مرد ہمیشہ اس عورت سے محبت کرتا ہے جو حقیقت میں اسے ؟؟

آج کی محبت محبت نہیں رہی ، بس انا اورضد بن کے رہ گئی ہے ، ایک اکڑ دکھاتا ہے تو دوسرا اس سے بھی بڑا ایکٹر بن جاتا ہے۔ کیا ایسی ہوتی ہیں محبتیں ؟ محبت تو ایک دوسرے کے سامنے جھک جانے کا اور دوسرے کے لیے خا ک ہوجانے کا نام ہے۔ جو مرد کسی عورت سے یہ کہتا ہے کہ وہ اس کے لیے اپنے آپ کو بدل دے گا۔

اس سے بڑھ کر فراڈ اور مکار کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ جوشخص اپنے مذہب کے لیے اپنی پارسائی برقرار نہیں رکھ سکتا، جو شخص اپنے خاندان کی عزت اور نام کے لیے اپنی آوارگی پر قابو نہیں پاسکتا۔ جو اپنے ماں باپ کےپڑھائے ہوئے تمام سبق بھو ل کر پستی کی انتہاء تک پہنچ جاتا ہے

جو خود اپنی نظروں میں اپنا احترام اور عزت باقی رکھنے کی پرواہ کیے بغیر عیاشی کرتا ہے ۔ وہ کسی عورت کے لیے خود کو کیا بد لے گا۔ جو شخص خود لنگڑا ہو وہ دوسرے کو کیا چلنا سکھائے گا۔ چائینز میں ایک کہاوت ہے کہ بعض لوگوں کو اگر چاند دکھایا جائے تو وہ چاند کو نہیں انگلی کو دیکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ بھی معاشرے میں ہوتے ہیں جو انسان کی اچھی بھلی عادات کو نہیں بلکہ صرف برائیوں کو دیکھتے ہیں۔ سماج میں عورتوں کادرجہ بلند ہوگیا ہے۔ لیکن وہ بد ستور بکتی ہیں۔ بیچی جاتی ہیں ، گھر وں میں ، بازاروں می ، شادی میں ،ہرنہج اور ہر صورت میں بیچی جاتی ہیں۔

مرد ہمیشہ اس عورت سے محبت کرتا ہے ۔ جو حقیقت میں محبت کیے جانے کے قابل نہیں ہوتی۔ اپنے عزیز شخص کے ابتدائی الفاظ پر بھروسہ مت کیجیے۔ بلکہ ان الفاظ پر غو ر اور یقین کیجیے جو اس نے آخری بار جدا ہوتے وقت آپ سے کہے اور پھر طے کیجیے کہ آپ نے اس تعلق کو پوری عمر رونا ہے یا بھولنے کی کوشش کرنی ہے۔ محبت ذلالت کا دوسرا نام ہے اور یہی سچ ہے ہم چاہے محبت کو جتنا پا ک صاف ، عزت وحرمت والا سمجھ لیں ۔ لیکن حقیقت یہی ہے۔ کہ محبت اور ذلالت میں زیادہ فرق نہیں ۔ اگر آپ ذلیل ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو بہتر ہے راہیں جدا کر لیجیے۔

انا کی تسکین آپ کو کہیں نا کہیں بہت سکون دیتی ہے ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں احساس ہوتا ہے۔ کہ وہ سکون جو ہمارے جسم میں روح کی مانند موجود تھا۔ آہستہ آہستہ رخصت ہورہا ہے ۔ تو آپ کے پاس دو آپشن ہیں یا تو انا کی تسکین کیجیے یا ذلالت برداشت کیجیے۔ لیکن جہاں ذلالت معمول بن جائے وہاں راہ جد ا کرنا بہتر ہے ۔ دل کو یہ سوچ کر تسلی دیجیے۔ کہ ہرمحبت کاانجام وصل نہیں ہوتا۔ ہردوری قربت ہر منتج نہیں ہوتی اور ہر غم کے ساتھ مسرت نہیں ہوتی بلکہ شاید قدرت ہمیں جینا سکھاتی ہے۔ کیوں اللہ نے انسان کو آزمائش میں رہنے کے لیے ہی بنایا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *