جب شوہر کی توجہ بیوی میں کم اور موبائل میں زیادہ ہونے لگے تو سمجھ جائیں جب شوہر کی توجہ بیوی میں کم اور موبائل میں زیادہ ہونے لگے تو سمجھ جائیں ۔۔۔

بات بس اتنی سی ہے کہ محبت کبھی بے قدرے دلوں پر براجمان نہیں ہوتی ، ان دلوں پر جو بھٹکے ہوئے ہوں اور جن کوباربار منزلیں بدلنے کی عادت ہو۔ بعض دفعہ زندگی میں ایسا ہوتا ہے ۔ کہ جس چیز سے آپ کو سب سے زیادہ نف رت ہوتی ہے۔ وہی چیز نا چاہ کر بھی آپ کو سب سے زیادہ برداشت کرنا پڑجاتی ہے۔ جن لوگوں کو اپنا دکھ یا تکلیف بتانے کی عادت نہیں ہوتی، ان کے بارے میں یہی گمان کیاجاتا ہے کہ انہیں تکلیف نہیں ہوتی۔ میرا رب تو ہمیشہ ہی مجھے ٹوٹنے سے پہلے سنبھال لیتا ہے یہ تو شاید میں خود ہی ہوں جو اس سے دور ہوجاتی ہوں اور ٹوٹ جاتی ہوں۔

وقت ہی نہیں رہا کسی سے تعلق رکھنے کے جناب ، حد سے زیادہ چا ہوتو لوگ مطلبی سمجھ لیتے ہیں۔ اپنے ضمیر کی آواز پر “لبیک” کہہ “تنہاء” رہ جانا، کسی گمراہ ہجوم کے پیچھے چلنے سے بہت “بہتر” ہے۔ دوسری عورتوں کی زندگی ناپاک کر کے خود کے لیے پاک بیوی ڈھونڈ تے ہو کما ل کرتے ہو۔ دوبارہ گرم کی گئی چائے اور سمجھوتہ کیا ہوا رشتہ دونوں میں پہلے جیسی مٹھاس کبھی بھی نہیں رہتی ۔ اپنے دکھ کو کسی غیر سے نہ کہنا، وہ ان دکھوں کے عوض تمہیں خرید لے گا اور بدلے میں نئے دکھ دے گا۔ زندگی میں اس سے زیادہ دشوار کوئی اور بات ہے ہی نہیں ، کہ اپنی ذات سے کہاجائے ، تم شکست کھا چکے ہو۔

زمانے میں آئے ہوتو جینے کا ہنر بھی رکھنا دشمن وں سے کو ئی خطرہ نہیں بس اپنوں پر نظررکھنا۔ رشتوں کا ایک روپ مطلب پرستی بھی ہے۔ کٹھ پتلی کی طرح جی حضوری کرتے رہو تو سب ٹھیک ورنہ رشتہ کچے دھاگے کی مانند ٹوٹ جاتا ہے۔ بہت گہرا ہے سکون ،بہت اجلی ہے خاموشی ، بہت آباد لہجے میں بہت سنسان ہے کوئی۔ لوگوں کے رویوں کا ز ہ ر چکھ کر وہیں پر تھوک دیں نہیں تو یہ سلو پوائزن آہستہ آہستہ آپ کو ڈپریشن کا مریض بنا دے گا۔

چھوٹا موٹا سمجھوتا یعنی کمپرومائز زندگی آسان کردیتا ہے۔ مگر عمر سمجھوتا انسان کو تھکا کر ہر کسی سے بے راز کر دیتا ہے۔ محبت میں لڑکیاں بھائی کو سپورٹ کرتی ہیں کیونکہ وہ محبت کوجانتی ہیں۔ مگر بھائی بہن کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ وہ بھی تومرد کو جانتا ہے۔ جب شوہر کی توجہ بیوی میں کم اور موبائل میں زیادہ ہونے لگے تو سمجھو کہانی میں تیسرا کردار شامل ہوچکا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.