”ہر قسم کے سر درد سے فوری نجات“

کنپٹیوں پر شہد کا لیپ لگا کر بھی سر درد بالخصوص آدھے سر کے درد سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ علاج معالجے میں بھی جدت آنے لگی اور نئی ادویات و نئے طریق ہائے علاج سامنے آنے لگے۔ درد کسی بھی قسم کا ہو تکلیف دہ ہی ہوتا ہے لیکن سر درد ایسا عارضہ ہے جو مبتلا کو دن میں تارے دکھادیتا ہے۔

سر میں درد کی کیفیت پید اہونے سے ہمارا دماغ اور جسم کا مواصلاتی نظام متاثر ہوتا ہے جس سے پورا بدن اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی ، شور شرابہ ، خوف ، وہم، وسواس ، حسد ، بخل، نفرت ، تکبر، معاشی مسائل، سماجی الجھنیں اور ازدواجی ناخوشگوار ماحول کے باعث ذہنی خلفشار اور معاشرتی انتشار بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روز بروز امراض افزوں تر ہوتے جارہے ہیں۔ سر میں درد کی کیفیت دو اقسام کی ہوتی ہے ایک وہ جس میں پورے سر میں درد کی ٹیس ابھر کر مبتلا کو بے چین کرتی ہے ، دوسری قسم آدھے سر میں درد کی شدت کا نمایاں ہونا ہے۔

آدھے سر کے درد کو عرف عام میں درد شقیقہ بھی کہا جاتا ہے۔ درد شقیقہ کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ مردوں کی نسبت خواتین میں بکثرت پایا جاتا ہے اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ مرض 15 فیصد کی شرح سے دنیا بھر کومتاثر کررہا ہے۔دنیا بھر میں درد شقیقہ کے بارے میں طبی ماہرین اس لیے بھی پریشان ہیں کہ دمہ جس کی شرح متاثرہ 5 فیصد اور شوگر جو دس فیصد تک انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، اس کی نسبت درد شقیقہ کی تحقیق و علاج پر عالمی سطح پر توجہ بہت کم دی جارہی ہے۔ درد شقیقہ کے علاج پر توجہ نہ دینے سے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ شوگر اور دمہ مہلک بیماریاں ہیں جبکہ درد شقیقہ تکلیف دہ ضرورہے لیکن مہلک نہیں ہے۔

درد شقیقہ کے زیادہ تر خواتین میں وقوع پزیر ہونے کے باعث خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنسی ہارمونز کی بے اعتدالی، ماہواری میں خرابی ، ہسٹریا اور دوسرے جنسی عوارض درد شقیقہ کے بڑے اسباب ہیں۔ جبکہ قدیم طب کی رو سے درد شقیقہ کے بڑے اسباب میں دائمی قبض،دائمی نزلہ، کمزور قوت ہضم، گھنٹیا، پرانا سر درد، اعصابی کمزوری، ضعف بصارت، دماغی کمزوری، معاشی مسائل، سماجی الجھنیں، ازدواجی ناخوشگوار معاملات اور فضول خیالی وغیرہ شامل ہیں۔ ڈپریشن، سٹریس، ٹینشن اور اینگزائٹی ، نیند کی کمی، شور شرابہ ، تیز روشنی ، تیز خوشبو وغیرہ بھی آدھے سر کے درد کا سبب ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح سونٹھ باریک پیس کر بطور نسوار سونگھنے سے چھینکیںآنے سے دماغی جھلیوں میں آکسیجن کی رسد تیز ہوجاتی ہے جس سے فوری آدھے سر کے درد سے چھٹکارا ملتا ہے۔جب درد شقیقہ میں شدت ہو اور کنپٹیوں کی رگیں پھول کر نمایاں دکھائی دینے لگیں تو گوند ببول عرق گلاب میں گھس کر کورے کاغذ کے ٹکڑوں پو لیپ کر کے کنپٹیوں پر چسپاں کردیں۔چند منٹوں میں ہی درد دور ہوکر طبیعت بحال ہوجائے گی۔اسی طرح دار چینی کے باریک سفوف کا روغن صندل کے ساتھ پیسٹ بنا کر ماتھے پر لیپ کرنے سے بھی فوری آدھے سر کے درد سے نجات ملتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.