چالاک مرد! خود کو صرف ایک عورت کے سامنے کھلونا بن کر پیش کرتا ہے جو ۔۔

ہمارا معاشرہ اس پستی پر پہنچ چکا ہے کہ عورت کو پھنسانے کے لیے ہر وقت تیا ر ہے لیکن بسانے کو کوئی تیار نہیں اگر مزے لینے ہیں ۔ ٹائم پاس کرنا ہے تو اپنی عمر سے دس پندرہ سال بڑی ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا کنواری ہوتو بہت اچھا۔

شادی شدہ مل جائے تو سونے پر سہاگہ اگر طلاق یافتہ ہوتو کیا ہی کہنے ۔ لیکن اگر ان میں سے کسی ایک کے ساتھ گھر بسانا ہوتو زمین سے آسمان تک بہانوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ یہ معاشرہ ، زن ا ، گر ل فرینڈ، ریپ سب افورڈ کر رہا ہے۔ لیکن نہیں کرتا تو بروقت نکاح دوسر ا نکاح ،

بیوہ سے نکاح، جذبات کے ہاتھوں مجبو ر ہوکر کوئی غلطی کرلینے والی لڑکی سے نکاح، اور پھر رونا روتے ہیں کہ معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ محبت عورت کی عقل کو کھاجاتی ہے اور مرد یہ بات بخوبی جانتا ہے تبھی تو عورت کو پاگل بنا کے چھوڑدیتا ہے۔ باخدا! اگر عورت باکردار اور وفا دار ہوتو مرد اس کے لیے خود کو بدل بھی لیتا ہے،

اس کے لیے منتیں بھی مانتا ہے، اور سجدوں میں رو رو کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے پروردگار کے ترلے بھی کرتا ہے۔ عورت کتنی بھی بہادر ہو۔ کتنابھی مضبوط کرنا جانتی ہو، مگر وہ ایک نگا ہ ایسی ضرور چاہتی ہے جو دیکھتے ہی یہ جان لے کہ آنکھیں تھکن سے لال ہیں یا ضبط سے ۔ مرد اس کالے کپڑے کی مانند ہوتا ہے۔ جس کے اوپر خ ون کا داغ بھی کسی کو نظر نہیں آتا اور عورت اس سفید کپڑے کی مانند ہوتی ہے کہ جس کے اوپر پانی کا داغ بھی سب کو نظر آجاتا ہے۔ عقلمند (چالاک) مردصرف ایک ہی عورت کو اپنی خلوت کا کھیلونا نہیں بناتا کئی رکھتا ہے تاکہ راتیں ضائع نہ ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *