”پھل بہری، برص کیا ہے اس کی پہچان و علاج“

جزام کی بیماری عام طور پر ان لوگوں کو ہوتی ہے جن لوگوں کی قوتِ مدافعت کی کمی ہوتی ہے قوتِ مدافعت کی کمی عموماً ان لوگوں کو ہوتی ہے جو کہ باہر آلودگی میں پھرتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی بے احتیاطی غذائیں جو کہ ان میں موٹاپے کا بھی اضافہ کر تی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ موٹاپے کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں بہت سی بیماریاں جنم لیتی ہیں کہنے کا میرا مقصد ہے کہ موٹاپا ہر بیماری کی جڑ ہے۔ ملاوٹ اور کیمیکل والے خوراک کھانے اور آلودہ پانی پینے سے ہوتی ہے اس جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کا راستہ عام طور پر سانس ہو تا ہے۔

ایک مریض سے دوسرے مریض کو بیماری لگ جاتی ہے جزام جس کو عام زبان میں کوڑھ کی بیماری بھی کہا جا تا ہے اس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے جسم میں پیپ پڑ جاتی ہے اس کے ساتھ مریض کے جسم کا گوشت ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے اس کے جسم سے شدید بدبو بھی آتی ہے کوڑھ کے جراثیم سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے جو جراثیم ہوتے ہیں وہ ٹی بی کے جراثیوں سے مشابہت رکھتے ہیں جیسے کہ ٹی بی کے جراثیم ہوتے ہیں ویسے ہی کوڑھ کے جراثیم بھی ہوتے ہیں۔ جزام کے جراثیم کا انکشاف سب سے پہلے ایک سائنس دان نے کیا تھا جس کا کہنا یہ تھا کہ اس کے جو جراثیم ہوتے ہیں وہ بہت ہی خطر ناک ہوتے ہیں۔

اس کے جراثیم کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان جراثیموں میں بہت ساری بدبو بھی پھیل جاتی ہے جو کہ آس پاس کے انسانوں کے لیے بہت ہی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت ہی زیادہ نا قابلِ بردداشت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں جزام کا عالمی دن تیس جنوری کو منا یا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ جزام کی موذی مرض کی طرف مرکوز کر وانے اور اس کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ بات پھیلا نہ جزام کی بیمارے کے سلسلے میں علاج کے متعلق باتوں کا پھیلا نا ہے اور اس بات کا بھی یقین دلا نا ہے کہ یہ قابلِ علاج بیماری ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر جزام کا دن منانے کی ابتداء ہوئی ہے۔

عالمی سطح پر جزام کے مرض کے متعلق آگاہی اور اس مرض میں مبتلا مریضوں سے اظہار ِ یکجہتی کا دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ جسم پر کوئی بھی ہلکا سفیدی یا پھر سرخی دواء نمو دار ہو جس میں خارش ہو اور چھونے کا احساس نہ ہو پھر یہ ہفتوں تک یہ دھبہ ختم نہ ہو دوائی یا مرہم اس پر اثر انداز نہ ہو۔ بازوؤں اور ٹانگوں کی نسوں میں درد کا احساس ہو تو فوری اپنے قریبی ہسپتال سے اس بیماری کے متعلق معلو مات کر یں تا کہ مرض پر فوری قابو پا یا جا سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *