”سورہ بقرہ سے جنات کو بھگانے کا عمل“

ہمارے مدرسے میں جنات بچوں کو تنگ کرتے اور پتھر مارتے تو قاری صاحب نے فرمایا تو ایک رات مدرسہ میں پہرہ دے۔ میں نے رات بارہ بجے تک پہرہ دیا دوران پہرہ سورہ بقرہ کی تلاوت کرتا رہا اس کے بعد جنات نے مدرسہ میں کوئی شرارت نہیں کی حدیث شریف کا مفہوم ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سورہ بقرہ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت ہے اور اہل باطل اس پر قابو نہیں پاسکتے۔ قرطبی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ اہل باطل سے مراد جادوگر ہیں یعنی اس کے پڑھنے والے پر کسی قسم کا جادو نہ چلے گا۔ (قرطبی ازمسلم) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ (ابن کثیر) عاملین کے تجربات ہماری بستی کے شمال میں بگوائی شمالی میں ایک شخص کے گھر میں جنات نے ڈیرہ ڈال لیا۔ کسی بھی عامل کے دم سے وہ جنات نہیں جاتے تھے۔

آخر کار صوفی محمدامین مرحوم خوشاب (سرگودھا) والے تشریف لائے تو جنات چلے گئے جب صوفی صاحب گھر روانہ ہوئے تو جنات دوبارہ آگئے۔ اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔ صوفی صاحب نے فرمایا کہ آپ سورہ بقرہ چالیس روز گھر میں پڑھیں اور پانی پر دم کرکے رات کو گھر کا حصار کریں لیکن ناپاک جگہ پر پانی مت ڈالیں صرف پھونک ماریں۔ دس بارہ روز کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ اس گھر میں جادو اور جنات کا اثر کبھی نہیں تھا۔ صوفی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے فرمایا چالیس روز پورے کریں پھر ہمیشہ کیلئے جنات سے نجات مل جائے گی۔ پہاڑ پور کے مغرب میں ایک شخص کی زمین میں بہت پرانے پیلو کے درخت تھے جہاں جنات رہتے تھے مالک زمین جس شخص کے ہاں درخت بیچتا وہ گھبرا کو درختوں کو کاٹنا چھوڑ دیتا اور مالک بھی پریشان تھا کہ میری زمین بیکار پڑی ہے۔ آخر کار جامعہ صدیقیہ جو کہ پہاڑپور کی مشہور دینی درسگاہ ہے کو لکڑیاں ہدیہ کردیں تو مدرسہ والوں کو فقیرابراہیم ڈہروی جو کہ مشہورو معروف عامل عبدالقیوم نعمانی کراچی والے کے شاگرد ہیں نے بتایا کہ سورہ بقرہ وہاں جاکر پڑھیں اور درختوں پر سب سے پہلے کلہاڑا وہ آدمی چلائے

جس نے سورہ بقرہ پڑھی ہو اس ترکیب پر عمل کرنے کے بعد مدرسہ والوں نے درخت کاٹے جنات نے طلباءکو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی اور انہوں نے قیمتی لکڑی بیچ ڈالی باقی لکڑی کو چھ مہینے تک بطور ایندھن استعمال کرتے رہے۔ مجھے ایک قاری صاحب نے بتایا جو کہ متقی پرہیز گار آدمی ہے کہتے ہیں ہمارے مدرسے میں جنات بچوں کو تنگ کرتے اور پتھر مارتے تو قاری صاحب نے فرمایا تو ایک رات مدرسہ میں پہرہ دے۔ میں نے رات بارہ بجے تک پہرہ دیا دوران پہرہ سورہ بقرہ کی تلاوت کرتا رہا اس کے بعد جنات نے مدرسہ میں کوئی شرارت نہیں کی۔نوٹ: اس سے ملتے جلتے کئی واقعات ہیں جن لوگوں کے گھرجنات بچوں کو تکلیف پہنچاتے اور چوری کرتے تھے تو سورئہ بقرہ کی تلاوت سے حالات درست ہوگئے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *