اچھے اور گ ھ ٹ یا انسان کی پہچان کرنی ہو تو بہت ہی آسان طریقہ ہے کہ آپ صرف یہ کریں۔؟جوجیسا ہوگا وہ خود بخود سامنے آجائے گا

عورت کوئی بھی ہو، رشتو ںمیں ملاوٹ پسند نہیں کرتی وہ جس سے بھی پیار کرے اس کی حرکات کو ہمیشہ نظروں میں رکھتی ہے لڑکی ہے جھگڑتی ہے اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ مگر شراکت کبھی برداشت نہیں کرتی۔ جو شخص تمہاری نظروں سے تمہاری ضرورت کو سمجھ نہیں سکتا اس سے کچھ مانگ کر خود کو شرمندہ نہ کرو۔ انسان نہ کچھ ہنس کر سیکھتا ہے اور نہ رو کر سیکھتا ہے وہ جب بھی کچھ سیکھتا ہے یاتو کسی کا ہو کر سیکھتا ہے یا پھر کسی کو کھو کر سیکھتا ہے۔

دنیا کے سبھی لوگ بہت خوبصورت ہیں بد صورتی تو ہمارے رویوں او رسوچ میں ہوتی ہے۔ رشتے نبھانا ہرایک کے بس کی بات نہیں ، خود کو دکھ دینا پڑتا ہے کسی دوسرے کی خوشی کے لیے ۔کچھ فیصلے مشکل ہوتے ہیں۔ لیکن کرنے ہی پڑتے ہیں۔ اپنے آپ کو ایک دفعہ توڑ کر جوڑ لیں۔ بس پھر ہر پل مرنا نہیں پڑے گا۔ سکون سا اندر بس جائے گا۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ زندگی کے سفر میں ان لوگوں پر توجہ نہ دیں جو آپ کے راستے میں کھڑے تھے۔ بلکہ ان لوگوں کا سوچیں جو ہر مقام پر آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ دکھ بھر ی داستان بہت دھیان سے سنتا ہے ۔ کچھ غم مٹا بھی دیتا ہے ۔

کچھ الجھنیں سلجھا بھی دیتا ہے لیکن سارے مسئلے نہیں حل کرتا کیونکہ اگر سارے ہی غم سلجھ جائیں تو آدمی اور اس میں بات چیت بند ہوجاتی ہے۔ وہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا جس میں نبھانے کی چاہت دونوں طرف سے ہو۔ کچھ لوگ ہمیشہ لو گ ہی رہتے ہیں ۔ بے انتہاء محبت ، اعتماد عزت و احترا م خلوص سے بھی اپنے نہیں بنتے ۔ شاید انہیں محبت کی طلب نہیں ہوتی بس اپنی وقت گزاری کی عادت پوری کرنے کے لیے لوگوں کی شکل میں کھلونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی بیوی کا تہہ دل سے شکر یہ ادا کریں۔ کیونکہ وہ م و ت کی وادیوں سے گزر کر آپ کو باپ بناتی ہیں۔

کچھ سوالوں کے جواب صرف وقت دیتا ہے ۔ اورجو جواب وقت دیتا ہے وہ لاجواب ہوتے ہیں۔ تمہاری وجہ سے اگر کوئی بے سکون ہوجائے تو یاد رکھو تم ظالموں میں سے ہو۔ بے سکونی بڑھ جائے تو عبادت کاوقت بڑھادو اور اللہ سے بات کرواور اپنے دکھ کا مداوا اسی سے مانگو وہ رحیم و کریم ہے۔ عورت کے چہرے پرتمام رنگ مرد کی وجہ سے آتے ہیں۔ چاہے وہ خاموشی کے ہوں یا غم کے ۔

مرد کی امیری ، غریبی سے بالکل متاثر نہیں ہوتی وہ تو بس اس مرد سے متاثر ہوجاتی ہے۔ کہ کوئی مرد اسے کتنی عزت دیتا ہے ۔ اس قدر تھک گئی ہوں دنیا سے کہ اب تو بس اتنی سی خواہش ہے کوئی آنکھوں پر ہاتھ پھیرے اور کہے “انا اللہ وانا الیہ راجعون “۔ محبت اور عزت کے لیے جھک جائیے لیکن جھک کر عزت اور محبت نہ مانگیں۔ کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں جو تم ہو وہ بس تم خود ہی ہو اپنے آپ پر زیادہ توجہ دو لوگوں کے بارے میں زیادہ وہی سوچتے ہیں جن کی اپنی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *