”اللہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق کون؟“

واللہ فی عون العبد ماکان العبد فی عون اخیہ ، کس قدر پیارے یہ الفاظ ہیں کس قدر عمدہ تعلیمات ہیں اور جامع الفاظ کے اندر اور دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کے کام میں لگاہوتا ہے آپ اپنے بھائی کے کام میں لگے ہیں آپ وقت لگا رہے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کے کام میں لگ جائے گا آپ کی ضرورتیں پوری کرے گا اب یہ اونچا درجہ دیکھئے خدمت خلق کے کسی بھائی کی مدد ہے اس میں وقت بھی لگ رہا ہے کوئی ایسا شخص ہے جو مظلوم ہے اور وہ آپ سے آکر کہتا ہے کہ صاحب فلاں حاکم کے پاس جا کر بتائیے میری بات وہ میری باتوں کو سن نہیں رہا ہے تو اگر اس کی بات حق ہے اور آپ جاکر شفاعت کرتے ہیں اس کی سفارش کرتے ہیں یہ شفاعت حسنہ کہلاتی ہے اس میں بڑا اجرو ثواب ہے اب آپ جائیں گے اس کے ساتھ اور جا کر اپنا وقت لگائیں گے تو ظاہر بات ہے کہ اس پر آپ اس کی مدد میں جارہے ہیں

اب اتنے عرصے تک آپ کے سارے کام اللہ سنبھال لے گا جیسا کہ ایک واقعہ آتا ہے بہت مشہور مکے میں ایک شخص آیا کوئی تاجر تھا ابو جہل نے اس سے کچھ مال وال خریدا پیسے نہیں دیئے اب وہ بیچارہ فریاد کرتا پھر رہا ہے تووہ آیا ایک جگہ پر سردار بیٹھے ہوئے تھے بہت سے ان کے پاس گیا فریاد کی کہ دیکھیں ابو جہل میری رقم نہیں دے رہا انہیں شرارت سوجھی کہ دیکھیں تماشا دیکھتے ہیں اس نے کہا وہ شخص جو وہاں پر نماز پڑھ رہا ہے اس کے پاس جاؤ وہ تمہارا مال دلوا سکتا ہے وہ حضور ﷺ تھے اب حضور ﷺ کا تو کٹر دشمن ہے ابو جہل اس نے جا کر اپنی بات کی حضورﷺ چل پڑے ابو جہل کے دروازے پر جا کر دستک دی وہ باہر آیا فرمایا اس کا مال ادا کردو وہ فورا گیا خاموشی کے ساتھ آکر مال دے دیا تو یہ رعب تو اللہ تعالیٰ نے عطافرمایا تھا حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ نے میری مدد کی ہے رعب کے ساتھ اب ظاہر بات ہے کہ آپ کے چہرہ مبارک پر جو بھی رعب پڑا ہے

اس پر اس نے چوں بھی نہیں کیا لا کر دے دیا ایک بندے کی مدد کے لئے آپ اس کے ساتھ چلیں اور اس کے پاس جا رہے ہیں کہ جو آپ کا دشمن ہے تا کہ مظلوم کی داد رسی ہوجائے ۔اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *