آنکھ پھڑکنا کس قدر خطرناک ہے یا صرف ہمارا وہم ہے؟

ہم اکثر اوقات بیشتر افراد کو آنکھ پھڑکنے کی شکایت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔آنکھ کے پھڑکنے سے متعلق اگرچہ مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔تاہم ماہرین صحت کے مطابق آنکھ پھڑکنا کوئی خطرے والی بات نہیں ہے۔برآن یونیورسٹی کے الپرٹ میڈیکل سکول میں شعبہ عینیات کے اسسٹنٹ پروفیسر فلپ ریزوٹو ایم ڈی کا کہنا ہے۔ کہ جب آنکھ پھڑکتی ہے تو عام طور پرکسی قسم کی درد یا شدیدتکلیف کا سبب نہیں بنتی۔تاہم خصوصاً کام کے وقت پریشانی کا باعث بنتی ہے۔انکا کہنا ہے کہ ا آنکھ کے پھڑکنے سے آنکھ کو کسی قسم کے نقصان کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔۔انکا یہ بھی کہنا ہے کی آنکھ پھڑکنے کا عمل تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جا تا ہے۔

اگر کوئی ضرورت سے ذیادہ پریشانی میں مبتلا ہو تو۔ وہ اس کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے ساتھ آنکھ کی صفائی کرتے ہیں ۔تاہم اگر کبھی مریض کی دونوں آنکھیں غیر معمولی طور ایک ساتھ پھڑکنے لگیں۔ اور شدت کے باعث بند ہوجائیں تو فوراً ماہر امراض چشم سے رابطہ قائم کریں۔ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسی صورتحال سے 40سے60کی عمر کے افراد دوچار ہوتے ہیں ۔تاہم یہ عام بیماری نہیں ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تقریباً2000 افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا۔ تاہم بوٹوکس انجیکشنز کے استعمال سے آنکھ کی پھڑپھڑاہٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *