”جسمانی ،دماغی،عصابی کمزوری کا خاتمہ“

اعصابی کمزوری کا مطلب ہے؟ دماغ اور اعصاب کا کمزور ہونا، جس کی وجہ سے جسم اور اس کے اعضا پر ان کا کنٹرول کمزور پڑ جاتا ہے اور طرح طرح کی تکالیف ظاہر ہونے لگتی ہیں۔پاکستان کی 95 فی صد آبادی دراصل اعصابی کمزوری کا شکار ہے اور ان کی اکثریت روبہ صحت بھی تب ہوتی ہے جب آرام کا وقت اعتدال پر لاتی ہے۔

مثلاً کسی کی قوت حافظہ کمزور ہوتی ہے، لوگ اسے دماغی کمزوری سمجھ کر نت نئی تراکیب اپنانے لگتے ہیں حالانکہ یہ اعصابی کمزوری کا حصہ ہوتا ہے نہ کہ قوت حافظہ کی کمزوری۔ آج کل جو حالات ہیں انھوں نے بھی انسان کے اعصابی نظام کو بہت متاثر کیا ہے۔ اعصابی کمزوری (Nervous Weakness) ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے

اور اس کی علامات میں انسان کے اعضا درست طریقے سے کام نہیں کرتے۔ کثرت جماع ، دماغی کام کا بہت زیادہ کرنا جیسے وکالت ، اس کے علاوہ اسکولوں کے طلبا کو بھی دماغی کام کرنا پڑتا ہے، غم کے اثرات، لمبی بیماری ، حد سے زیادہ جسمانی محنت کرنا اور آرام کم کرنا۔ جسم کانپنا ، اعضا کو مکمل طور پر ہلا نہ سکنا اور چلنے میں تکلیف جیسے مسائل شامل ہیں۔

مریض کو سونے میں دشواری کے ساتھ جذباتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بیماری کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہلکی پھلکی ورزش سے بھی چلی جاتی ہے اس لیے انسان کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہلکی پھلکی ورزش کو معمول کا حصہ بنا لینا چاہیے۔ اعصاب ہمارے جسم کا ایک انتہائی اہم اور لازمی حصہ ہیں۔ معاشی تفکرات

بے یقینی کی کیفیت اور ملکی حالات نے ہم سب کو اعصابی مریض بنا دیا ہے۔ اعصاب حرام مغز سے جڑا وہ نظام ہے جو پورے جسم کے تمام تر افعال کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اعصاب ہمارے جسم کی حرکات و سکنات کو منظم کرکے دماغ سے اعضا اور اعضا سے دماغ تک پیغام رسانی کا کام بہ خوبی سر انجام دیتے ہیں۔ اعصاب ڈوری نما ریشے ہیں جو دماغ کو بدن انسانی کے دیگر نظاموں سے ملا کر رکھتے ہیں۔ جب اعصاب میں کمزوری واقع ہو یا ان کی کارکردگی میں نقص آنے لگے تو انسانی بدن بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔

اعصابی کمزوری سے پورا بدن کمزور ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ نہ صرف عصبی نظام بلکہ انسانی جسم کے تمام تر اعضا دماغ کے حکم کے تابع ہوتے ہیں، وہ اپنے تمام کام دماغ کے حکم دینے سے کرتے ہیں۔ اور بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ سب اعصابی نظام سے مربوط بھی ہوتے ہیں۔ یوں جب اعصابی نظام کی کارکردگی میں خلل پیدا ہوتا ہے تو پورا انسانی جسم متاثر ہونے لگتا ہے۔ جسمانی کمزوری پیدا ہو کر سستی و کاہلی پیدا کرتی ہے اور انسان سست اور کاہل ہو جاتا ہے۔

چہرہ بے رونق ہو کر افسردگی سی چھانے لگتی ہے۔ پورے جسم میں درد اور کاندھوں، کمر اور ٹانگوں میں شدید درد رہنے لگتا ہے۔ بھوک کم ہو جانے کی وجہ سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں جاتا اس کی وجہ سے انسان کمزور ہو کر وقت سے پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے اور اپنی تکلیف کی وجہ سے موت کی دعا کرنے لگتا ہے۔ طبیعت میں اداسی اور اکتاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی کام میں دل نہیں لگتا ، بعض اوقات مریض مایوسی اور ناامیدی میں اس قدر گھر جاتا ہے کہ خودکشی کرنے کے بارے میں سوچتا ہے اور بعض اوقات تو ایسا کر بھی لیتا ہے۔

گھبراہٹ اور خوف سے ہاتھ پاؤں سرد اور ٹھنڈے پسینے بھی بہ کثرت آنے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیگر عوامل جیسے ضعف دماغ ، خون کی کمی، ذیابیطس، لو بلڈ پریشر یا ہائی بلڈ پریشر، فکر، غم کسی اچانک صدمے سے بھی اعصابی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ نشہ آور اشیا کا استعمال بھی اعصابی کمزوری کا سبب ہو سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.