہے ایمان کی اہمیت کو سمجھنا ہے ہم سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں مگر ایمان نہیں یہ ہماری بنیاد ہے۔سب سے بڑی نعمت ہے۔ ایمان والی زندگی یہ خبر کی زندگی ہوتی ہے اورکافر کی زندگی نظر کی زندگی ہوتی ہے۔ مشاہدات کی زندگی ہوتی ہے۔ ایمان والے کی زندگی خبر کی زندگی ہوتی ہے۔ جو اس کے اللہ اور اس کے رسول نے فرما دیا اس خبر پر یقین ہوتا ہے ۔ بتا دیا صدقہ دو گے مال بڑھے گا زکوٰۃ دو گے بڑھے گا ، سود دو گے گھٹے گا، تو ایمان والے کی زندگی خبر کی زندگی اور کافر کی زندگی نظر کی زندگی۔ ایک اور مثال: کوئی بیمار ہوجائے بعض مرتبہ ہسپتال لے جاتے ہیں ، ہسپتال میں ڈاکٹر چیک کرتا ہے تو کچھ امکانی وجوہات لکھتا ہے کہ ہو سکتا ہے بخار وائرس کی وجہ سے ہوا ہو، بکٹیریا کی وجہ سے ہوا ہو، ملیریا کی وجہ سے ہوا ہو، تھکن کی وجہ سے ہوا ہو ، سردی کی وجہ سے ہوا ہو کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے ۔ تو اس کوکہتے ہیں انسانی وجوہات ، پھر وہ کہتا ہے ٹیسٹ کرواؤ پھر جب رپورٹ آتی ہے اس کے بعد جو بات ہوتی ہے وہ ظا ہر ہوتی ہے کہ اس بندے کو اس وجہ سے بخار ہوا۔ تو جو کافر کی زندگی ہوتی ہے

امکانی زندگی ہوتی ہے کہ یہ بھی شاید ہو جائے یہ بھی لگ جائے ، فلاں ہو جائے ، کچھ کنفرم نہیں ہوتا لیکن ایمان وا لے کی زندگی ہوتی ہے ، پکی ہوتی ہے یقینی ہوتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وعدوں پہ یقین کرتا ہے اور اس لائن پر چل رہا ہوتا ہے۔ اسی لئے مشاہدے کی زندگی گزارنے والے موت کے وقت افسوس کر رہے ہو تے ہیں ۔ ایمان کی زندگی گزارنے والے موت کے وقت کہہ رہے ہوتے ہیں رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا اگلے نے جان سے مار دیا ، قید ہوگئی مر گئے مگر کہہ رہے ہیں رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ۔ یہ ایمان والے کی زندگی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *